03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے وسوسہ کا حکم
84065طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

مفتی صاحب ! کچھ باتوں پر میرا اور میرے شوہر کا جھگڑا ہوگیا ،جھگڑا اتنا بڑھا کہ میں نے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر دیا ،زیادہ اصرار پر انہوں نے صرف یہ کہا :تم مجھ سے طلاق لینا چاہتی ہو تو میں تمہیں فیصلہ کر کے بتاؤ ں گا،لیکن انہوں نے کیا فیصلہ کیا یہ کسی کو نہیں بتایا  ۔پھر ہمارے درمیان صلح ہوگئی اور چھ ماہ بعد ان کا انتقال ہوگیا ۔اب کیا شوہر کے ان الفاظ سے طلاق واقع ہو ئی یا نہیں ؟مفتی صاحب اس معاملے شرعی رہنمائی کیجئے ،کیوں کہ اس معاملے میں مجھے اپنی خطا معلوم ہوتی ہے اور مجھے اس بات پہ پچھتاوا ہوتا ہے کہ کاش میں نے یہ نا کہا ہوتا،یہ بات میرے دل و دماغ میں بیٹھ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف نہیں کرےگا۔ بات بات پہ رونا آتا ہے ۔شادی کو تقریباً پچیس سال ہو گئے تھے،میرے آٹھ بچے ہیں ،وہ بھی میری اس حالت سے کافی پریشان ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ" میں فیصلہ کر کے بتاؤں گا" طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا کسی وسوسہ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر آپ سمجھتی ہیں کہ آپ نے شوہر سے بد سلوکی کی ہے ،تو توبہ واستغفار کریں اور متوفی شوہر کے لئے ایصال ثواب کرتی رہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے معافی کی امید رکھیں۔اللہ تعالی تمام گناہوں کو معاف فرماتا ہے،خودکو اور بچوں کو پریشان کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ،اپنے آپ کو سنبھالیں اور حوصلے کے ساتھ بچوں کی تربیت کریں۔

حوالہ جات

۔۔۔

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

03/ ذو الحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب