03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پب جی (PUBG) گیم کے اکاونٹس کی خرید و فروخت کا حکم
84037جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میں ایک عامی مسلمان ہوں، کچھ عرصہ پہلے میں نے پب جی  گیم کھیلنا شروع کیا ۔ کھیلتے ہوئے میں نے پب جی  کے اکاونٹ کی خرید و فروخت شروع کی - خرید و فروخت میں مجھے لاکھوں روپے بچتے تھے اور اسی طرح یہ منافع ایک کروڑ کے قریب ہو گیا۔ پوچھنا یہ ہے  کہ میرے پاس اس مال کے سوا کچھ بھی موجود نہیں اور اس کے علاوہ کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ، شادی شدہ ہوں  اور ایک بیٹا بھی ہے ۔ کیا پب جی کی کمائی حلا ل ہے ؟ کیا پب جی Accounts کی خرید و فروخت  جائز ہے ؟ اب میرےلیےکیاحکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 کسی بھی تفریح کے جائز ہونے کےلیے اس میں درج ذیل تین شرائط کا پایا جانا لازمی ہے:

1.        وہ کام بذات خود جائز ہو اور غیر شرعی امور سے پاک  ہو۔

2       دینی یا دنیاوی لحاظ سے مفید ہو اور  ہر قسم  کی مضرتوں اور لایعنی امورسے پاک ہو۔

3.         اس میں اشتغال بقدر ضرورت ہو، غیر ضروری اور حد سے بڑھ کر انہماک  نہ ہو۔

 پب جی  گیم میں یہ تینوں شرائط  نہیں پائی  جارہی ہیں، اس لیے  ا س کا کھیلناناجائز ہے۔جس کی تفصیل یہ ہےکہ پب جی گیم میں    کھلاڑیوں کی ٹیم  میں مرد اور عورت  دونوں ہوتے ہیں ،پھر  بعض مرتبہ بوجہ ستر کھلنے  کے  لباس  بھی غیر شرعی  ہوتا ہے ،   طبی رپورٹس کے مطابق   اس سے جسمانی اور دماغی صحت  پر برے  اثرات مرتب ہورہے ہیں،غیر ضروری انہماک کی وجہ سے  دینی فرائض ، گھریلو ، معاشرتی، تعلیمی اور  پروفیشنل  ذمہ داریوں  اور حقوق کی ادائیگی میں غفلت کا باعث ہے۔ اس کے نتیجے میں ذہنی  تشدد اور چڑ چڑ ےپن   میں اضافہ ہو رہاہے، جس سے  خاندانی اور معاشرتی تعلقا  ت بری طرح متاثر ہورہےہیں،خود پسندی اور ایک  لایعنی  کام میں  قیمتی وقت کے ضیاع کا سبب ہے،  ڈپریشن  کو جنم دینےکی وجہ سے  بے آرامی  اور خود کشی  کا  آلہ   ہے ۔ ان ہمہ جہت نقصانات کو دیکھتے ہوئے ا س کا  کھیلنا ناجائز ہے۔

جب اس کا کھیلنا جائز نہیں تو اس کے  ذریعے  کمائی گئی رقم    بھی حرام ہے،کیونکہ کمائی  کے حلال ہونےکے لیے  ذریعہ کا  بھی  حلال ہونا شرط ہے۔مزید یہ کہ جب  خود کھیلنا جائز نہیں تو اس کے اکا ونٹ کی خرید وفرخت بھی ناجائز ہے کیونکہ  اس میں  گناہ کےکام میں تعاون پایا جارہاہے۔

لہذا آپ نے جتنی رقم کمائی ہے  ا س کا بلانیت ثواب  صدقہ کرنا واجب ہے  اور آپ پر لازم ہےکہ اس گناہ سے توبہ کرکے آئندہ کےلیے اس کو فورا   ترک کریں ،   زندگی بسرکرنے کے لیے رزق کا کوئی جائز  متبادل  ذریعہ اپنائیں اور  بلا تاخیرجلد از جلد اس کی تلاش  شروع کریں ۔ صدق دل اور طلب  صادق کے ساتھ تلاش کرنے  پر   اللہ  تعالی کی ذات سے  قوی امید ہے کہ  وہ آپ کو  اچھے  مواقع فراہم کریں گے ، کیونکہ وہ اپنے چاہنے والوں کو کبھی  بے یار ومددگار نہیں چھوڑتا۔تاہم صدق دل کے ساتھ تلاش جاری رکھنے کی صورت میں  جائز متبادل  ذریعہ ملنے  تک  اس کمائی سے    اپنی ضروریات پوری کرنے کی گنجائش ہے  ، حلال کمائی حاصل ہونے کے بعد    اس کے بقدر رقم کا صدقہ کرنا  ضروری ہوگا ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم [سورة لقمان: 6]:

{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ} 

أحکام القرآن للتهانوی (3/202-199):

و فذلکة الکلام أن اللهو علی أنواع: (1) لهو مجرد، (2) و لهو فیه نفع و فائدة و لکن ورد الشرع بالنهي عنه، (3) ولهو فیه فائدة ولم یرد في الشرع نهي صریح عنه، ولکنه ثبت بالتجربة أنه یکون ضرره أعظم من نفعه، ملتحق بالمنهی عنه، (4) و لهو فیه فائدة و لم یرد الشرع بتحریمه، و لم یغلب علی نفعه ضرره، و لکن یشتغل فیه بقصد التلهی، (5) و لهو فیه فائدة مقصودة، و لم یرد الشرع بتحریمه، و لیس فیه مفسدة دینیة، و اشتغل به علی غرض صحیح لتحصیل الفائدة المطلوبة لا بقصد التلهی.

فهذه خمسة أنواع، لا جائز فیها إلا الأخیر الخامس، فهو أیضا لیس من إباحة اللهو فی شیئ بل إباحة ما کان لهوا صورة، ثم خرج عن اللهویة بقصد صالح و غرض صحیح فلم یبق لهوا………….. و ما یلعب به الصبیان من الجواز و البوتام (بتن) و الکرات الزجاجیة (کولیان) و أمثالها فإنها تشتمل علی القمار، فالواجب علی أولیائهم أن یمنعوهم عنها. و کذلك ما یقال له فی عرفنا (کنکوا)، سواء اشتمل علی القمار أم لا، و کذا التحریش بین البهائم و الطیور و اللعب بالناریات (آتش بازی) و أمثالها؛ فإنها کلها لو لم یتضمن معاصی و منکرات لا تخلو عنها عادة، فهی فی نفسها من اللهو المجرد الذی وقع الإجماع علی تحریمه أو کراهته.

الفتاوى الهندية  2/285)):

ويكره بيع السلاح من أهل الفتنة في عساكرهم، ولا بأس ببيعه بالكوفة ممن لم يدر أنه من أهل الفتنة، وهذا في نفس السلاح، فأما ما لا يقاتل به إلا بصنعة كالحديد فلا بأس به كذا في الكافي.

فقه البيوع: (2/1045):

"وذكر صاحب "الاختيار شرح المختار": أنه وإن وجب التصدق بالفضل، ولكن إن احتاج إليه، بأن لم يكن في ملكه ما يسد به حاجة نفقته ونفقة عياله، فصرفه في حاجته بنية أنه يتصدق بمثله فيما بعد، جاز له ذلك ... ولكنه مقيد بما إذا لم يكن عنده مال آخر لدفع حاجته ... والرجوع في هذا الأمر إلى إمام عادل شبه المتعذر في زماننا، وذلك إما لعدم إمام يحكم بالشريعة، أو لتعذر رفع مثل هذه القضايا إليه. وحينئذ، يظهر لي – والله سبحانه وتعالى أعلم – أنه يسوغ للمفتي بعد النظر في أحوال المستفتي أن يفتيه بصرف ذلك المال في حاجة نفسه بطريق الاقتراض، والإلزام على نفسه أن يتصدق بمثله، ولو في أقساط، متى وجد لذلك سعة، وبأن يلتمس كسبا حلالا في أقرب وقت، وذلك للعمل بأهون البليتين ... ثم إن هذا الحكم من حلّ الانتفاع للفقير لحاجته، وجواز اقتراضه للغنيّ بإذن الإمام، مختص بالملك الخبيث الذي وجب التصدق به."

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

01/ذی الحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب