03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فلاحی تنظیم کے منتظمین عاملین کے حکم میں ہیں یانہیں؟
84074زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

ایک مسلم بستی میں حادثہ پیش آگیا ( مثلاً زلزلہ، سیلاب  وغیرہ )  کئی ساری مسلم فلاحی تنظیموں نے تخمینہ لگایا کہ اس بستی کے رہنے والوں کو از سر نو تعمیر و ترتیب کروانے میں تقریباً ۳۰ کروڑ کا خرچ آئے گا،ان فلاحی تنظیموں میں ایک تنظیم  پرانی ہے، جن کےتعلقات وسیع ہیں ،کام کرنےوالےافراد تجربہ کار اور عاملین پرانے ہیں وہ فلاحی تنظیم مختلف طریقے اختیار کرکے اس بستی کے حالات کے نام پر زکوٰۃ صدقات اکٹھا کرنے کے لیے اپنے کارندے بازار میں اتارتی رہی اور تقریباً ۱۰۰ کروڑ نقد رقم اکھٹا کر کے اپنے دفتر میں جمع کرلئے، پھر اس جمع شدہ زکوٰۃ اور صدقہ کی رقم سے حادثہ والی بستی کے تعمیر و ترتیب کا کام کرتی ہے، اب چونکہ تخمینہ 30 کروڑ تھا تو اس تعمیر و ترتیب میں کم و بیش اتنا ہی خرچ آیا، باقی جو رقم بچی تقریباً ۷۰ کروڑ کیا یہ رقم جن عاملین نے جمع کرائی وہ اپنے ذاتی مصرف میں لا سکتے ہیں؟ اُن کی  دلیل یہ ہے قرآن کریم عاملین کو زکوٰۃ استعمال کی اجازت دیتا ہے ؟ اب اگر استعمال کر سکتے ہیں تو ناظم صاحب /سیکریٹری صاحب/ مہتمم صاحب اور دیگر خواص کو کتنا فیصد اور جو فیلڈ میں چندہ کرنے عاملین  ہیں جنہوں نے گھر گھر جاکر چندا جمع کیا ان کا کتنا فیصد ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عامل سے مرادوہ عامل ہے جس کوسرکارنے زکوۃ وغیرہ کی رقم جمع کرنے کی ذمہ داری دی ہو،ایسے عامل کے لئے معقول اورمناسب اجرت کی بقدرزکوۃ کی رقم لیناجائزہوتاہے،فلاحی تنظیموں کے افراد عاملین کے مصداق میں شامل نہیں،اس لئے صورت مسؤلہ میں جمع شدہ رقم ٹرسٹ کے افراد کے لئے لیناجائزنہیں۔جمع شدہ رقم جس مدکے لئے جمع کی گئی ہے تواسی میں استعمال کرناضروری ہے،کسی دوسری مد میں خرچ کرنے کے لئے معطین کی طرف سے اجازت ضروری ہے۔

حوالہ جات

فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 4 / ص 20):

وأما العاملون عليها فهم الذين نصبهم الإمام لجباية الصدقات .

وفی رد المحتار (ج 2 / ص 372):

قوله: (يعم الساعي) هو من يسعى في القبائل لجمع صدقة السوائم والعاشر من نصبه الامام على الطرق ليأخذ العشر ونحوه۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۵/ذی الحجہ ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب