03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانور کو  بٹائی پر دینا
84069اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان

سوال

علماءکرام اس مسئلے کے بارے میں کیافرماتے ہیں  کہ زید شہر میں رہتا ہے،اس نے دس ہزار روپے کی بکری خرید کر ایک دیہاتی آدمی کو دی،تاکہ وہ اس کو گھاس وغیرہ کھلائے اور دودھ بھی استعمال کرے، چھ ماہ یا نو ماہ بعد بکری  دو بچے دیتی ہے، ان میں سے ایک ایک بچہ   مالک  اور  دیہاتی  باہمی رضامندی سے لے لیتے ہیں، چند سال بعد مالک  وہ بکری بیس ہزار روپے کے عوض بیچ دیتا ہے ،اور اصل قیمت دس ہزار کو چھوڑ کر صرف  نفع آپس میں تقسیم کر کے دونوں   آدھا آدھا  لےلیتے ہیں،یعنی پانچ ہزار مالک لیتا ہےاوربقیہ  پانچ ہزار دیہاتی  لیتاہے،کیا معاملہ کی یہ صورت درست ہےاور اس طرح نفع حاصل کرنا جائز ہے؟ تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کوئی جانور یا مذکورہ بالا صورت کے مطابق بکری دےکراس کی پرورش  کی اجرت جانور   کی پیداوار یعنی دودھ اور بچوں سے  طے کرنا فقہ حنفی کے مطابق  اجارۂ فاسدہ ہے، اوراس طرح سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا مالک پر دیہاتی کو اتنی مدت تک بکری پالنے کی عام طور پر  جو اجرت ہواتنی اجرت ادا کرنا ضروری ہے،نیز اگردیہاتی نے اس دوران  گھاس وغیرہ  خریدنے کے اخراجات کیے ہوں تومالک کو ان کی رقم بھی ادا کرنا ہوگی،جبکہ بکری ، اس کا دودھ اور بچے مالک کے ہیں، اس لیے دیہاتی پربکری کا بچہ یا اس کی قیمت  اور اتنی مقدارمیں دودھ مالک کو دینا ہوگا۔

نیز آئندہ کے لیے اس  طرح کےمعاملے کا جائز   متبادل یہ ہے کہ  مالک  پہلے دوسرے آدمی کو بکری /جانور کے ایک متعین حصے(نصف یا تہائی وغیرہ)  کا متعین قیمت کے بدلےمیں یا بلا معاوضہ   مالک بنا دے، جس سے وہ جانور کی طرح اس کی پیدوار میں  بھی خود بخود اتنے حصے کے بقدر حصہ دار بن جائے گا،اور اس حصے کے اخراجات بھی اسی پر ہوں گے،جبکہ مالک کو اصولی طور اپنے  حصے کے بقدر پرورش کے  اخراجات ادا کرنے  ہوں گے،اور   وہ اپنے حصے کا دودھ بھی لے سکتا ہے،مگر دوسرا فریق  اگربغیر شرط کے  اپنی رضامندی سے مالک کے حصہ کےاخراجات برداشت کرے ،اور مالک بھی اپنے حصے کا دودھ نہ  لے تو اس میں حرج نہیں،چنانچہ اس طرح دونوں اپنے اپنے حصے کے بقدر جانور اور اس کے بچوں میں شریک بن جائیں گے۔

 البتہ صورتِ مسئولہ  میں یا  ماضی میں اس طرح کے  کسی فاسد معاملہ میں مذکورہ بالا حکم کے مطابق حساب کتاب کرنا ممکن نہ رہا  ہو،یا کہیں اس طرح کے فاسد معاملات میں لوگ شدید مبتلا ہوں کہ  وہاں اس جائز  متبادل پر بھی عمل کرنا دشوار ہو تو الگ سے اس صورتِ حال کے بارے میں لکھ کر مفتیانِ کرام سے رجوع کر لیا جائے ،تاکہ وہاں اگر صورتِ حال کا جائزہ لے کر  امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک قول کے مطابق جواز کی گنجائش دی جا سکتی ہو، تو پھر  وہاں  اس کے مطابق رہنمائی کی جائے،جیسا کہ امداد الفتاویٰ جدید(مع مطول حاشیہ،7/302)پرگنجائش کے حوالے سے یوں مذکور ہے:

 "کتب الی بعض الاصحاب من فتاوی ابن تیمیۃ کتاب الاختیارات،مانصہ:ولو دفع دابتہ او نخلۃ الیٰ من یقوم لہ ولہ جزء من نمائہ صح،وھو روایۃعن احمد(1) (ج۴ص۷۵س۱۴)  پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقدنا جائز ہے۔ كما نقل في السوال عن عالمگيرية ليکن بنابرنقل بعض اصحاب امام احمد کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے، پس تحرز احوط ہے، اور جہاں ابتلاءشدید ہو تو سع کیا جا سکتا ہے۔(۲۵ جمادی الاخری ۱۳۳۴ ھ ،تتمہ رابعہ ص :۴۵ )"

(1) لم أظفر على هذه العبارة، ولكن وجدت مثلها في الموسوعة الفقهية الكويتية وهي كما تلي: ومن الفقهاء من لا يجيز أن تكون الأجرة بعض المعمول أو بعض الناتج من العمل المتعاقد عليه لما فيه من غرر؛ لأنه إذا هلك ما يجري فيه العمل ضاع على الأجير أجره، وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان؛ ولأن المستاجر يكون عاجزا عن تسليم الأجرة، ولا يعد قادرا بقدرة غيره وهو مذهب الحنفية والمالكية والشافعية ..... وذهب الحنابلة إلى جواز ذلك إذا كانت الأجرة جزءا شائعا مما عمل فيه الأجير تشبيها بالمضاربة والمساقاة، فيجوز دفع الدابة إلى من يعمل عليها بنصف ربحها والزرع أو النخل إلى من يعمل فيه بسدس ما يخرج منه؛ لأنه إذا شاهده علمه بالرؤية وهي أعلى طرق العلم. الموسوعة الفقهية الكويتية ١ / ٢٦٤) (حاشیہ ازمولانا شبیر احمد قا سمی عفا اللہ عنہ )

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 445):

دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب

البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

3 /ذوالحجہ/1445ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب