| 83974 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال ایک ایسی ویب سائٹ(ANH Group LD-Wholesals & Dropshipping Hub )سے متعلق ہے جو آنلائن فروخت کا کام کرتی ہے جس پر ہم اپنا اکاؤنٹ بنا کر اپنی دکان کا نام رجسٹر کرکے چیزیں فروخت کرتے ہیں ،اس میں ہم نے ان ویب سائٹ کی چیزیں فروخت کرنی ہوتی ہیں جو ہول سیل کی سہولت دیتی ہیں ،چیزیں ان کی ہوتی ہیں بس ہمیں اپنا منافع رکھ کرآگے جتنے کی مرضی فروخت کرسکتے ہیں،مثال کے طور پر میں نے اس پر Digital Dukan کے نام سے اپنی دکان بنالی ،اب ہمیں کوئی بھی آرڈر آجائے جیساکہ کوئی کپڑے کاآرڈر دیتا ہے،ویب سائٹ پراس کی قیمت 3000روپےہے ہم اپنا منافع رکھ کر آگے 3500 کا کسٹمر کو دیتے ہیں، ہم اس کو اسی ویب سائٹ ( ANH)پر آرڈر کریں گے اور جو آرڈر کسٹمر کو جائے گا وہ ہماری دکان کے نام سے جائے گا اور جب تک اس کو پارسل وصول نہیں ہوتا وہ ہم سے رابطے میں رہے گا ،جب اسے پارسل ملے گا وہ میری رجسٹر کی گئی دکان کے نام یعنی Digital Dukan کے نام سے وصول ہوگا، اگر اس میں کوئی خراب چیز نکل آتی ہے تو وہ کمپنی کے بجائے مجھ سے رابط کرے گا اور میں خود اس کو تبدیل کرنے کا ذمہ دار ہوں گا،جو پیسے وہ ڈلیوری والے کو دے گا وہ پیسے اسی ویب سائٹ پر جائیں گے نہ کہ میرے اکاؤنٹ میں، کمپنی پہلے وہ اپنی چیز کے پیسے لے گی بعد میں مجھے اپنا منافع دے گی ، یعنی وہ اپنے 3000 +250 (ڈلیوری چارجز) کاٹ کر میرے اکاؤنٹ میں 250 روپے جمع کردیں گےاور اگر وہ شخص پارسل وصول نہیں کرتا تو جو ڈلیوری چارجز ہیں یعنی 250 روپے ،وہ کمپنی میرے منافع سےکاٹے گی ،مثلا میں نے پورے مہینے 5000 کمائے تھےتو جس شخص نے پارسل وصول نہیں کیا تھا، اس میں سے کمپنی 250 روپےکاٹ لے گی اور منافع 4750 روپےمجھے بھيج دے گی ،کیا اس طرح سے کام کرنا جائز ہے کہ نہیں ؟رہنمائی درکار ہے اور اگر میں کسٹمر سے پہلے ہی یہ بات کرلوں کہ بھائی یہ چیز میرے پاس نہیں ہے میں آگے سے لے کردے رہا ہوں ،تو کیا پھر یہ ٹھیک ہوگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں کسی چیز کو فروخت کرنے کا اصول یہ ہے کہ وہ چیز فروخت کنندہ کی ملکیت میں ہو ،قابل نقل وحمل ہونے کی صورت میں اس کے قبضہ میں بھی ہو ۔ (ANH Group LD-Wholesals & Dropshipping Hub)اے این ایچ ڈراپ شپنگ میں دکاندار ایسی چیزکی بیع کرتا ہےجو اس کی ملکیت اور قبضہ میں نہیں ہے،کیونکہ پہلے وہ خریدار سے عقد(کنٹریکٹ) کر لیتا ہے، اس کے بعد وہ کمپنی کی چیز پر قبضہ کیے بغیر کمپنی کے ذریعے خریدار کو بھیج دیتا ہے اور ایسی بیع حدیث کی رو سے ممنوع ہے۔ اس کے متبادل جائز صورتیں درج ذیل ہیں:
1: دکاندار کمپنی کے ساتھ عقد وکالہ(کنٹریکٹ آف ایجنسی) کرے،جس کی صورت یہ ہے کہ دکاندار کمپنی کے وکیل(ایجنٹ) کی حیثیت سے چیز بیچےاور اس کےبدلے میں وہ کمپنی سے طے شدہ وکالہ فیس(کمیشن) لیتا رہے اور فیس (کمیشن )یوں طے کی جا سکتی ہے کہ جتنے کی فروختگی ہوگی اس کا اتنے فیصد دکاندار کی فیس (کمیشن) ہوگی یا یوں بھی طے کی جاسکتی ہے کہ فلاں پروڈکٹ کی فروختگی پر اتنے روپے ہوگی۔ اس صورت میں چیزواپس ہونے پر کمپنی(موکل) اس کو قبول کرنے کی پابند ہوگی اوروکیل (ایجنٹ)سے سروس چاجز بھی نہیں لے سکے گی۔
2: دکاندار بیع (کنٹریکٹ آف سیل )کے بجائےوعدہ بیع(پرامیس ٹو سیل) کرلے جس کی صورت یہ ہےکہ دکاندار خریدار کے ساتھ وعدہ بیع کرلے یایہ کہ دکانداراپنے اکاؤنٹ پر چیزوں کی تصاویر اپلوڈ کرتے وقت ایک مختصر سا جملہ اعلان کے طور پر لکھ دے کہ" کسٹمر کا آرڈر قبول کرنا فی الوقت پروڈکٹ بیچنے کا محض وعدہ ہے ، کوئی حتمی بیع نہیں ہے " چنانچہ آرڈر لینے کے بعد پہلے دکاندار وہ پروڈکٹ کمپنی سے خرید کراس پر خود قبضہ کرکے یا کمپنی کا جو بھی کوریئر سروس ہے اسے پروڈکٹ پر قبضہ کرنے کا وکیل (ایجنٹ) بنا کر خریدار کو پہنچائے،مال پہنچنے پر عملا عقد(Reciprocal Contract )مکمل ہو جائے گی ، ایسی صورت میں چیزواپس ہونے پرکمپنی اس کو واپس لینے کی پابند نہیں ہوگی، البتہ باہمی رضامندی سے اس کی شرط لگائی جاسکتی ہے ۔
نیز اس طرح کے معاملات میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے:
:1جو اشیاء بطور سیمپل یا اشتہار میں دکھائی جاتی ہیں یا ویب سائٹ پر ان کی تفصیل لکھی ہوتی ہے فروخت کی جانی والی چیزیں بھی ان صفات (qualities) کے مطابق ہونی چاہیے۔
:2جو مصنوعات فروخت کیے جارہے ہیں ان کی خرید وفرخت شریعت یا قانون کی رو سے منع نہ ہو، یعنی ان کی اجازت ہو۔
:3قیمتیں اور وکالہ فیس وغیرہ سب طے اور واضح ہو، کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔
اگر کسٹمر اس میں کوئی بھی ایسا عیب پائے، جس کی وجہ سے تاجروں کے ہاں اس کی قیمت پر اثر پڑ رہا ہو اور وہ عیب عقد کرنے کے وقت یا قبضہ سے پہلے اس میں موجودہو، خریدار کو موصول ہونے سے پہلے اس عیب کا یا اس کے عیب ہونے کاعلم نہ ہو تو کسٹمر کو دو اختیا ر ہیں کہ یا تو اسی قیمت پر چیز کو اپنے پاس رکھ لے یا مکمل قیمت واپس لے کرچیز واپس کردے۔
حوالہ جات
المعجم الاوسط ( 2/154) :
1554 -حدثنا أحمد قال: نا عبد القدوس بن محمد الحبحابي قال: نا عمرو بن عاصم الكلابي قال: نا همام بن يحيى، عن عاصم الأحول، وابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 146):
(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ... وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه فأما ما يبيعه بطريق النيابة عن غيره ينظر إن كان البائع وكيلا وكفيلا فيكون المبيع مملوكا للبائع ليس بشرط.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 52):
(المادة 353) للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
25/ ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


