03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیک اعمال کے باوجودمشکلات کیوں آتی ہیں؟
84176علم کا بیانعلم کے متفرق مسائل کابیان

سوال

ہم میاں بیوی 11 سال سے بے اولاد ہیں، کسی مولوی صاحب نے روزانہ 3000 بار استغفار کرنے کا وظیفہ بتایا جو کہ 41 دن تک کرنا ہے ، وہ وظیفہ کرنے کے بعد اللہ تعالٰی نے ایسی آزمائش میں ڈال دیا کہ زوجہ کی نارمل صحت بھی چلی گئی ہے اور دماغ میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے جس کاعلاج بغیر آپریشن کے  ممکن نہیں ہے۔ میں پہلے عام دنیادار انسان کی طرح زندگی گذاررہاتھا،سب نارمل تھا،پھر باقاعدہ سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت بھی کی ، تمام مسنون تسبیحات ، نظر کی حفاظت اور صدقات کا اہتمام بھی نصیب ہوا ، صحت کاملہ کی دعائیں بھی کثرت سے مانگتے ہیں صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ہر کام اور خوراک سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے ہیں، غرض ہر ممکن احتیاط کرتے ہیں مگر بیماریوں اور آزمائش نے یوں گھیر رکھا ہے کہ نہ دوا سے شفاء ملتی ہے  اورنہ دعا اور اعمال سے، خدارا کوئی طریقہ بتا دیں ان حالات میں ہم کیا کریں؟ ہم دونوں سکول میں استاد ہیں اور رزق حلال کمانے کی سخت پابندی بھی کرتے ہیں،برائے کرم کوئی حل بتائیں، میری بیوی روزانہ کی تکالیف سے اب فرائض بھی بڑی مشکل سے ادا کر تی ہے اوراب نا امیدی اور مایوسی کی طرف جا رہی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اللہ تعالی نےہر انسان کے ساتھ آزمائش کا سلسلہ اس دنیامیں رکھا ہے، جو کسی بھی صورت میں ہوسکتی ہے، متعددقرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ میں اس کی صراحت موجودہے،یہ آزمائش نیک اوربددونوں پرآتی ہے،واضح رہےکہ ایمانی قوت اور اسقامت کی مضبوطی کے اعتبار سے اللہ رب العزت انسان کو آزمائش میں مبتلا فرماتا ہے، سب سے سخت آزمائش انبیاء علیہم السلام کی ہوتی ہے، ان کے بعد ایمانی قوت کے درجات کے اعتبار سے لوگوں پر آزمائش ڈالی جاتی ہے، جو انبیاءِ کرام علیہم السلام سے جتنا قریب ہوتاہے اور دین میں پختہ ہوتاہے اس کی آزمائش اتنی ہی سخت ہوتی ہے

اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 155 اور156میں ارشاد فرماتے ہیں ''اور البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے، اورمالوں، جانوں اور پھلوں میں کمی کرکے اور خوشخبری دے دیں صبر کرنے والوں کو، وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی، پھر درجہ بدرجہ جو اُن سے زیادہ قریب ہوتاہے، چنانچہ آدمی کو اپنی دینی حالت کے مطابق آزمایا جاتاہے، سو اگر اس کا ایمان مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور اگر اس کے دین میں کم زوری ہو تو اپنی دینی حالت کے بقدر آزمایا جاتاہے، بہرحال آزمائش بندہ مؤمن کے ساتھ لگی رہتی ہے یہاں تک کہ اسے اس حال میں کر چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چلتاہے اور اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے روز جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے کاش دنیا میں ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹے جاتے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ آزمائش بھی اللہ تعالی کی رحمت ہے،جس سے انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں،درجات بلندہوتے ہیں اور ضروری نہیں آمائش گناہ کانتیجہ ہو،اس لئے اس پرصبرکریں،اللہ تعالی سے یہ دعامانگیں کہ یااللہ ہم کمزورہیں اس آزمائش کوختم فرمادیجئے ورنہ ہمیں صبرعطافرمائیے،نیزصبح وشام کے مسنون اذکار،صلوۃ الحاجت پڑھنے کااہتمام کیجئے،اللہ تبارک وتعالی آپ دونوں کی آزمائش کوختم فرمادے۔

حوالہ جات

فی القرآن الكريم - (سورۃ بقرۃ:155،156)

 ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال والأنفس والثمرات وبشر الصابرين (155) الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون (156)

فی سنن الترمذي (ج 4 / ص 28):

عن مصعب بن سعد عن أبيه قال قلت : يارسول الله ، أي الناس أشد بلاء ؟ قال :" الانبياء ثم الامثل فالامثل ، يبتلى الرجل على حسب دينه ، فإن كان في دينه صلبااشتد بلاؤه ، وإن كان في دينه رقة ابتلى على قدر دينه ، فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشى على الارض وما عليه خطيئة " . هذا حديث حسن صحيح .

وفی سنن الترمذي (ج 4 / ص 29):

 عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يود أهل العافية يوم القيامة حين يعطى

أهل البلاء الثواب لو أن جلودهم كانت قرضت في الدنيا بالمقاريض " .

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

     ۱/محرم الحرام ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب