03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ اسکول سے تنخواہ اور کرایہ لینے کا حکم اور اس کاجائز طریقہ کار
84157شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب ایک مسئلہ کی وضاحت مطلوب ہے۔

کہ دوفریقین (فریق اول)مظفراقبال (فریق دوم)شکیل احمدنے دسمبر2022 میں ایک ادارہ(اسکول) قائم کرنے کا عقد کیاتھا ۔فریق اول نےکہا تھا کہ کسی اور جگہ بلڈنگ بنانے پر کرایہ کسی اور کو دینے سے بہتر ہے کہ میں اپنی جگہ پر بلڈنگ بناؤ ں اور کرایہ وصول کر لوں،ساتھ ہی  ابتدائی انویسٹمنٹ کی دمہ داری بھی لے لی ۔یکم اپریل 2023 سے سکول کا خرچہ دونوں فریقین پر نصف نصف ہوگا اوراسکےبعدچلانےکی ذمہ داری فریق ثانی کی ہوگی،ساتھ ہی فریق اول نے اپنی چھٹیوں کے دوران استحساناً سکول کی ذمہ داری سنبھالنے کی حامی بھر لی تاکہ فریق ثانی کو آرام مل سکے۔

دونوں فریقوں کے درمیان یہ طے پایا کہ فریق اول کو بلڈنگ کا  ماہانہ کرایہ جبکہ فریق ثانی  کو اس کے مطالبہ پر استحساناً ماہانہ وظیفہ بھی ملے گا۔سیشن 2024 میں اسکول کو احسن انداز میں چلانے کے لئے مزید ذمہ داریاں تقسیم کی گئی ، فریق اول کو اکاؤنٹ اور سٹاف  کی جملہ ذمہ داری جبکہ فریق ثانی کو تعلیم کی ذمہ داری تفویض کی گئ اور فریق ثانی مقر ہے کہ فریق اول احسن انداز میں اپنا کام سر انجام دے رہا ہے۔ فریق اول نےبلڈنگ بنائی جس پر اب تک کروڑ سے زائد رقم خرچ ہوئی ہےاور ابتدائی خرچہ بھی کیا ہے جبکہ فریق ثانی نے بھی یکم اپریل سے لے کر اب تک عقد کے مطابق 4 لاکھ سے زائد رقم سکول میں انویسٹ کی ہے۔

 (1)ہمارے اس عقد کا شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے؟

(2)فریق اول کا شراکت داری میں ماہانہ کرایہ کا مطالبہ اور فریق ثانی کی تنخواہ کا مطالبہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز  جبکہ فریق اول نے عقد کرنے کے بعد کیپیٹل انویسٹمنٹ کی وجہ سے فریق ثانی کو تنخواہ دینے سے منع کر دیا ہے۔

حضرت کچھ خیر اندیش احباب سے معلوم ہوا ہے کہ اس عقد میں شرعی قباحت ہے ۔ آپ سے راہنمائی درکار ہے کہ اس شراکت داری کو کیسے شریعت مطہرہ کے اصولوں کے تابع کیا جائےگا؟

تنقیح:سائل نے فون پر وضاحت کی کہ ابتداءعقد میں اسکول کا سارا کام فریق ثانی کے ذمہ تھا اور فریق اول پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی ،ہاں اگر وہ اپنی مرضی سے کام کرناچاہے تو کرسکتاتھا ۔فریق ثانی  نے شروع  میں تنخواہ کا مطالبہ کیا تو فریق اول نے کہا  کہ آپ کا حق تو نہیں بنتاہے مگر خیر ہے آپ کو تنخواہ دے دیتےہےاورپھر  بعد میں فریق ثانی نے تنخواہ دینے سے معذرت کرلی۔مزید یہ کہ ابتدائے عقد میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ نفع اور نقصان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ حضرات نے جو شرکت کامعاہدہ کیاہے وہ شرکت فی الاعمال کہلاتاہے جوکہ شرعی اعتبار سے جائز ہے ۔

فریق اول کے لئے بلڈنگ کاکر ایہ لینا جائز ہے کیونکہ بلڈنگ شرکت کے معاہدے میں  داخل نہیں ہے،اس لئے اس معاہدہ کو شرکت کے معاہدے سے الگ کرکے کریں مگرفریق ثانی کے لئے  تنخواہ لینا  جائز  نہیں ہے   کیونکہ اس کواپنے عمل کی ا جرت نفع کی صورت میں  مل رہی ہے۔چونکہ فریقین نے نصف نصف عمل کی ذمہ داری قبول کی ہے لہذا منافع کی تقسیم بھی نصف نصف  کے تناسب سے ہوگی۔نیز بہتر یہ ہے کہ تحریری طور پر معاہدہ لکھ کر اسے محفوظ کیا جائے۔

حوالہ جات

ا لمعاییر الشرعیہ   ملحق بالمعیار  الشرعی رقم 12 ( (274:

مسـتند عدم جواز الجمع بين نسـبة من الربح والأجرة في الشـركة أن الأجرة مبلغ مقطوع، وقـد لا يحصـل من الربـح أكثر منها فينقطع الاشـتراك فـي الأرباح.أما في حالة اسـتحقاق الأجرة بعقد مسـتقل فمسـتنده أن ذلك لیس شرطا في الشـركة فلا يحصل به انقطاع الشركة في الربح فيكون بمثابة طرف ثالث.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 321):

(و) إما (تقبل) وتسمى شركة صنائع وأعمال وأبدان (إن اتفق) صانعان (خياطان أو خياط وصباغ)فلا يلزم اتحاد صنعة ومكان (على أن يتقبلا الأعمال) التي يمكن استحقاقها... (ويكون الكسب بينهما) على ما شرطا مطلقا في الأصح لأنه ليس بربح بل بدل عمل فصح تقويمه (وكل ما تقبله أحدهما يلزمهما) وعلى هذا الأصل (فيطالب كل واحد منهما بالعمل ويطالب) كل منهما (بالأجر ويبرأ) دافعها (بالدفع إليه) أي إلى أحدهما (والحاصل من) أجر (عمل أحدهما بينهما على الشرط) ولو الآخر مريضا أو مسافرا أو امتنع عمدا بلا عذر لأن الشرط مطلق العمل لا عمل القابل: ألا ترى أن القصار لو استعان بغيره أو استأجره استحق الأجر بزازية.

(قوله: مطلقا) أي سواء شرطا الربح على السواء أو متفاضلا، وسواء تساويا في العمل أو لا، وقيل: إن شرطا أكثر الربح لأدناهما عملا لا يصح.

والصحيح الجواز أفاده في البحر، وهذا إذا لم تكن مفاوضة إذ لا تكون المفاوضة إلا مع التساوي كما يأتي (قوله: لأنه ليس بربح إلخ) اعلم أن التفاضل في الربح عند اشتراط التساوي في العمل لا يجوز قياسا؛ لأن الضمان بقدر ما شرط عليه من العمل فالزيادة عليه ربح ما لم يضمن، فلم يجز العقد كما في شركة الوجوه.

ويجوز استحسانا؛ لأن ما يأخذه ليس ربحا؛ لأن الربح إنما يكون عند اتحاد الجنس، وهنا رأس المال عمل والربح مال فلم يتحد الجنس، فكان ما يأخذه بدل العمل والعمل يتقوم بالتقويم إذا رضيا بقدر معين، فيقدر بقدر ما قوم به فلم يؤد إلى ربح ما لم يضمن، بخلاف شركة الوجوه حيث لا يجوز فيها التفاوت في الربح عند التساوي في المشترى؛ لأن جنس المال وهو الثمن الواجب في ذمتهما متحد والربح يتحقق في الجنس المتحد، فلو جاز زيادة الربح كان ربح ما لم يضمن، وتمامه في العناية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 60):

(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له) ؛ لأنه لا يعمل شيئا لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلا يستحق الأجر (كراهن استأجر الرهن من المرتهن) فإنه لا أجر له لنفعه بملكه.

وفي جواهر الفتاوى: ولو استأجر حماما فدخل المؤجر مع بعض أصدقائه الحمام لا أجر؛ لأنه يسترد بعض المعقود عليه وهو منفعة الحمام في المدة، ولا يسقط شيء من الأجرة؛ لأنه ليس بمعلوم.

(قوله فلا أجر له) أي لا المسمى ولا أجر المثل زيلعي؛ لأن الأجر يجب في الفاسدة إذا كان له نظير من الإجارة الجائزة وهذه لا نظير لها إتقاني، وظاهر كلام قاضي خان في الجامع أن العقد باطل؛ لأنه قال: لا ينعقد العقد تأمل. (قوله؛ لأنه لا يعمل إلخ) فإن قيل: عدم استحقاقه للأجر على فعل نفسه لا يستلزم عدمه بالنسبة إلى ما وقع لغيره.

فالجواب أنه عامل لنفسه فقط؛ لأنه الأصل وعمله لغيره مبني على أمر مخالف للقياس فاعتبر الأول، ولأنه ما من جزء يحمله إلا وهو شريك فيه فلا يتحقق تسليم المعقود عليه؛ لأنه يمنع تسليم العمل إلى غيره فلا أجر عناية وتبيين ملخصا.

وفي غاية البيان: طعام بين اثنين ولأحدهما سفينة فاستأجر الآخر نصفها بعشرة دراهم جاز، وكذا لو أراد أن يطحنا الطعام فاستأجر نصف الرحى الذي لشريكه أو استأجر أنصاف جواليقه هذه ليحمل هذا الطعام إلى مكة جاز، ولو استأجر عبد صاحبه أو دابة عبد صاحبه أو دابته ليحمله أو استأجر العبد لحفظ الطعام لا يجوز سواء استأجر العبد أو الدابة كله أو نصفه ولا أجر له، والأصل أن كل ما لا يستحق الأجر إلا بإيقاع عمل في العين المشتركة لا يجوز، وكل ما يستحق بدونه يجوز فإنه تجب الأجرة بوضع العين في الدار والسفينة والرحى لا بإيقاع عمل اهـ ملخصا أي فإن للعبد والدابة عملا في العين المشتركة وهو الحمل أو الحفظ، أما السفينة مثلا فلا عمل لها أصلا. (قوله لنفعه بملكه) الذي ينبغي أن يقول لانتفاعه بملكه ح، وإنما كان كذلك؛ لأن المرتهن غير مالك للمنافع فلا يملك تمليكها وإنما هي للراهن ولكنه ممنوع من الانتفاع لتعلق حق المرتهن فإذا آجره فقد أبطل حقه.

(قوله؛ لأنه يسترد إلخ) بيانه أنه قد باعه منفعة الحمام مدة معلومة وقد استوفى المؤجر بعضها فانفسخ بقدره ثم الأجرة تثبت في ذمة المستأجر بالعقد، والقدر الذي فسخت فيه غير معلوم ولا يمكن إسقاط شيء بحسابه للجهالة فبقي جميع الأجرة على المستأجر رحمتي.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

26/ ذی الحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب