| 82237 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیا اس قتل کی وجہ سے دیت واجب ہوئی ہے؟ اگر دیت واجب ہوئی ہے تو وہ دیت کس پر واجب ہوئی ہے؟ "ولی الرحمان" کے خاندان پر یا پھر " عبد الرب " کے خاندان پر ؟مزید یہ کہاگر دیت واجب ہوئی ہے تو اس دیت کی مقدار کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قتل عمد میں قصاص ہوتاہے،مقتول کے ورثہ صلح کرناچاہیں توصلح بھی کرسکتے ہیں ، صلح کرنے کی صورت میں فریقین مال کی جتنی مقدار پرراضی ہوجائیں اتنی ہی مقدارقاتل پرمقتول کے ورثہ کودینی لازم ہوتی ہے ،قتل عمد سے صلح کی صورت میں شریعت نے کوئی متعین مقداردیت کی مقررنہیں کی ،بلکہ اس کوفریقین کی رضامندی پرچھوڑدیا،لہذا مذکورہ صورت میں اگرقاتل اپنے اس عمل پرنادم اورشرمندہ ہے اورورثہ صلح میں مال لینے پرراضی ہیں توباہمی رضامندی سے کوئی بھی مقدار طے کی جاسکتی ہے۔
اصل قاتل ولی الرحمن ہے تو صلح میں طے پانے والی رقم بھی ولی الرحمن پرلازم ہوگی۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 23 / ص 291(:
( و ) صح ( في ) الجناية ( العمد ) مطلقا ولو في نفس مع إقرار ( بأكثر من الدية والأرش ) أو بأقل لعدم الربا ، وفي الخطأ كذلك لا تصح الزيادة لأن الدية في الخطأ مقدرة حتى لو صالح بغير مقاديرها صح كيفما كان۔
وفی الفتاوى الهندية (ج 46 / ص 411):
وكل عمد سقط القصاص فيه بشبهة فالدية في مال القاتل ، وكل أرش وجب بالصلح فهو في مال القاتل غير أن الأول في ثلاث سنين والثاني يجب حالا كذا في الهداية .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۵/جمادی الثانی ۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


