03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مطالبے کے باوجود بھی والدین نکاح نہ کریں تو خفیہ نکاح کرنا جائز ہے؟
84026نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

والدین سے شادی کے مطالبے کے باوجود بھی وہ ہماری شادی نہ کریں تو ہم خفیہ نکاح کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

درج ذیل دو وجوہ کی بناء پر والدین کی اجازت کے بغیر خفیہ نکاح کرنے کی شرعاً  اجازت نہیں دی جا سکتی:

پہلی وجہ: اسلام میں نکاح صرف اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ذریعہ بہت سے شرعی مقاصد کی تکمیل بھی مقصود ہوتی ہے، جیسے سلسلہ نسب کا جاری رہنا، نیک اور صالح اولاد کا حصول اور دو خاندانوں میں رشتہ داری کا قائم ہونا وغیرہ۔اور یہ مقاصد اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب والدین خود اپنی اولاد کے لیے کسی اچھے خاندان میں رشتہ تلاش کر کے نکاح کریں۔اس کے برعکس لڑکے اور لڑکی کا دوگواہوں کی موجودگی میں خفیہ نکاح کرنے کی صورت میں نکاح کے شرعی مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے، بلکہ یہ اسلام کی تعلیمات اور نکاح کے مقاصد ومصالح کے بالکل خلاف ہے، اسی لیےعام طور پر ایسے نکاح کے نتائج اچھے نہیں نکلتے، بلکہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور کئی مرتبہ علیحدگی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

دوسری وجہ: شریعت میں تہمت کی جگہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں وارد ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ایک رات اپنی ایک بیوی سے کھڑے کوئی بات کررہے تھے، اتنے میں دو آدمی سامنے سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ٹھہرو اور پھر فرمایا کہ یہ میری بیوی صفیہ بنت حی ہے۔آپ علیہ السلام نے یہ وضاحت اس لیے فرمائی تاکہ ان کے دل میں کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو، اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں تہمت کے اندیشہ کو ختم کرنے کے لیے فرمایا کہ مساجد میں نکاح کا اعلان کرو اور اس موقع پر دف بجاؤ۔تاکہ لوگوں کے درمیان نکاح کا معاملہ مشہور ہو جائے اور کوئی بدگمانی نہ کرے۔

  جبکہ خفیہ نکاح کرنے کی صورت میں زنا کی تہمت کا قوی اندیشہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ جب دیگر لوگ ان دونوں لڑکے اور لڑکی کو کسی جگہ خلوت میں دیکھیں گے تو ان کے دل میں نکاح کا علم نہ ہونے کی وجہ سے  ان دونوں کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو گی اور وہ ان پر زنا کی تہمت لگائیں گے اور بعد میں جب یہ باتیں والدین اور دیگر رشتہ داروں تک پہنچتی ہیں تو بعض اوقات (خصوصاً جب لڑکی ایسے نکاح کی صورت میں حاملہ ہو جائے) معاملہ بہت شدت اختیار کر جاتا ہے،کیونکہ ایسے حالات میں لوگ خفیہ نکاح کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور لڑکی کا مستقبل بھی تباہ ہو کر رہ جاتا ہے، جس کا نتیجہ کبھی قتل وغارت گری کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس لیے خفیہ نکاح کی جانب قدم اٹھانے کی بجائے خاندان کے دیگر افراد کو شامل کر کے والدین کو نکاح کرانے پر مجبور کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 49، رقم الحديث: 2035) دار طوق النجاة:

حدثنا أبو اليمان، أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: أخبرني علي بن الحسين رضي الله عنهما: أن صفية - زوج النبي صلى الله عليه وسلم - أخبرته أنها جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوره في اعتكافه في المسجد في العشر الأواخر من رمضان، فتحدثت عنده ساعة، ثم قامت تنقلب، فقام النبي صلى الله عليه وسلم معها يقلبها، حتى إذا بلغت باب المسجد عند باب أم سلمة، مر رجلان من الأنصار، فسلما على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لهما النبي صلى الله عليه وسلم: «على رسلكما، إنما هي صفية بنت حيي»، فقالا: سبحان الله يا رسول الله، وكبر عليهما، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الشيطان يبلغ من الإنسان مبلغ الدم، وإني خشيت أن يقذف في قلوبكما شيئا»

مسند البزار (6/ 170) مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة:

حدثنا عبد الله بن أبي رجاء، قال: نا عبد الله بن وهب، عن عبد الله بن عبد الله بن الأسود، عن عامر بن عبد الله بن الزبير [ص:171]، عن أبيه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أعلنوا النكاح واضربوا عليه بالغربال - يعني الدف -»

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (5/ 217) دار الرسالة العالمية،بيروت:

3329 - حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو شهاب، حدثنا ابن عون، عن الشعبي قال: سمعت النعمان بن بشير -ولا أسمع أحدا بعده- يقول: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن الحلال بين، وإن الحرام بين، وبينهما أمور مشتبهات -أحيانا يقول: مشتبهة- وسأضرب لكم في ذلك مثلا: إن الله حمى حمى، وإن حمى الله ما حرم، وإنه من يرع حول الحمى يوشك أن يخالطه، وإنه من يخالط الريبة يوشك أن يجسر"

وفي رواية فمن اتقى الشبهات استبرأ عرضه ودينه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم ذوالحجہ 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب