| 83788 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
آئزل نام رکھنا کیسا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عربی اور اردو لغت کی کتابوں میں ہمیں ’’آئزل‘‘نام یا لفظ کا معنی نہ مل سکا،لہذا ایسے مجہول المعنی نام رکھنے سے گریز کرنا چاہئیے،اگر آپ کی مراد ’’ایزل( EASEL)ہے تو اس کامعنی ہے’’تصویر وغیرہ کو سہارا دینے کے لئے تین ٹانْگوں کا لکڑی کا اسٹینڈ یا لکڑی کا ٹیکن‘‘،پھر بھی اس کا معنی نام رکھنے کے لئے درست نہیں ہے،لہذا ایسے نام نہیں رکھنا چاہیئے بلکہ والدین پر بچوں کا حق ہے کہ وہ ان کے اچھے اور بامعنی والے نام رکھیں،حدیث شریف میں بچوں کے اچھے نام رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور ایسے نام جن کے معنی خراب یا برائی کی طرف اشارہ کریں رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے، لہذا کسی نام کا معنیٰ خراب ہو، یامہمل لفظ ہو، یا برائی کی طرف مشیر ہو تو اسے تبدیل کر دینا چاہیئے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (8/ 43):
6193 - حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام، أن ابن جريج، أخبرهم قال: أخبرني عبد الحميد بن جبير بن شيبة، قال: جلست إلى سعيد بن المسيب، فحدثني: أن جده حزنا قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «ما اسمك» قال: اسمي حزن، قال: «بل أنت سهل» قال: ما أنا بمغير اسما سمانيه أبي قال ابن المسيب: «فما زالت فينا الحزونة بعد».
شعب الإيمان (11/ 137):
8299 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، أنا أحمد بن عبيد، نا إسحاق بن الحسن الحربي، نا مسلم بن إبراهيم، نا شداد بن سعيد عن الجريري، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد، وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه ".
عبدالعلی
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
06/ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


