03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک بھتیجے کوزندگی میں ملکیت کے طور پر دی جانے والی جائیداد میں مورث کے ورثہ کا دعوی میراث
83751ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

        کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک شخص رمضان نامی کا انتقال ہوا،اس کی نہ بیٹی ہےاور نہ بیٹا،ورثہ میں دو بیویاں، چارحقیقی بھائی اوردو حقیقی بہنیں زندہ ہیں،اس نے بھائی کا بیٹا لیکرپالااوربڑا کیاتھا،جو اب بھی اس کے ساتھ ہےیعنی اس کے گھرمیں رہتا ہے،رمضان نےاس کی شادی بھی کروائی تھی اوراس کے بچے بھی ہیں ۔حالتِ صحت میں رمضان نے یہ وصیت کی تھی کہ "میں نےاپنا منقولہ اورغیر منقولہ تمام جائیدداپنے بھتیجے کو بخش دی ہے" اوبھتیجے کو زندگی میں اس پر قابض بھی کرادیاتھا،زمین کا قبضہ بھی بھتیجے کے پاس ہے،البتہ اس کے پاس عدالتی یا حکومتی اسٹام پیپروغیرہ نہیں ہے۔منقولہ اورغیر منقولہ جائیداد تقریباً ایک کروڑاورچالیس لاکھ کی بنتی ہے،ورثہ مٰیں چار بھائی دو بہنیں اوردو بیویاں ہیں،پوچھنایہ ہےکہ

یہ میراث کس طرح ان میں تقسیم ہوگی ؟جبکہ بھتیجاتمام جائیداد پر قابض ہے، بھائیوں نے میراث کادعوی کیاتو بھتیجے نے انکارکیا اورکہاکہ یہ رمضان مجھے زندگی میں دی تھی،شریعت کی رو سے حقدارکون ہے؟

اگربھائی میراث چھوڑدیں تو مذکورورثہ میں میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟اوراگرمیراث بھائیوں کو ملتی ہے تو چاربھائی اوردو بہنوں میں کیسےتقسیم ہوگی،ہرایک کو کتناحصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شخصِ مذکورکو ایساکرنانہیں چاہیے تھاکہ ورثہ کو چھوڑکرساری جائیداد لے پالک بھتیجے کو دیتے،تاہم اگرواقعةً انہوں نےاپنی صحت والی زندگی میں اپنی کل منقولہ،غیرمنقولہ جائیداد اپنے لے پالک بھتیجے کو ہبہ کردی تھی  اوراپنا تصرف ختم کرکے لےپالک بھتیجے کو اس پر قبضہ اورتصرف کا حق  بھی دیدیا تھا جیسے کہ استفتاء میں درج ہے تو پھرشرعاً یہ کل جائیداد بہرحال لےپالک بھتیجے کی ملکیت ہوگئی تھی،لہذا اب رمضان کی موت کے بعد اس کے ورثہ کا اس میں کوئی حق نہیں،ان کےلیے مرحوم  کی جائیدادمیں میراث کامطالبہ کرناصحیح نہیں،کیونکہ میراث صرف اس مال میں جاری ہوتی ہے جوبوقتِ موت مرحوم کی ملکیت میں ہو اوریہ مال تو زندگی میں ہی اس کی ملکیت سے نکل  چکا  تھا۔

تاہم اگرمذکور لے پالک بھتیجے کے پاس اس ہبہ کےثبوت پر کوئی گواہ ،حکومتی تحریروغیرہ نہ ہواورورثہ اس ہبہ سے انکاری ہوں تو پھرقضاءًورثہ کا قول قسم کے ساتھ معتبرہوگا ،وہ اپنے علم کے مطابق قسم اٹھائیں گے کہ ہماری معلومات کے مطابق یہ جائیداد رمضان نےاس  بھتیجے کو نہیں دی تھی،اگروہ قسم اٹھالیتے ہیں تو یہ تمام جائیدادمرحوم کی میراث تصورہوگی اوراس کے شرعی ورثہ کےدرمیان شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگی ۔

تاہم اگرہبہ کی بات ورثہ کے علم میں ہو تو گوبھتیجے کےپاس گواہ اورکوئی تحریر اپنے دعوی کے ثبوت کے لیے نہ ہو تب بھی ورثہ کےلیے علم کے باوجودعدمِ ثبوت کا فائدہ اٹھاکربھتیجے سے میراث حاصل  کرنا دیانةً جائز نہیں ہوگا اوروہ گناہگارہونگے، اگرچہ قضاءً میراث ان کو مل جائےگی،کیونکہ قاضی ظاہر پر فیصلہ کرتاہے۔

اس صورت میں ورثہ کے حصے درج ذیل ہونگے :

پہلی زوجہ % 12.5، دوسری زوجہ % 12.5، ہربھائی %15، ہربہن% 7.5 کل % 100            

اس صورت میں اگربھائی میراث کادعوی چھوڑدیتے ہیں اوربہنیں اوربیویاں نہ چھوڑیں تومذکوربھتیجے کے پاس گواہ نہ ہونےصورت میں یہ لوگ مذکورہ طریقے پر قسم اٹھائیں گے اورثابت ہونے پر دونوں بیویاں مرحوم کی میراث کا چوتھا حصہ وصول کرکے باہم تقسیم کریں گی اورباقی میراث کو دس حصے کرکے اس میں سے دو حصےبیویاں بطور میراث وصول کریں گی اورباقی آٹھ حصے جو بھائیوں کے حصے ہیں وہ وصول نہیں کریں گی۔

اس صورت میں ورثہ کے حصے درج ذیل ہونگے :

پہلی زوجہ % 12.5، دوسری زوجہ % 12.5، ہربہن% 7.5 حاصل شدہ یہ کل حصے %40فیصد بنیں گے باقی ہربھائی کا جو %15 فیصد بنتاہے ،جس کا مجموعہ % 60 بنتاہے وہ بھائی معاف کرچکے ہیں لہذا،  وہ بہنیں وصول نہیں کریں گی۔

حوالہ جات

وفی سنن النسائي (6/ 243) :

عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى سعدا يعوده، فقال له سعد: يا رسول الله، أوصي بثلثي مالي؟ قال: «لا»، قال: فأوصي بالنصف؟ قال: «لا»، قال: فأوصي بالثلث؟ قال: «نعم، الثلث، والثلث كثير، أو كبير، إنك أن تدع ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم فقراء يتكففون»

وفی الخانیة علی الھندیة (3 / 279) :

رجل وهب في صحتہ کل المال للولد جاز في القضاء، ویکون اٰثما فیما صنع.وراجع ایضاً  الدر المختار مع الشامي  / کتاب الہبۃ ۵؍۶۹۶ کراچی)

وفی  درر الحكام شرح مجلة الاحكام (المادة 879،ج2ص433):

لووهب أحد جميع امواله في حال صحته لأحدِورثتِه وسلّمه إياها وتوفّى بعد ذالك فليس لسائر الورثة المداخلة في الهبة.

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (5 / 690):

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت.

وفی شرح المجلة لسليم رستم باز( المادة 837،ص:462):

تنعقدالهبة بالإيجاب والقبول،وتتم بالقبض الكامل ؛لأنهامن التبرعات ،والتبرع لا يتم إلا بالقبض.

وفی الفقہ الإسلامي وأدلتہ(4 / 291):

وفي الجملۃ: وإن الخلفاء الراشدین وغیرهم اتفقوا علی أن الهبۃ لا تجوز إلا مقبوضۃ محوزۃ.

وفی السنن الکبری للبیھقي:

عن ابن أبي ملیكة قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصة المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواهم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیھقي، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)

وفی جامع الفصولين (1/ 114):

لو وقع الدعوى على فعل الغير من كل وجه يحلف على العلم حتى لو ادعى على وارث أن أباك أتلفه أو سرقه أو غصبه مني يحلف على العلم وهذا مذهبنا قال "مح": هذا الأصل مستقيم أن التحليف على فعل الغير يكون على العلم إلا في الرد بالعيب يعني أن المشتري لو ادعى أنا القن سارق أو آبق وأثبت إباقه أو سرقته في يد نفسه وادعى إباقة أو سرقته في يد البائع يحلف البائع على البتات بالله ما أبق أو سرق في يدك وهذا تحليف على فعل الغير وهذا أن البائع ضمن تسليم المبيع سلمياً فالتحليف يرجع إلى ما ضمن بنفسه فيكون على البتات.وزاد البزدوي على هذا الأصل حرفاً وهو أن التحليف على فعل نفسه على البتات وعلى فعل غيره على العلم.

وفی مسند أحمد مخرجا (42/ 445):

عن أم سلمة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنكم تختصمون إلي، ولعل بعضكم ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي له بما يقول، فمن قضيت له بشیء من حق أخيه بقوله، فإنما أقطع له قطعة من النار، فلا يأخذها».

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

 6/10/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب