03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی سامان اور مشترکہ گاڑی کا حکم
91001شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

1. ایک گھر والدہ کے نام پر تھا، جن کا 4 ماہ قبل انتقال ہو گیا، یہ گھر میرے والد نے انہیں بطور گفٹ دیا تھا، ورثاء میں صرف 4 بھائی،والدصاحب اورایک رضاعی بہن تھی۔ اب والدصاحب کا بھی گزشتہ ہفتے انتقال ہو گیا، گھر میں عام استعمال کی اشیاء جیسے فریج، ڈسپنسر، مائیکرو وغیرہ موجود ہیں، جو حال ہی میں میرے اور میرے سب سے چھوٹے بھائی نے گھر کے لیے خریدی تھیں، پھر کچھ پرانا سامان بھی تھا، جیسےتین اے سیز، بیڈز، فرنیچر وغیرہ۔ ان میں سے کچھ میں نے اور میرے بھائی نے خریدا تھا اور کچھ ابّو نے، خاص طور پر اے سیز۔ اسلامی قانون کے مطابق یہ چیزیں کس طرح تقسیم ہوں گی؟

2. گھر میں ایک گاڑی ہے، جس کے لیے 20% ڈاؤن پیمنٹ میرے والد نے ادا کی تھی، چار اقساط ایک بھائی نے ادا کیں اور باقی یعنی تقریباً 70%رقم میں نے اور میرے سب سے چھوٹے بھائی نے برابر برابر ادا کی۔ اسلامی قانون کے مطابق یہ کس طرح تقسیم ہوگی؟ گاڑی والد کے نام پر ہے۔

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ میں اور میرے بھائی نے جو چیزیں خریدی تھیں وہ سب گھروالوں کے لیے خریدی تھیں، ان کو واپس لینے کا ارادہ نہیں تھا، البتہ میرے کمرے کا کچھ فرنیچر میں نے خریدا تھا، اس میں نیت یہی تھی کہ یہ ہمارا ہے اور ہمارے ہی استعمال میں رہے گا۔ باقی گاڑی میں نیت یہ تھی کہ جس بھائی نے جتنی رقم ڈالی ہے وہ اس کے حساب سے اس گاڑی کا مالک ہے، والد صاحب نے بیس فیصد ڈاؤن پیمنٹ کی تھی، اتنے حصے کے وہ مالک تھے۔

3. اب میں اور بھائی نمبر 2مشترکہ طور پر ایک گھر خریدنا چاہتے ہیں، فرض کریں کہ گھر کی قیمت ایک کروڑ ہے، وہ 30 لاکھ لگاتا ہے اور میں 70 لاکھ لگاتا ہوں (30% اور 70%) 2 سال بعد گھر کی قیمت 2 کروڑ ہو جاتی ہے، اگر ہم اسے فروخت کریں تو کیا 2 کروڑ اسی تناسب سے تقسیم ہوں گے؟

4. ایک اور صورت یہ ہے کہ اگر ہم میں سے ایک کا انتقال ہو جائے، اور گھر کی قیمت 2 کروڑ ہو تو یہ کس طرح تقسیم ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2۔ صورتِ مسئولہ میں آپ کے والدین مرحومین نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں نقدی اور دیگر چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے وہ سب ان کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے تجہیزوتکفین کے اخراجات نکالنے، واجب الاداء قرض ادا کرنے اور غیروارث کے لیے کی گئی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو کل چار حصوں میں برابر تقسیم کر کے مرحومین کے ہربیٹے کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے، باقی آپ کی رضاعی بہن کا آپ کے والدین کے ترکہ میں شرعی اعتبار سے کوئی حصہ نہیں ہے،کیونکہ وراثت صرف نسبی رشتہ داروں میں جاری ہوتی ہے،  البتہ بہتر یہ ہے کہ ترکہ کی تقسیم کے وقت کچھ مال اس کو بھی دے دیا جائے، خصوصا اگر وہ  غریب اورمستحق ہو، کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا (8)} [النساء: 8]

ترجمہ: اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔

باقی جو سامان آپ نے والدین سمیت سب اہلِ خانہ کے لیے خریدا تھا تو وہ بھی چاروں بھائیوں میں برابر تقسیم ہو گا اور اپنے کمرے کا فرنیچر جو آپ نے اپنے لیے خریدا تھا وہ آپ کی ملکیت شمار ہو گا، اس کے علاوہ گاڑی میں جس شخص نے جتنی رقم ڈالی ہے وہ اتنے ہی فیصدی (Percentage) حصہ کا شرعاً مالک شمار ہو گا، البتہ والد کا حصہ چاروں بھائیوں میں برابر تقسیم ہو گا۔  

3،4۔ جی ہاں! اس گھر کی خریداری میں جس بھائی کا جتنے فیصد حصہ شامل ہو گا وہ اسی حساب سے اس کے پرافٹ یعنی نفع کا حق دار ہو گا، کیونکہ مشترکہ طور پر گھر خریدنے  سے دونوں کے درمیان شرکتِ ملک قائم ہو گی اور شرکتِ ملک میں ہر شخص اپنے حصے کے نفع کا حق دار ہوتا ہے، نیز اگر دونوں میں سے کسی شریک کا انتقال ہو جائے تو پھر اسی تناسب ((Percentageسے اس کے حصہ کے اس کے ورثاء حق دار ہوں گے۔  

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 5) دار احياء التراث العربي – بيروت:

 "الشركة ضربان: شركة أملاك، وشركة عقود. فشركة الأملاك: العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي" وهذه الشركة تتحقق في غير المذكور في الكتاب كما إذا اتهب رجلان عينا أو ملكاها بالاستيلاء أو اختلط مالهما من غير صنع أحدهما أو بخلطهما خلطا يمنع التمييز رأسا أو إلا بحرج، ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط فإنه لا يجوز إلا بإذنه.  

والضرب الثاني: شركة العقود، وركنها الإيجاب والقبول، وهو أن يقول أحدهما شاركتك في كذا وكذا ويقول الآخر قبلت" وشرطه: أن يكون التصرف المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة ليكون ما يستفاد بالتصرف مشتركا بينهما.

الفتاوى الهندية (2/ 301) الناشر: دار الفكر،بیروت:حكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/محرم الحرام1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب