03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناجائز کام کے لئے دیئےگئے مکان کے کرایہ کا حکم
84008اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

ہم نے اپنے گھر کا اوپر والا حصّہ کرائے پر دیا ہے کرائے داروں نے اوپر آفس کھولا ہے اور کرائےداروں سے ہمارا دو سال کا معاہدہ بھی ہوا ہے ،ابھی ان کو آئے ہوئے دو سے تین  مہینے ہوئے ہیں، حال ہی میں مجھے معلوم ہوا کہ آفس میں  یہ کام ہوتا ہے کہ جو بچے پاکستان سے باہر یونیورسٹی وغیرہ میں پڑھنے جاتے  ہیں  ان کو  یونیورسٹی کی طرف سے جواسائنمنٹ( Assignment ) ملتا ہے، آفس والے ان بچوں سے رابطہ کرکہ ان سے کہتے ہیں  کہ ہم تمہارا اسائنمنٹ ( Assignment ) اتنی رقم کے عوض ماہر لوگوں سے کراکے دیں گے اور پھر جب بچےاپنا اسائنمنٹ(Assignment )  ان ماہر لوگوں کو پیسے دیکر کرالیتے ہیں تو آگے اپنے نام سے جمع کراتے ہیں جو کہ دھوکہ ہے ،یاد رہے یونیورسٹی میں آپ کےنمبر اسائنمنٹ( Assignment )  سے بھی ملتے ہیں ،یعنی جتنا اچھا اسائنمنٹ( Assignment )  ہوگا اتنے اچھے  نمبر ملیں گے اور پھر جب وہ اس ڈگری کی بنیاد پر کہیں  جاب کرنے جائے گا تو اس کو جاب بھی مل سکتی ہے ۔یاد رہے کہ آفس کرائے پر دیتے وقت ہمیں یہ معلوم نہیں  تھا کہ یہاں جو کام کریں گے وہ کام صحیح نہیں  ہے،اب سوال یہ ہے کہ اب تو ہمارا ان سے دو سال کا معاہدہ ہو گیا ہے تو کیا ان سے لینے والاہر مہینے کا کرایہ ہمارے لیے استعمال کرنا حلال ہے یا حرام ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ  یونیورسٹی  کا کسی طالب علم کو اسائنمنٹ( Assignment )  دینے  سے اس کی استعداد  بڑھانا مطلوب ہوتا ہے ، اگر کوئی طالب علم  کسی  ماہر سے اپنے اسائنمنٹس( Assignments)  لکھواتاہے تویہ دھوکہ اور غلط بیانی ہونے کی وجہ سے اس کے لئے جائز نہیں ہے،اسی طرح جو یہ کام (دوسروں کے اسائنمنٹ لکھنا )کرتے ہیں ان کے لئے بھی ناجائز عمل میں تعاون ہونے کی وجہ سے یہ کام کرنا حرام ہے،چونکہ اصل عقد میں ناجائز کام کا ذکر نہیں ہے عقد مطلق منافع پر ہوا ہے ،لہذا اصل عقد جا ئز ہے اوراب تک کا کرایہ بھی جائز ہے۔آئندہ کے لئے عقد کو فسخ کرنا لازم ہے  کیونکہ یہ آفس محض ناجائز کام کے لئے ہی استعمال ہورہاہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم (5/ 2):

 وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 482):

قال: وإذا استأجر الذمي من المسلم بيعة يصلَي فيها فإن ذلك لا يجوز؛ لأنه استأجرها ليصلي فيها وصلاة الذميّ معصية عندنا وطاعة في زعمه، وأي ذلك ما اعتبرنا كانت الإجارة باطلة؛ لأن الإجارة على ما هو طاعة ومعصية لا يجوز.

الفتاوى الهندية (4/ 458):

وإذا تحقق العذر ذكر في بعض الروايات أن الإجارة لا تنقض وفي بعضها تنقض، ومشايخنا وفقوا فقالوا: إن كانت الإجارة لغرض ولم يبق ذلك الغرض أو كان عذر يمنعه من الجري على موجب العقد شرعا تنتقض الإجارة من غير نقض كما لو استأجر إنسانا لقطع يده عند وقوع الأكلة أو لقطع السن عند الوجع فبرئت الأكلة وزال الوجع تنتقض الإجارة لأنه لا يمكنه الجري على موجب العقد شرعا، وإن استأجر دابة بعينها إلى بغداد لطلب غريم له أو لطلب عبد آبق له ثم حضر الغريم وعاد العبد من الإباق تنتقض الإجارة لأنها وقعت لغرض وقد فات ذلك الغرض وكذا لو ظن أن في بناء داره خللا فاستأجر رجلا لهدم البناء ثم ظهر أنه ليس في البناء خلل أو استأجر طباخا لوليمة العرس فماتت العروس بطلت الإجارة. كذا في فتاوى قاضي خان.

وكل عذر لا يمنع المضي في موجب العقد شرعا ولكن يلحقه نوع ضرر يحتاج فيه إلى الفسخ. كذا في الذخيرة.

وإذا تحقق العذر ومست الحاجة إلى النقض هل يتفرد صاحب العذر بالنقض أو يحتاج إلى القضاء أو الرضاء اختلفت الروايات فيه والصحيح أن العذر إذا كان ظاهرا يتفرد، وإن كان مشتبها لا يتفرد. كذا في فتاوى قاضي خان.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

28/ ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب