03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فورٹنائٹ (Fortnite) نامی گیم کے ویڈیو گیمنگ چینل  اور اس کی کمائی کاحکم
84790جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

میں نےفورٹنائٹ (Fortnite) نامی گیم کا ایک ویڈیو گیمنگ چینل بنایا ، جو صرف ایک شوٹنگ گیم ہے، اور اس  میں کوئی میوزک یا فحش تصاویربھی  نہیں ہیں، اس سے میں تشہیر/advertisement کے ذریعے کمائی حاصل کرتا ہوں، کیا اس یو ٹیوب چینل سے اشتہارات  کے ذریعےحاصل ہونے والی  کمائی حلال ہے؟                                                                                                

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعتِ مطہرہ  میں  اپنی محنت کے ذریعےحلال و پاکیزہ کمائی  کی ترغیب دی گئی اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل ذریعۂِ معاش قراردیا گیا ،جبکہ محنت کے بغیرناجائزطریقوں اور بے مقصد چیزوں سے  مال و دولت حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی اور ان سے منع کیا گیا ہے،اس لیےاگر ویڈیو گیمنگ چینل کا  کوئی  خاص فائدہ نہ ہو،بلکہ یہ لوگوں کے وقت کا ضیاع ،بچوں اور نوجوانوں کے گیموں میں بے حد انہماک، اوران کی  اخلاقی، ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہونے کا سبب و ذریعہ ہو،جبکہ عموما ویڈیو گیم ایسے ہی ہوتے ہیں،تو  ذریعۂِ معاش کے طور پر ایسا گیمنگ چینل بناناجائز نہیں ہے،اور اس سے اجتناب لازم ہے۔

البتہ ویڈیو گیموں کاایسا  چینل جوکھیل یا گیم کے شرعی طور پر جائز ہونےکی شرائط کے عین مطابق ہو،اورمذکورہ بالا خرابیوں سےبھی  پاک ہو،توجاندار کی  ڈیجیٹل تصویر میں جواز کی رائے کے مطابق اس کی اباحت کے درجے میں  اجازت اور گنجائش ہے، نیز اس رائے کے مطابق بھی گیمنگ ویڈیوز میں نامحرم لڑکیوں،نیم برہنہ اور دوسری فحش قسم کی تصاویر سے احترازلازم ہے،تاہم احتیاط بہرحال اس کے مخالف عدمِ جواز والی رائے ہی  پرعمل کرنے میں ہے۔  (تبویب  :61465)

باقی کھیل کےشرعی طور جائز ہونے کی شرائط  درج ذیل ہیں:

1-وہ کھیل/گیم بذاتِ خود جائز ہو،اوراس میں غیر شرعی امور و غیر اخلاقی حرکات کا ارتکاب نہ ہو۔

2-اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو،اور وہ بے مقصد ،محض لہو لعب اور  وقت گزاری کے لیے نہ ہو۔

3- کھیل یا گیم  میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ اس  سے شرعی فرائض و حقوق میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

مذکورہ بالا تفصیل کے تحت جو چینل بنانا جائز ہو، اس پر چلنے والے اشتہارات کی کمائی کا حکم یہ ہے کہ ان اشتہارات کے  لگانے کا عمل گوگل ایڈ سینس کے ذریعے ہوتا ہے، کیونکہ گوگل،چینل کے  مالک سے اس کے چینل پراشتہارات لگانے کے لیےجگہ اجارے پر لیتا ہے،اوروہ تحریری و تصویری اشتہارات اور ویڈیو کلپ کے ذریعے کما ئی کر کے چینل کے مالک کو اجرت ادا کرتا ہے، لہٰذا ایسےیوٹیوب ویڈیو گیمنگ چینل پر تحریری و تصویری اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدن درج ذیل  تین شرائط کے ساتھ جائز ہو گی:

1-جس چیز یا کاروبار کا اشتہار ہے وہ  جائز ہو، لہٰذا ان کیٹگریز کو فلٹر کر دیا جائے جو شرعاً جائز نہیں ہیں۔

2-گوگل ایڈسینس، یوٹیوب اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے، اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔

3- کسی جائز پراڈکٹ کے اشتہار میں اگر گوگل کی طرف سے کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر وغیرہ شامل کر دی جائے، جبکہ اس میں چینل کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہوگا، لہٰذا اگر کیٹگریز فلٹر کرنے کے باوجود بھی کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو، یا ناجائز موادپرمشتمل ہوتو اس کا گناہ چینل کے مالک کو نہیں ہوگا،البتہ ایڈ ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔

جبکہ ویڈیو کلپ یا اشتہارات میں ان تین شرائط کے علاوہ ایک اور شرط بھی ہے،وہ یہ کہ ان میں بیک گراؤنڈ میوزک چونکہ تکنیکی لحاظ سے ویڈیو سے الگ چیز ہے، جسے ویڈیو میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے ساتھ لگایا جاتا ہے، اور  چینل کا مالک، گوگل ایڈسینس کو بیک گراؤنڈ میوزک لگانے کے بجائےصرف ویڈیو لگانے کے لیے اپنے چینل پر جگہ بطورِ اجارہ  دیتا ہے ، لہٰذا اگر اشتہار کا مواد اور بنیادی کاروبار جائز ہو، مگر اس کے بیک گراؤنڈ میں میوزک ہو تو  مالک پر لازم ہے کہ اولاً  بذریعہ ای میل یا  کسی اور طریقے سے صراحتاً  گوگل کو میوزک لگانے  سے منع کرے،اگر گوگل میوزک نہ ہٹائےتو مالک اپنے چینل اور ویڈیوز میں یہ تحریرکر دے کہ اشتہار کی آواز بند کر دی جائے، اس کے باوجود  بھی اگر کوئی شخص یہ آواز بند نہیں کرتا تو اس کا گناہ مالک کو نہ ہوگا ،اور اس کی آمدن جائز ہو گی ۔

 ان تمام شرائط کا لحاظ کرنے کے باوجودبھی چونکہ درمیان میں بعض اوقات بطورِ ایڈزکے ایسے اشتہارات آ جاتے ہیں،جو نامحرم کی تصاویر اور میوزک وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں،اس لیےان اشتہارات سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، جبکہ گوگل،مہینے کے آخر میں چینل کے مالک کو یہ اختیاربھی  دیتا ہے کہ آئندہ  وہ کس قسم کے اشتہارات اپنے چینل پرچلانایا انہیں بلاک کرنا  چاہتا ہے۔(ازتبویب بتغییر یسیر:73970)

حوالہ جات

التفسير المنير للزحيلي (21/ 134):

ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم ويتخذها هزوا أولئك لهم عذاب مهين (لقمان:6)،استدل ابن مسعود وابن عباس وغيرهمارضی اللہ تعالیٰ عنھم  بقوله:" لهو الحديث" على منع استماع المزامير والغناء بالألحان وآلات الطرب.

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (5/ 171):

قال الله تعالى :"قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم ويحفظوا فروجهم "،قال أبو بكر: معقول من ظاهره أنه أمر بغض البصر عما حرم علينا النظر إليه فحذف ذكر ذلك اكتفاء بعلم المخاطبين بالمراد،وقد روى محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن سلمة بن أبي الطفيل عن علي رضی اللہ تعالیٰ عنھم  قال: قال رسول الله ﷺ: يا علي! إن لك كنزا في الجنة وإنك ذو وفر منها، فلا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الثانية.

تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا، (4/435) ط:  دارالعلوم کراتشی:

فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام او مكروه تحريماً . . . وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة و مصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهومكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه . . . و علي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه 

الفتاوى الهندية (4/ 450):

وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:6/ 392):

(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي...(قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبته عنه.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

28  /صفر/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب