| 82865 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
اگر میں اپنے بھائیوں کے پیسوں اور ویزے سے دوبئ گیا تو میں اپنی بیوی کو تین طلاق کیساتھ رکھوں گا" کے جواب میں ایک مستند دارالافتاء سے جواب منقول ہوا کہ ان الفاظ سے اس کی بیوی تین طلاق کیساتھ مغلظہ ہوگئ اس کے برخلاف دوسرے دارالافتاء نے مؤخر الذکر جملہ مستقبل میں ہونے کی وجہ سے عدم وقوع طلاق کا قول کیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ ان ہردو فتاوی میں کس کا قول معتبر مانا جائے ، براہ کرم جواب عنایت فرمائیں؟ بینوا توجروا
الجواب باسم ملہم الصواب
دونوں متعارض فتاوی کو بغور و خوض دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ مسئولہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ،کیونکہ اس میں طلاق کے الفاظ استقبال کے صیغہ میں ہے اور مستقبل کے صیغہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ، چنانچہ بالفاظ دیگر اسے دھمکی کہا جاتا ھے۔ فقط واللہ اعلم باالصواب
وفی الدرالمختار319/3:
بخلاف قولہ طلقی نفسک فقالت انا طالق أو انا اطلق نفسی لم یقع لانہ وعد جوہرۃ ۔
و فی الشامی: وعبارۃ الجوہرۃ وان قال طلقی نفسک فقالت انا اطلق لم یقع قیاسا و استحسانا الخ
وفیہ ایضا: وکذا المضارع اذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر آلخ
کتبہ حذیفہ انور
رفیق دارالافتاء جامعہ ام القری گلی باغ مردان
التاریخ 29 ۔6 ۔2022
الجواب صحیح
روح اللہ کشمیری عفااللہ عنہ
آپ سے یہ معلوم کرناہے کہ کیایہ فتوی درست ہے؟
تنقیح:واضح رہے کہ پشتو میں شوہر نے یہ الفاظ کہے تھے کہ"کہ زہ دہ خپلو رونڑو پہ ویزہ یا پیسو دبئی تہ لاڑم نو زہ بہ دا خزہ پہ دری کانڑی طلاقہ ساتم"۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں شوہر نے جن الفاظ سے تعلیق کی ہے اس میں جزاء میں مذکور الفاظ حال کا معنی دیتے ہیں،ان میں مستقبل کا معنی تعلیق کی وجہ سے آیا ہے،کیونکہ "إِنْ"شرطیہ اپنے مابعد افعال کو مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے،اگرچہ ماضی پر ہی کیوں داخل نہ ہو،اس لئے مذکورہ صورت میں شرط پائے جانے کی صورت میں اس شخص کی بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی،جس کے بعد ان دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں رہے گا۔("فتاوی عثمانی":392/2،"فتاوی دارالعلوم دیوبند":45/10"،فتاوی رحیمیہ":307/8)
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 355):
"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا".
"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ": (ج 3 / ص 285) :
"( فإن وجد الشرط فيه ) أي في الملك بأن كان النكاح قائما أو كان في العدة (انحلت اليمين ووقع الطلاق ".
"رد المحتار" (3/ 248):
"(قوله: وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. قلت: ومنه في عرف زماننا: تكوني طالقا، ومنه: خذي طلاقك فقالت أخذت، فقد صرح الوقوع به بلا اشتراط نية كما في الفتح، وكذا لا يشترط قولها أخذت كما في البحر".
"منحة الخالق " (3/ 271):
" (قوله: إلا إذا غلب استعماله في الحال) قال الرملي: يستفاد منه الوقوع بقوله تكوني طالقا أو تكون طالقا إذ هو الغالب في كلام أهل بلادنا تأمل اهـ.
وقال في النهر، وفي الصيرفية: لو كان جوابا لسؤالها الطلاق وقع عند مشايخ سمرقند كأنه لأن سؤالها إياه قرينة معينة للحال".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
20/رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


