03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادارے سے بغیر اجازت کھانا لے جانے کا حکم
83074جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر جامعہ سے روٹی باہر کھانے کے لیے لے جاتاہوں اور جامعہ والے منع بھی کرتے ہیں۔یہ جائز ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو کیا جو روٹی اب تک کھائی ہے اس کی قیمت صدقہ کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی ادارےمیں رہنےوالےافرادکےلیے،ادارےکی جانب سےمقررکردہ تمام ترجائز قوانین پرعمل کرناشرعاً واجب (لازم )ہے۔اگرادارےکی جانب سے یہ پابندی ہےکہ کھانامطعم میں ہی بیٹھ کرکھائے،نگران کی اجازت کےبغیرکھاناباہرنہ لےکرجائے،توشرعاًکسی طالب علم کے لیےجائزنہیں کہ وہ روٹی یاسالن مطعم سےباہرلے جاکرکھائے،البتہ اگرنگران کی طرف سےکسی عذر کی بنیادپراجازت ہوتومطعم سےباہرکھانالےکرجاناجائز ہے،اگر آپ کے پاس وسعت ہے،رقم جمع کرواسکتے ہیں تو ادارے میں تلافی کے طور پر رقم جمع کروادیں ،ورنہ منتظم کے پاس جاکر اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معافی کی درخواست کی جائے۔

حوالہ جات

التفسير المظهري (2/ 152):

ياأيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم فإن تنازعتم في شيء فردوه إلى الله والرسول إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر ذلك خير وأحسن تأويلا (59)

(مسئلة) وهذا الحكم يعنى وجوب إطاعة الأمير مختص بما لم يخالف امره الشرع يدل عليه سياق الآية فان الله تعالى امر الناس بطاعة اولى الأمر بعد ما أمرهم بالعدل فى الحكم تنبيها على ان طاعتهم واجبة ما داموا على العدل ونصّ على ذلك فيما بعد فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ، الاية قال بعض الأفاضل صيغة اولى الأمر يفيد ان متابعتهم واجبة فيما ولوه من الأمر وجعلهم الله تعالى واليا فيه وانما هو العدل فى الحكم ولو جعلت الأمر على الإيجاب لكان أشدّ دلالة على ذلك فان وجوب طاعتهم فيما كان لهم على الناس إيجابه فان قال الأمير أعط فلانا من مالك الفا لا يجب عليك اطاعته

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

30/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب