03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بالغ اور طالب علم بیٹے کا والد کی حرام کمائی سے ضروریات پوری کرنے کا حکم
83757جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

 میرا والد  حرام کما تا ہے ،اس کی حرام کمائی میرے لیے جائز ہے یا نا جائز ؟ میں بالغ ہوں اور مدرسے کا طالب علم ہوں،میں پڑھائی کے ساتھ کا م نہیں کر سکتا ، میں اپنے والدسے کپڑے،خرچہ اور کھانا پینا وغیرہ چاہے لوں یا نہ لوں ، جب میں مدرسے سے واپس آتا ہوں تو میں اس کے ساتھ کام کرتا ہوں ،لیکن  وہ جو  حرام کام کرتا ہے وہ میں نہیں کرتا۔ہمارا کام بھینسوں کا ہے ، میراوالددودھ میں پانی  ملا کردودھ بیچ کر کمائی کرتا ہے۔اس کمائی سے ہم خود کھانا ،پینا وغیرہ کرتے ہیں اور بھینسوں کو بھی کھلاتے ہیں ۔ اور بھی کام کرتے ہیں، میرا چھوٹا بھائی  آن لائن ذرائع سے  تھوڑاحلال کماتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 بلوغت کے بعد  کمائی پر قادر بیٹے  کا نققہ والد کےذمے لازم نہیں،   البتہ طالب علم اگر فقیر ہو اور  طلب علم میں کوتاہی نہ کرتا ہوتو  بلوغت کےبعد بھی اس کا نققہ  والد کے ذمہ  واجب ہے ۔ اگر کسی ایسے طالب علم کے والد کی کمائی حلال و حرام سے مخلوط ہواور حلا ل کمائی غالب ہوتو اس  کا  والد سے اپنی  اخراجات  وصول کرکے  تعلیم جاری رکھنا جائز ہے۔ لہذا صورت مسولہ میں آپ کا والد کے ساتھ  صرف جائز کام میں معاونت کرنا جائز ہے  ، اس طرح ان کی کمائی ہوئی  حرام   و حلال سے مخلوط رقم سے آپ کا اپنی ضروریات پوری کرنا  بھی جائز ہے۔البتہ آپ کی شرعی او ر اخلاقی ذمہ داری  بنتی ہےکہ دعوت کے شرعی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے والد صاحب کو حرام کمائی سے رکنے کی تلقین کریں اور متبادل جائز ذریعہ آمدن اختیا ر کرنے پر آمادہ  کریں۔

 واضح رہےکہ  اگر دوسرے ذرائع سے    حاصل شدہ رقم میں حرام کا عنصر شامل ہو کر اس کےساتھ مخلوط ہو اور کل ملاکر   حرام کمائی غالب  ہوتو  طالب علم کا والد سے اپنے اخراجات وصول کرنا جائز نہیں۔ اس پر لازم ہےکہ  تعلیم جاری  رکھنے کی صورت میں اپنے لیے  جائز ذرائع کا بندوبست کرے ،ورنہ تعلیم چھوڑ کر حلال روزی کمائے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 612)

(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني. وأفتى أبو حامد بعدمها لطلبة زماننا كما بسطه في القنية، ولذا قيده في الخلاصة بذي رشد...

(قوله كما بسطه في القنية) حاصله أن السلف قالوا بوجوب نفقته على الأب، لكن أفتى أبو حامد بعدمه لفساد أحوال أكثرهم، ومن كان بخلافهم نادر في هذا الزمان فلا يفرد بالحكم دفعا لحرج التمييز بين المصلح والمفسد. قال صاحب القنية: لكن بعد الفتنة العامة يعني فتنة التتار التي ذهب بها أكثر العلماء والمتعلمين نرى المشتغلين بالفقه والأدب اللذين هما قواعد الدين وأصول كلام العرب يمنعهم الاشتغال بالكسب عن التحصيل ويؤدي إلى ضياع العلم والتعطيل، فكان المختار الآن قول السلف، وهفوات البعض لا تمنع الوجوب كالأولاد والأقارب. اهـ ملخصا، وأقره في البحر.

وقال ح: وأقول الحق الذي تقبله الطباع المستقيمة ولا تنفر منه الأذواق السليمة القول بوجوبها لذي الرشد لا غيره، ولا حرج في التمييز بين المصلح والمفسد لظهور مسالك الاستقامة وتمييزه عن غيره، وبالله التوفيق

الفتاوى الهندية (5/ 342)

أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم، كذا في الاختيار شرح المختار.

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

05/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب