| 84048 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
ایک طالب علم سال کے لیے تبلیغی جماعت کیساتھ جانے کا ارادہ رکھتا تھا، کسی آدمی نے اس طالب علم کو زکوٰۃ کی کچھ رقم دے دی، تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کریں ،اب وہ طالب علم سال کے لیے نہیں گیا ، بلکہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کررہا ہے ، کیا اس طالب علم کے لیےاس رقم سے اپنی ضروریات پوری کرنا جائز ہے ْ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر وہ طالب علم واقعۃً زکوۃ کا مستحق تھا ،تو زکوۃ کی رقم لینے کے بعد وہ اس کا مالک ہوچکا ہے،اور زکوۃ ادا ہوچکی ہے،لہذا اس طالب علم کےلیے اس رقم سے اپنی ضروریات پوری کرنا جائز ہے۔تاہم طالب علم کےلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تبلیغ میں جانے کا تأثر دیکر زکوٰۃ کی رقم حاصل کرے اور تبلیغ میں نہ جائے ، کیوں کہ اس سے لوگوں کی دلوں میں علماء سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔
حوالہ جات
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره، ولو أذن فمات فإطلاق الكتاب يفيد عدم الجواز وهو الوجه نهر (و) لا إلى (ثمن ما) أي قن (يعتق) لعدم التمليك وهو الركن. وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم.( ردالمحتار : 345/2)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
1 ٖذوالحجہ 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


