03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صرف قاری امام کوہٹا کر قاری اور عالم امام کو تعینات کرنے کا حکم
83970نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

  ہماری مسجد اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع ہے، اپنی مدد آپ کے تحت  تعمیر ہوئی اور مسجد کمیٹی کے زیر نگرانی امور انجام پار ہے ، ایک کمی  بڑے عرصے  سے محسوس کی جارہی تھی اورو ہ تھی  ایک قابل اور معیاری عالم دین کی ،جواسی طرح اس طریقہ پر جس طریقہ پر انتظامی امور انجام دیئے  جارہے ہیں، دینی امور بھی انجام دے سکے۔ کم و بیش پچھلی ڈیڑھ دو دہائیوں سے موجودہ امام صاحب مسجد کمیٹی کی طرف سے تعینات ہے  ۔ امام صاحب اچھے  ، خوش اخلاق ،حافظ قرآن اور  قاری ہے،   ذاتی حیثیت میں بطور امام کسی کو بھی ان سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی، لیکن عالم دین نہیں ہے۔ اس نقطے پر گا ہےبہ گا ہے کچھ نمازیوں کی طرف سے توجہ مبذول کرائی جاتی رہی، مگر کمیٹی کی طرف سے کبھی بھی کوئی سنجید و عملی اقدام نہ ہوا۔ سلسلہ شاید ابھی بھی اسی طرح چلتار ہتا  ،مگر اللہ رب العزت کی طرف سے رہنمائی ہوئی اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث مبار کہ سامنے آئی جو کہ نیچےمع حوالہ نقل کی جاتی ہے اور اُس کے ذیل میں کچھ سوالات ہیں :

متن حدیث مبارکہ :

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمُ الْقَوْمَ أَقْرَأَهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَ ۃ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءٌ فَأَقْدَ مُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءٌ فَأَقْدَمُهُمْ مِنَّا وَلَا یومن الرّجُلُ الرجل فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يَقْعُدُ فِي بيتهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ -

 حدیث مبارکہ سے واضح ہو رہاہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منصب ا علی پر تعیناتی اور امام کے چناؤ کے لئے قیامت تک کے لئے ایک بھر پور اور منظم ضابطہ اور قانون بتلا دیا تا کہ کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔  اس کا عملی اقدام اپنی حیات طیبہ میں خود ساری عمر امامت کرانے اور ایام علالت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اس منصب کے لئے منتخب کر کے دکھلایا۔ حدیث کے الفاظ سے یہ بھی نظر آرہا ہے کہ یہ ضابطہ اور قانون اختیاری نہیں ہے کہ بطور فضیلت بیان ہوا ہو کہ اگر اس پر عمل کیا گیا تو افضل ہے، بلکہ طرز بیان حکمیہ ہے اور عمل پرپابند کر دیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ :

۱ـ  حدیث کی روشنی میں آیا مسجد کی  کمیٹی پابند ہے کہ کسی اچھے   عالم کو جو کہ اس طریقہ سے تمام امور انجام دے سکنے کی اہلیت رکھتاہو ،لوگوں کو دینی و دنیاوی معمولات میں شریعت کے مطابق رہنمائی دے سکے، کو تعینات کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو کیا اس حدیث کی روشنی اور ان آیات قرآن کی روشنی میں جس میں کسی بھی منصب پر اس کے اہل شخص کو تعینات کرنےکے بارے میں احکامات آئے ہیں گناہ گار تو نہیں ہو رہی؟

۲ـ  امام کا عالم دین ہونا ،فقہی مسائل سے خصوصا مسائل نماز و جماعت سے بخوبی آگاہ ہونا اور باقی دینی امور بھی احسن طریقے سے انجام دے سکنے کی صلاحیت رکھنا، جس میں قرآن وحدیث کا درس اور تدریس کا مستقل سلسلہ، نمازیوں اور اہل محلہ کی دینی تربیت اور دینی مسائل سے لمحہ بہ لمحہ لوگوں کی رہنمائی، لوگ بآسانی اپنے نجی مسائل پوچھ سکیں ،کیا اہل محلہ اور نمازیوں کی ضرورت اور حق نہیں اور کمیٹی کا اس پر خاموشی اختیار کیے رکھنا اور کوئی عملی  قدم نہ لینا درست عمل ہے؟

۳ـکیا ایک عالم جو کہ حقدار ہے کہ اسے منبر رسول اور مصلی رسول سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی جائے اور اس منصب اعلی پر فائز کیا جائے، اس کا حق نہ دے کر کمیٹی حق تلفی کی مرتکب تو نہیں ہورہی ہے؟

۴ـ ایک نوعیت جو کہ صرف ہماری مسجد سے خاص ہے اور اس معاملے کو مزید سنگین بناتی نظر آتی ہے،حالات  کچھ اس طرح ہے کہ ہماری مسجد کے مؤذن صاحب جو کہ مؤذن بھی ہیں اور خادم مسجد بھی، خود حافظ قرآن اور قاری ہیں جناب کے صاحب زادے  حافظ قرآن ، قاری ، بہت پائے کے عالم ہیں اور آپ عربی پر بہت دسترس اور مہارت رکھتے ہیں فاضل ہونے کے بعد اسلامی یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے اور عنقریب پی ایچ ڈی بھی مکمل  ہو جائے گی ۔بہت اعلی قاری اور اچھے خطیب  ہیں اور انکی ان خصوصیات کا اعتراف تمام اہل محلہ کرتے ہیں ۔ اب بوجہ مؤذن صاحب کی ضعیف العمری کے اور ان کی دائمی علالت کے اذان ،اقامت اور خدمت کی ذمہ داریاں بھی جزوی طور پر یہ عالم صاحب ادا کر رہے ہیں۔

 ایسا شخص جو ہر لحاظ سے اس کا حق رکھتا تھا کہ اس کو امامت کے لئے مصلے پر کھڑا کیا جاتا ،وہ اقامت پڑھ رہا ہے اور بطور مقتدی صف میں کھڑا ہوتا ہے اور ایک غیر عالم جو حدیث میں کی گئی درجہ بندی میں بعد کے درجہ پر آتا ہے ،امامت کرارہا ہوتا ہے۔ جمعہ اور عیدین کے لیے حال ہی میں تقریر کی ذمہ داری اس عالم کو دی گئی ہے جبکہ خطبہ اور نماز امام صاحب خود پڑھاتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ تقریر کے بعد امام صاحب منبر پر آ جاتے ہیں، خطبہ پڑھتے ہیں ،نماز پڑھاتے ہیں اور عالم صاحب منبر کے سامنے کھڑے ہو کر اذان دیتے ہیں اور اقامت کہتے  ہیں۔ سوال یہ ہے کہ :

۱:  کیایہ ترتیب درست ہے کہ ایک عالم دین کے صف میں موجود ہوتے ہوئے جو مسجد کا  مستقل فرد بھی ہے، بغیر کسی شرعی عذر کے ایک غیر عالم نماز پڑھاتا ر ہے یا قابلِ تصحیح ہے ؟

۲ـ کیا بظاہر  یہ ترتیب معیوب نہیں ہے؟ بے شک کسی درجہ میں جائز بھی ہو ۔

۳ـ کیا یہ صریحا ایک اہل اور  وارث رسول کی حق تلفی نہیں ہے ؟

۴ـ کیا یہ مسجد کا اور مسجد کے نمازیوں کا حق نہیں ہے کہ جیسے ان کو ضرورت اور آرام کی ہر چیز مہیا کی گئی ہے، ایسے ہی ان کو ایک اچھا امام بھی مہیا کیا جائے ؟ جبکہ ہماری مسجد کے قرب و جوارمیں جو چار پانچ مساجد ہیں، ان سب میں الحمد اللہ بہت اعلی معیار کے عالم و مفتی فرائض امامت انجام دے رہے ہیں۔

۵ـ  جامعۃ الرشید کے فقیہ العصر مفتی اعظم حضرت اقدس مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب کے بارے میں ان کے مدرسے کے علماء اکرام سے سنا کہ نماز پڑھاتے وقت آپ کا یہ معمول رہا کہ آپ صف بندی کراتے ہوئے پہلی صف میں صرف علماء کرام کو کھڑا کرتے۔ اگر جگہ بچتی تو صرف با شرع افراد کو اجازت ہوتی کہ وہ پہلی صف میں کھڑے ہوں اور اس بات کا ہمیشہ سختی سے اہتمام رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اس طرز عمل سے اور اس پر اہتمام سے علماء کارتبہ اور فضیلت ظاہر نہیں ہوتی اور اس بات کا جواز نہیں نکلتا کہ ان کے شرعی حق کا خیال رکھا جائے اور ہر سطح پر ترجیح دی جائے اور ان کو مقدم کیا جائے ،چاہے وہ پہلی صف ہو، مصلی ہو یا منصب امامت ؟

 براہ کرم  تفصیلی اور واضح جواب عنایت فرمائیں تا کہ اس بارے میں شریعت کا حکم بالکل واضح ہو جائے ۔ ہماری مسجد میں الحمد اللہ بہت اچھا ماحول ہے، کوئی گروپ بندی ،ذاتی اختلافات یا لڑائی جھگڑا نہیں ہے، بہت پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں ۔ مسئلہ پوچھنے میں ہماری بھی قطعاً کسی جھگڑے و فساد کی نیت نہیں ہے ،نہ ہی معاملہ ذاتیات پر مبنی ہے بلکہ خالصتا خلوص کے ساتھ آپ سے رجوع کر رہے ہیں تاکہ اس معاملہ کو افہام و تفہیم کے ساتھ انجام تک پہنچایا جاسکے اور وہ اسی صورت ممکن ہے کہ حدیث شریف کی روشنی میں شریعت کے واضح احکامات بطور دلیل کے ہمارے پاس آجائیں جن کی بنیاد پر جو فیصلہ کیا جائے گا، اس پر کسی کو کسی قسم کا اعتراض کرنے کا کوئی اختیار یا حق نہیں ہو گا اور ہر قسم کے فسادسے بچنے کا واحد راستہ شریعت کے احکامات کے سامنے سر جھکا دینے میں ہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ موجودہ امام صاحب جو کہ براہ ر است متاثرین میں ہیں کو بھی شریعت کے احکامات معلوم ہو جانے کے بعد کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  بطور تمہید چند اصول سمجھ لینے چاہیے:

۱:        اگرکسی آدمی کو امامت کےبنیاد ی مسائل  مثلا نماز کےفرائض  و واجبات اور سجدہ سہو وغیر ہ کے مسائل کا علم ہو،تلاوت میں فحش غلطیاں (لحن جلی)نہ کرتا ہواور اہل محلہ اس کےپیچھے نماز پڑھنےپر راضی ہوں تو اس کا نماز پڑھانا جائز ہےاور مقتدیوں کی نماز اداہوجائےگی ۔

۲:          اگر   ان صفات کے حامل  دو آدمی ایک ہی مسجد میں امامت کے طالب ہوں تو  عام حالات میں حدیث میں بیان کردہ  وجوہ  ترجیح  اور ترتیب کےمطابق اس کا انتخاب کرنا بہتر ہے ، لازمی نہیں  ، بالفاظ دیگر افضل ( زیادہ اہل ) کےہوتے  ہوئے  مفضول ( پہلے کی  بنسبت کم اہل ) کی اقتداء  جائز اور متوارث چلی  آرہی ہے۔  چنانچہ حضورﷺ نے کئی مواقع پر صحابہ کرام   اور صحابہ کرام  رضی اللہ تعالی عنھم نے  غیر صحابہ  کے  پیچھے  نماز یں پڑھی ہیں۔اس طرح  علماء نے  میزبان  کو مفضول ہونےکےباوجود مہمان کی بنسبت  زیادہ مستحق قرار دیا ہےجیساکہ سوال میں ذکرکردہ  حدیث کا  آخری جز ا س پر دلالت کررہا ہے۔الغرض ا فضل کو آگے کرنا کوئی لازمی حکم نہیں،  اس کےہوتے ہوئے مفضول کو آگے کرنے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔

۳:        اگر  مفضول کو معزول کر کے  افضل کو تعینات کرنے  میں فتنہ کا خطرہ ہو تو  فتنہ اور انتشار کے سد باب کےلیے مفضول کی اقتداء لا زم ہوگی،  کیونکہ افضل کو تعینات کرنا ایک مستحب عمل ہے اور فتنہ و انتشار  کی روک تھا م  واجب ہے   ۔ ان تمہیدی باتوں کے بعد   سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱:         جو شخص  امامت کا اہل ہو اور ڈیڑھ دو دہائی سے  کسی جگہ امام ہو اور اس میں  کوئی ایسا عیب بھی نہ پایا جاتا ہو جس کی وجہ سے  اس  کو معزول کرنا واجب ہوتو  گو رسمی  عالم نہ ہو ،وہ سبقت زمانی کی وجہ سے  امامت کا زیادہ  حقدار ہے۔  تاہم اگر  موجودہ امام کو معزول کرنے اور سوال میں ذکر کردہ  عالم  دین کو تعینات کرنے  پر تمام اہل محلہ راضی ہوں  او ر وہ حقیقت میں سوال میں ذکرکردہ اوصاف کا حامل ہوتو  اس  عالم دین کو تعینا ت کرنا بھی جائز  ہے  ، لیکن  اگر اس کی وجہ سے اہل محلہ  کے درمیان  انتشار کا خطرہ ہو تو اس کو تعینات کرنا جا ئز   نہیں،کیونکہ باہمی اختلاف بذات خود مذموم ہے اور حسد ، غیبت ، چغل خوری   ، وغیرہ کا سبب ہونے  کے ناطے  بھی مذموم ہے۔ ایک مستحب امر پر عمل کرنے کےلیے  اس کی  گنجائش نہیں۔

۲:        جب اہل و نااہل کا مقابلہ ہو تو نااہل کو منتخب کرنے پرگناہ ہوگا ، قرآن وحدیث میں مذکور وعیدیں  اسی صورت سے  متعلق ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے إذا وسد الامر إلی  غیر اھلہ فانتظر الساعۃ( نااہل کو منصب سپرد کرنا قیامت کی نشانی ہے) ۔ صورت مسئولہ میں دو   نوں امیدوار  اہل ہیں  لہذا زیادہ اہل کو  تعینات نہ کرنے  پر و ہ وعیدیں صادق نہیں آئیں گی ، خصوصا جبکہ اس  کی تعیناتی میں  تفرقہ و انتشار کا خطرہ ہو۔ اگر فتنہ کا خدشہ نہ بھی ہو تب بھی  مفضول کو تعینات کرنے پر  گناہ گار نہیں ہوں گے، کیونکہ  گناہ  حرام کے ارتکاب    پر  ہوتاہے ، ترک  مستحب پر نہیں۔

۳:        قاری ہونے کے ساتھ  قابل اور  معیاری عالم دین اہل محلہ کا حق ہے لیکن   ان کا یہ  حق فتنہ برپا نہ ہونے کے  ساتھ  مقید ہے۔

۴:       قاری اور معیاری عالم دین  مستحق  امامت ہے ،لیکن  کسی مخصوص  مسجد  میں  امامت  کا مستحق نہیں کہ جس کے نہ ملنے پر اس کی حق تلفی ہو  ۔ اس کو اگر کسی خاص مسجد میں امامت نہیں مل رہی ہو تو کوئی دوسری مناسب جگہ ڈھونڈنی  چاہیے  ، اس کے لیے یہ  جائز نہیں کہ وہاں فتنہ برپا کرکے  پہلے والےامام کو نکال کر  اپنے لیے راستہ ہموار کردے۔

۵:         اگر سارے اہل محلہ افضل پر راضی ہو ں  تو اس کےہوتے ہوئے بلا عذر شرعی  مفضول کی اقتداء میں نماز پڑھنا بہتر نہیں ، اگرچہ جائز ہے۔ حضور ﷺ کی امامت اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو امام منتخب کرنے کی یہ  توجیہ ہے۔

۶:        مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کا علماء  کرام کو پہلی صف میں کھڑا کرنےکی وجہ  سوال میں ذکر کردہ حدیث پر عمل نہیں، بلکہ   صحيح مسلم کے اس حدیث مبارک   ليلني منكم أولو الأحلام والنهى ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم (  تم میں سے  عقل مند لوگ میرے قریب  کھڑے ہوں  ) پر عمل مقصود تھا۔

حوالہ جات

 صحيح مسلم (1/ 465):

عن أبي مسعود الأنصاري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله، فإن كانوا في القراءة سواء، فأعلمهم بالسنة، فإن كانوا في السنة سواء، فأقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء، فأقدمهم سلما، ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه، ولا يقعد في بيته على تكرمته إلا بإذنه».

صحيح مسلم (1/ 230):

عن عروة بن المغيرة بن شعبة، عن أبيه، قال: تخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وتخلفت معه فلما قضى حاجته قال: «أمعك ماء؟» فأتيته بمطهرة، «فغسل كفيه ووجهه، ثم ذهب يحسر عن ذراعيه فضاق كم الجبة، فأخرج يده من تحت الجبة، وألقى الجبة على منكبيه، وغسل ذراعيه، ومسح بناصيته وعلى العمامة وعلى خفيه، ثم ركب وركبت فانتهينا إلى القوم، وقد قاموا في الصلاة، يصلي بهم عبد الرحمن بن عوف وقد ركع بهم ركعة، فلما أحس بالنبي صلى الله عليه وسلم ذهب يتأخر، فأومأ إليه، فصلى بهم، فلما سلم قام النبي صلى الله عليه وسلم وقمت، فركعنا الركعة التي سبقتنا».

شرح أبي داود للعيني (1/ 352):

السابعة: فيه دليل على جواز تقديم المفضول في الإمامة مع وجودالفاضل.

الثامنة: فيه دليل على جواز صلاة النبي عليه السلام وراء بعض أمته.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 557):

(والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الأورع) أي الأكثر اتقاء للشبهات...(ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون» (وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم...وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة، وكذا تكره خلف أمرد وسفيه ومفلوج، وأبرص شاع برصه، وشارب الخمر وآكل الربا ونمام، ومراء ومتصنع.

(قوله ثم الأحسن تلاوة وتجويدا) أفاد بذلك أن معنى قولهم أقرأ: أي أجود، لا أكثرهم حفظا وإن جعله في البحر متبادرا، ومعنى الحسن في التلاوة أن يكون عالما بكيفية الحروف والوقف وما يتعلق بها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 559):

ولو قدموا غير الأولى أساءوا بلا إثم. (قوله أساءوا بلا إثم) قال في التتارخانية: ولو أن رجلين في الفقه والصلاح سواء إلا أن أحدهما أقرأ فقدم القوم الآخر فقد أساءوا وتركوا السنة ولكن لا يأثمون، لأنهم قدموا رجلا صالحا، وكذا الحكم في الإمارة والحكومة، أما الخلافة وهي الإمامة الكبرى فلا يجوز أن يتركوا الأفضل، وعليه إجماع الأمة اهـ فافهم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 118):

هو موافق لما قدمناه عن شرح التحرير من حمل اللوم والتضليل لترك السنة المؤكدة على الترك مع الإصرار بلا عذر وقدمنا أيضا تصريح صاحب البحر بأن الظاهر من كلام أهل المذهب أن الإثم منوط بترك الواجب والسنة المؤكدة على الصحيح، ولا يخفى أن التثليث حيث كان سنة مؤكدة وأصر على تركه يأثم، وإن كان يعتقده سنة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 427):

وفيها للواقف عزل الناظر مطلقا، به يفتى، ولم أر حكم عزله لمدرس وإمام ولاهما....

مطلب في عزل الواقف المدرس والإمام وعزل الناظر نفسه

(قوله: ولم أر حكم عزله لمدرس وإمام ولا هما) أقول: وقع التصريح بذلك في حق الإمام والمؤذن ولا ريب أن المدرس كذلك بلا فرق. ففي لسان الحكام عن الخانية: إذا عرض للإمام والمؤذن عذر منعه من المباشرة ستة أشهر للمتولي أن يعزله ويولي غيره، وتقدم ما يدل على جواز عزله إذا مضى شهر بيري. أقول: إن هذا العزل لسبب مقتض والكلام عند عدمه ط. قلت: وسيذكر الشارح عن المؤيدة التصريح بالجواز لو غيره أصلح ويأتي تمام الكلام عليه، وقدمنا عن البحر حكم عزل القاضي المدرس ونحوه وهو أنه لا يجوز إلا بجنحة وعدم أهلية.

 نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

25 /ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب