03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رات کےوقت یا پرندوں کے انڈے دینے کے موسم میں شکار کرنا
83056جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہمارےعلاقےمیں تیتر کا شکار رات کو کیا جاتا ہے، کیونکہ دن کو اس کا شکار ممکن نہیں ہوتا۔ جب وہ رات کو درختوں پر بیٹھ کر آرام کرتا ہے تو پھر اس کا شکار کرتے ہیں،بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس طرح رات کو شکار کرنا   ناجائز و ظلم  ہے، کیونکہ وہ سوئے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے وہ بد دعا کرتے ہیں،  یہ بھی کہتے ہیں کہ پرندوں کے بچوں کا موسم  ہو تو انہیں شکار کرنا گناہ  ہے، کیونکہ بچے اس طرح  بھوکے مر جاتے ہیں یا کوئی دوسری چیز ان کو کھا جاتی ہے، کیا یہ دونوں باتیں شرعی لحاظ سےدرست ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مباح مقصد(مثلاً کھانے،پالنے یا کسی جانور کے ضرر سے نجات حاصل کرنے) کے لئے کسی بھی موسم میں دن یا رات کسی بھی وقت شکار کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں،البتہ بغیر کسی مقصد کے محض کھیل تماشے کے طور پر شکار کرنے سے گریز بہتر ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 474):

"(وحل اصطياد ما يؤكل لحمه وما لا يؤكل) لحمه لمنفعة جلده أو شعره أو ريشه أو لدفع شره، وكله مشروع لإطلاق النص".

"الدر المختار " (6/ 461):

"كتاب الصيد لعل مناسبته أن كلا منهما مما يورث السرور (هو مباح) بخمسة عشر شرطا مبسوطة في العناية، وسنقرره في أثناء المسائل (إلا) لمحرم في غير الحرم أو (للتلهي) كما هو ظاهر (أو حرفة) على ما في الأشباه. قال المصنف: وإنما زدته تبعا له، وإلا فالتحقيق عندي إباحة اتخاذه حرفة لأنه نوع من الاكتساب، وكل أنواع الكسب في الإباحة سواء على المذهب الصحيح كما في البزازية وغيرها".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" وفي التتارخانية :قال أبو يوسف: إذا طلب الصيد لهوا ولعبا فلا خير فيه وأكرهه، وإن طلب منه ما يحتاج إليه من بيع أو إدام أو حاجة أخرى فلا بأس به اهـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

26/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب