03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجرت طے کیے بغیر دکان اور سامان کو کرایہ پر دینا
84011اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نےدوسرے شخص کواپنی دکان اور سامان کرایہ پر دیا مگرکرایہ طے نہیں کیا،البتہ  دونوں نے یہ طے کیا کہ مہینے کے آخر میں سیل(sale) کو دیکھ کرکرایہ  طے کریں گے۔ مہینے کے آخر میں کرایہ دار 35000  روپے کرایہ دینے پر راضی ہوا ،جبکہ مالک نے قبول کرنے سے انکار کیا،غرض یہ کہ نزاع کےسبب  اس نے عقد ختم کرنا چاہا،مگر کرایہ دار کا کہنا ہے کہ اب متعین مدت(سہ ماہی امتحان) تک دکان میرے پاس رہنےدو،  تاکہ میں اس میں اپنی طرف سے 182000 ہزار روپے کے بقدر لگایا ہوا سرمایہ فروخت کرکے  نقدرقم حاصل  کر سکوں۔

 اب معلوم یہ کرنا ہے کہ1-کیا سہ ماہی امتحانات تک کرایہ دار کا اس دکان  اور سامان کو استعمال کرنا جائز ہے ؟2 -کیا  سہ ماہی امتحان  تک کا کرایہ مالک کو ادا کرنا ہوگا؟3 - اگر کرایہ دار اس دکان اورسامان  سے سہ ماہی امتحان تک اپنے سرمایہ سے زیادہ رقم کما لےتو کیا اضافی رقم   مالک کو واپس  دینا لازم ہو گی؟4 -اگر متعین مدت سے پہلے کرایہ دار اپنی ساری رقم کما لے توکیا فورا  یہ دکان مالک کو حوالہ کی جائے ؟

تنقیح:استفسار پر سائل نے وضاحت کی کہ یہ ایک مدرسے کی دکان ہونے کے ساتھ ساتھ کینٹین بھی ہے،جبکہ سامان میں فریج، چولھا اور دیگچی وغیرہ ہیں،نیز  مالک نےاب  نزاع سے بچنے کے لیے سہ ماہی تک اجازت دے دی لیکن کرایہ دار کہتا ہے کہ اب میں بقیہ دو مہینوں  کاکرایہ وغیرہ کچھ نہ دوں گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورتِ مسئولہ میں اجرت اور کرایہ مجہول ہونے کی وجہ سے یہ اجارۂ فاسدہ ہوا،لہٰذا کرایہ دارپر  دکان اور سامان کی  اجرت ِ مثل ادا کرنا واجب ہے،اجرتِ مثل کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی دکان اور سامان کا آس پاس کی ایسی  جگہوں پر اتنی مدت کا عام طور پر ان دنوں میں جو کرایہ ہوتاہے اتنا کرایہ ادا کرنا ضروری ہے،چاہے وہ 35000ہو یا اس سے کم و بیش ہو۔

 نیزچونکہ یہ عقدِ فاسدہے،لہٰذا  سہ ماہی تک  اس دکان اور سامان سےمزید نفع حاصل کرنے کے لیےاس عقد کو ختم کرکے فریقین کی رضا مندی سے کرائے اور مدت کو واضح طور پر طے  کرکےاز سرِ نو عقد کرنا ضروری  ہے۔اس  کے بغیر کرایہ دار کو سہ ماہی امتحان تک اس دکان اور سامان سے نفع اٹھانا ناجائزہے۔اسی طرح اگر ا س دوران  تجدیدِ عقد کے بغیر ان چیزوں سے نفع کمایا گیا تو اجرتِ مثل واجب ہوگی ،جوممکن ہے کہ متعین کرایہ طے کرنے کے مقابلے میں زیادہ ہو۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 46):

(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة ا)أو مدة أو عمل ... (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوما ابن كمال... أي أجر شخص مماثل له في ذلك العمل، والاعتبار فيه لزمان الاستئجار ومكانه من جنس الدراهم والدنانير لا من جنس المسمى لو كان غيرهما، ولو اختلف أجر المثل بين الناس فالوسط والأجر يطيب وإن كان السبب حراما كما في المنية قهستاني. ..فكان على الشارح أن يقول إذا لم يكن مسمى أو لم يكن معلوما؛ لأن وجوب أجر المثل بالغا ما بلغ على ما أطلقه المصنف إنما يجب في هذين الصورتين أما لو علمت التسمية فلا يزاد على المسمى كما يأتي.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 91):

(و) يجب (على كل واحد منهما فسخه قبل القبض) ويكون امتناعا عنه ابن الملك (أو بعده ما دام) المبيع بحاله جوهرة (في يد المشتري إعداما للفساد) ؛ لأنه معصية فيجب رفعها بحر.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 514):

وصرح في البحر بأن الإيجاب والقبول بعد عقد فاسد لا ينعقد بهما البيع قبل متاركة الفاسدا ففي بيع التعاطي بالأولى، وعليه فيحمل ما في الخلاصة وغيرها على ذلك، وتمامه في الأشباه من الفوائد إذا بطل المتضمن بطل المتضمن والمبني على الفاسد فاسد.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 46):

(ولا تملك المنافع بالإجارة الفاسدة بالقبض، بخلاف البيع الفاسد) فإن المبيع يملك فيه بالقبض، بخلاف فاسد الإجارة، حتى لو قبضها المستأجر ليس له أن يؤجرها، ولو آجرها وجب أجر المثل ولا يكون غاصبا.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27 /ذی قعدہ/1445ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب