| 83989 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
آپ مفتیان کرام سے موقوفہ زمین پرکچراپھینکنے کے حوالے سے ایک فتوی بحوالہ نمبر 22233 دریافت کیاتھا جس میں یہ کہا گیاتھا کہ مذکورہ زمین زبانی طور وقف نہ کرنے ، شیوع اور ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے وقف کرنادرست نہیں ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ اسی موروثہ زمین کو اب چھ بھائیوں اور دو بہنوں میں تقسیم کیسے کیاجائے گااور اگر وقف کرنا چاہے تو وقف کیسے کیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو ) اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کےذمہ واجب الادا قرض اداکیاجائےگا،تیسرے نمبر پر اگرمرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے اپنے مال میں سےوصیت کی ہے تو تہائی حصہ تک اُسے اداکیاجائے،اس کےبعدموجود ورثہ میں میراث تقسیم کی جائےگی۔موجودہ صورت میں مرحوم کی زمین میں سابقہ تینوں حقوق ادا کرنےکےبعد جو ترکہ (زمین)بچ جائے اس کو چودہ (14) برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر بیٹے کو دو دو حصے اور دونوں بیٹیوں کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔
فیصد کے اعتبار سے ہر ہر بھائی کو٪ 28ء14 اور ہر ہر بیٹی کو ٪14ء7 حصہ ملے گا۔اس طرح تقسیم کرنے کے بعد ہر ایک اپنااپنا حصہ مسجد کے لئے وقف کرے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (11/4):
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 753):
ويقسم للذكر مثل حظ الأنثيين) فالبنات بالابن وبنات الابن بابن الابن لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 343):
(والملك يزول) عن الموقوف بأربعة بإفراز مسجد كما سيجيء و (بقضاء القاضي) لأنه مجتهد فيه، ...
(أو بالموت إذا علق به) أي بموته كإذا مت فقد وقفت داري على كذا فالصحيح أنه كوصية تلزم من الثلث بالموت لا قبله... (أو بقوله وقفتها في حياتي وبعد وفاتي مؤبدا) فإنه جائز عندهم، لكن عند الإمام ما دام حيا هو نذر بالتصدق بالغلة فعليه الوفاء وله الرجوع، ولو لم يرجع حتى مات جاز من الثلث.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 268):
{فصل} لما اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف أفرده بفصل على حدة وأخره قوله (ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه) ...وقال أبو يوسف يزول ملكه بقوله جعلته مسجدا لأن التسليم عنده ليس بشرط لأنه إسقاط لملك العبد فيصير خالصا لله تعالى بسقوط حق العبد وصار كالإعتاق.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
27/ ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


