03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹرک دے کر پہلے قیمت پوری کرانا اور پھر نصف میں شریک کرنا
86812شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

مجھے کسی دوسرے شخص نے ایک ٹرک خرید کر دیا ہے اور کہا کہ آپ اسے چلاتے رہیں، پہلے اس ٹرک کی قیمت پوری کرکے دے دیں، اس کے بعد ہم آپس میں برابر کے شریک رہیں گے۔ تو کیا اس طرح کا معاملہ کرنا شریعت میں جائز ہے یا ناجائز؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں ٹرک مالک نے ٹرک خرید کر آپ کو دے کر جو معاملہ آپ کے ساتھ کیا ہے، وہ شرعاً درست نہیں ہے، لہٰذا اسے ختم کرکے درج ذیل میں سے کوئی صورت اختیار کی جا سکتی ہے:

1۔ مالک آپ کو یہ ٹرک یومیہ یا ماہانہ بنیاد پر (یا جو بھی باہمی رضامندی سے طے ہو) کرایہ پر دے دے۔ جو کرایہ طے ہو، وہ آپ معاہدے کے مطابق ادا کرتے رہیں، اور باقی ٹرک چلا کر جو آمدنی حاصل ہوگی، وہ آپ کی ہوگی۔

2۔ مالک آپ کو ٹرک چلانے کے لیے کرایہ پر رکھ لے اور آپ کو یومیہ یا ماہانہ بنیاد پر اجرت طے کر کے دیتا رہے، اور ٹرک چلا کر جو نفع حاصل ہوگا، وہ مالک کا ہوگا۔ باقی، چاہے پہلی صورت ہو یا دوسری صورت، بہرحال ٹرک مالک کا ہی رہے گا۔

3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ٹرک کا مالک آدھا حصہ آپ کو فروخت کر دے، اورپھرپیسے معاف کردے تواس طرح دونوں کے درمیان وہ ٹرک مشترک ہوجائے گا اورجو آمدنی ہوگی، وہ آدھی آدھی دونوں میں تقسیم ہوگی۔ ٹرک آخر تک دونوں کی آدھا آدھا ملکیت میں رہے گااوراخراجات بھی نصف نصف ہونگے۔ بعد میں، جب چاہیں، ایک شریک اپنا حصہ دوسرے شریک کو فروخت کر سکتا ہے۔فروخت سے پہلے مالک اپناحصہ چلانے کی آپ کوکچھ اجرت بھی دیتارہے۔

حوالہ جات

وفی الفتاوی الھندیة :

"دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة.

"البيع: في اللغة مطلق المبادلة، وفي الشرع: مبادلة المال المتقوم بالمال المتقوم، تمليكًا وتملكًا.")التعریفات، ص:48، ط:دار الكتب العلمية بيروت(

وفی الھندیة:

 (أما تفسيرها شرعا) فهي عقد على المنافع بعوض، كذا في الهداية. (وأما) (ركنها) فالإيجاب  والقبول

بالألفاظ الموضوعة في عقد الإجارة."(کتاب الاجارۃ، ج:4، ص:409، ط: دار الفکر)

ومن شرائط الإجارة....... ............ومنها ‌أن ‌تكون ‌الأجرة ‌معلومة. (الفتاوى العالمكيرية: 4/411)

وفی الفتاوی الھندیة :

"دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة ... والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما."(کتاب الاجارۃ الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز من الاجارۃ ومالا یجوز،ج:4،ص:445،دارالفکر)

قال العلامة السرخسي رحمه الله تعالىبخلاف الزوائد فإنها تتولد من الملك ‌فإنما ‌تتولد ‌بقدر ‌الملك. (المبسوط : 15/ 6)

وقال العلامة الكاساني رحمه الله تعالىولا ‌خلاف ‌في شركة الملك أن الزيادة فيها تكون على قدر المال،  حتى لو شرط الشريكان في ملك ماشية لأحدهما فضلا من أولادها ‌وألبانها، لم تجز بالإجماع. (بدائع الصنائع : 6/ 62)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

7/8/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب