| 83670 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
خلاصۂ سوال:
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، ہماری کمپنی کا پیمنٹ گیٹ وے (Payment Gateway) کے نام سے ایک ایپلی کیشن ہے، اس میں مختلف لوگ اپنا اکاؤنٹ کھولتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے معاملات کرتے ہیں۔ کمپنی اس ایپلی کیشن کے ذریعے مندرجہ ذیل چھ طریقوں سے پیسے کماتی ہے:-
(1)۔۔۔ جب کوئی دکان دار ہماری ایپلی کیشن میں اکاؤنٹ کھولتا ہے تو وہ کمپنی کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے ڈالتا ہے، کمپنی اس میں سے اپنا متعین فیصدی کمیشن رکھ لیتی ہے، جبکہ باقی رقم اس کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتی ہے۔ اسی طرح وہ جب جب اپنے اکاؤنٹ میں پیسے ڈلوانا چاہتا ہے،کمپنی اس سے اپنا متعین فیصدی کمیشن وصول کرتی ہے۔
(2)۔۔۔ جب کوئی کسٹمر بل کی رقم جمع کروانے کے لیے کسی دکان دار کے پاس آتا ہے اور دکان دار ہماری ایپلی کیشن سے بل جمع کرتا ہے تو دکان دار کسٹمر سے جو سروس چارجز لیتا ہے، اس میں سے کچھ دکان دار رکھتا ہے، جبکہ کچھ ہماری کمپنی کو ملتا ہے۔
(3)۔۔۔ جب کسٹمر کسی دکان دار کے ذریعے اپنے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرواتا ہے تو ہم اس ٹرانزیکشن پر بھی متعین کمیشن وصول کرتے ہیں۔
(4)۔۔۔ جو آن لائن شاپنگ ویب سائٹس ہماری پیمنٹ گیٹ وے استعمال کرتی ہیں، ہم ان کی ویب سائٹس پر یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ کسٹمر ٹرانزیکشن کرتے ہوئے صرف اپنے بینک کا نام اور موبائل نمبر لکھے تو وہ ان ویب سائٹس کے مقابلے میں آسانی کے ساتھ ٹرانزیکشن مکمل کر سکتا ہے جن میں ہماری پیمنٹ گیٹ وے کی سہولت موجود نہ ہو، ان ویب سائٹس پر کسٹمر کو ٹرانزیکشن کرتے وقت کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے کسٹمر کو بھی فایدہ ہوتا ہے اور ویب سائٹس کی سیل میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس سیل کے پیسے ہمارے اکاؤنٹ میں آتے ہیں، اس میں سے ہم اس سروس کا متعین کمیشن وصول کرتے ہیں اور بقیہ رقم ان کو متعین وقت پر دیدیتے ہیں، ان کو رقم فورا نہیں دیتے،
دو یا تین بعد دیتے ہیں جو پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔
(5)۔۔۔ ہم کچھ آن لائن شاپنگ اسٹورز کے پیسے ان کے کہنے پر ان کے سپلائرزکو پہنچا دیتے ہیں، یہ پیسے انہی کے ہوتے ہیں۔ اس پر ہم اپنا کچھ متعین فیصد کمیشن وصول کرتے ہیں۔ اس عمل سے شاپنگ اسٹور والوں کو یہ فایدہ ہوتا ہے کہ وہ ٹرانزیکشن فیس اور ٹیکسز سے بچ جاتے ہیں۔
(6)۔۔۔ ہماری کمپنی ٹیلی کام کمپنی سے زیادہ مقدار میں ایزی لوڈ کے لیے بیلنس خریدتی ہے جس میں وہ کچھ ڈسکاؤنٹ دیتی ہے، اس کے ذریعے ہماری کمپنی کو نفع حاصل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہماری کمپنی یوفون کمپنی کو دو لاکھ روپے دے تو یوفون ہمیں دو لاکھ تیس ہزار روپے کا بیلنس دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان میں کون کون سی صورتیں جائز ہیں اور کون کون سی ناجائز ؟ اگر ان میں سے کچھ ناجائز ہیں تو میرے لیے اس کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ میں کمپنی کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا ہوں اور سسٹم کے اندر ریکارڈنگ اور اکاؤنٹنگ سے متعلق معاملات کو دیکھتا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق آپ کی کمپنی پہلی پانچ صورتوں میں دکان داروں اور آن لائن شاپنگ اسٹورز کو ایپلی کیشن کے ذریعے مختلف جائز خدمات (Services) فراہم کرتی ہے اور اس کے بدلے متعین اجرت (Commission) وصول کرتی ہے، جبکہ چھٹی صورت میں ایزی لوڈ سروس حاصل کر کے آگے لوگوں کو فراہم کرتی ہے اور اس پر نفع کماتی ہے، چونکہ یہ دونوں کام (جائز خدمات پر متعین کمیشن لینا اور ایزی لوڈ پر نفع لینا) جائز ہیں، اس لیے مذکورہ تمام صورتیں جائز ہیں، آپ کے لیے اس کمپنی میں ملازمت کرنا درست ہے۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/ شوال المکرم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


