| 84213 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
کیا عورت اسلامی بینک میں نوکری کر سکتی ہے ؟اگر اس پر اور میاں پر بہت قرض ہو اور میاں کی کمائ سے قرض ادا نہیں کر پا رہے ہوں ،ضروریات بھی مشکل سے پوری کر پا رہے ہوں کیونکہ قرض دار کی نماز جنازہ ادا کر نے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منع فرما دیا ہے اس بات سے بہت خوف آتا ہے بینک کی نوکری کا اس لیے پوچھا جا رہا ہے کیونکہ تھوڑی تنخواہ زیادہ مل جائیگی براہ کرم رہنمائی فرمایئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ عام حالات میں شریعت نے عورت کو گھر کی چار دیواری میں رہنے کی ترغیب دی ہےاورا سی میں اس کی عزت و آبرو ہے کہ وہ گھر یلوکام انجام دے اور اپنے بچوں کی تربیت کرےاور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلے، خصوصاً اس زمانے میں چونکہ ہر طرف بےحیائی وبے پردگی کا دور دورہ ہے، اور مردوں عورتوں کا بے باکانہ اختلاط عام ہے۔
لیکن اگر واقعتا معاشی مجبوریاں اور ضروریات ہوں تو پھر انہیں چاہیے کہ گھر پر ہی دست کاری يا ٹیوشن وغیرہ کو ذریعۂ معاش بنائے۔ گھر سےباہر ملازمت کرنے کی صورت میں مذکورہ بالا غیر شرعی امور سے خود کو بچانا نہایت دشوار ہے۔
البتہ اگر گھر پر کام کرنے کی کوئی صورت نہ بن رہی ہو تو پھر خاتون مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ کوئی جائز ملازمت کرسکتی ہے:
1. راستے میں آتے جاتے ہوئے اور دورانِ ملازمت مکمل شرعی پردے کا اہتمام کرے۔
2. گھر سے نکلتے وقت اور ملازمت کے دوران نامحرم لوگوں سے اپنی آنکھیں نیچی رکھیں ۔(یعنی بلا ضرورت ان کی طرف نہ دیکھا جائے)
3. بناؤ وسنگھار نہ کرے ، خوشبو نہ لگائے ۔
4. ایسے پازیب نہ پہنے جس سے ا یسی آواز نکلتی ہو جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔
5. راستے میں آتے جاتے ہوئے اور دورانِ ملازمت نامحرم کے سامنے بلاضرورت آنے اور بات چیت سے حتی الامکان اجتناب کرے۔ اور جب بات چیت کرنے کی ضرورت ہو تو حتی الامکان آواز کی نزاکت ولطافت کو ختم کرے اور کسی قسم کی بداخلاقی کے بغیر بتکلف پھیکے انداز میں بات چیت کرے۔
6. شادی شدہ ہونے کی صورت میں شوہر کی اجازت ہو، اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں ولی یعنی والد وغیرہ کی اجازت ہو۔
7. معصوم بچوں اور اہلِ خانہ کے شرعی حقوق ضائع نہ ہو رہے ہوں۔
8. راستے کے کنارے پر چلےنہ کہ درمیان میں تاکہ فتنہ سے محفوظ رہے۔
حوالہ جات
القر آن الکریم (سورۃ النور :31) :
[وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ]
القر آن الکریم(سورۃ الأحزاب: 32):
{يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا
القر آن الکریم(سورۃ الأحزاب: 59):
[ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا]
أحکام القرآن-للتهانوی-( 3/471):
وبالجملة فاتفقت مذاهب الفقهاء وجمهور الأمة علی أنه لايجوز للنساء الشواب کشف الوجوه والأکف بين الأجانب، ويستثنی منه العجائز لقوله تعالیٰ:"القواعد من النساء"، الآية، والضرورات مستثناة فی الجميع بالإجماع. فلم يبق للحجاب المشروع إلا الدرجتان الأوليتان: الأولیٰ القرار فی البيوت وحجاب الأشخاص، وهو الأصل المطلوب. والثانية خروجهن لحوائجهن مستترات بالبراقع والجلابيب وهو الرخصة للحاجة. ولاشک أن کلتا الدرجتين منه مشروعتان، غير أن الغرض من الحجاب لما کان سد ذرائع الفتنة وفی خروجهن من البيوت ولو للحوائج والضرورات کان مظنة فتنة شرط عليهن الله ورسوله
صلی الله عليه وسلم شروطاً يجب عليهن التزامها عند الخروج:
- أن یترکن الطیب ولباس الزینة عند الخروج، بل یخرجن وهن تفلات، کما مر فی کثیر من روایات الحدیث مما ذکرنا.
- أن لايتحلين حلية فيها جرس يصوت بنفسه، کما فی حديث رقم .42
- أن لايضربن بأرجلهن ليصوت الخلخال وأمثاله من حليهن، کما هو منصوص القرآن.
- أن لا يتبخترن فی المشية کيلا تکون سبباً للفتنة، کما مر فی حديث رقم .
- أن لا تمشین فی وسط الطریق بل حواشیها، کما فی حدیث رقم 15.
- أن يدنين عليهن من جلابیبهن بحیث لایظهر شئ منهن إلا عیناً واحدةً لرؤیة الطریق، کما مر من تفسیر ابن عباس لهذه الآیة.
- أن لایخرجن إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم 38 .
- أن لایتکلمن أحداً إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم.
- وإذا تکلمن أحداً من الأجانب عند الضرورة فلایخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبه مرض، کما هو منصوص الکتاب.
- وأن يغضضن أبصارهن عن الأجانب عند الخروج.
- أن لایلجن فی مزاحم الرجال، کمایستفاد من حدیث ابن عمر رضی الله عنه، لو ترکنا هذا الباب للنساء(رقم25).
فهذه أحد عشر شرطاً وأمثالها یجب علی المرأة التزامها عند خروجها من البیت للحوائج والضروریات، فحیث فقدت الشروط منعن من الخروج أصلاً.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (1 / 337):
إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية………..أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربهاالذين يكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب.
عطاء الر حمٰن
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
02/محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عطاء الرحمن بن یوسف خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


