03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دستاویزات میں لے پالک بیٹے کی ولدیت  تبدیل کرنے کا حکم
84220نکاح کا بیاننسب کے ثبوت کا بیان

سوال

 میری شادی کونوسا ل ہوگئے  اورمیری کوئی اولادنہیں ہے، میں نے بہت علاج کروائے ہیں،آئی وی ایف / IVF (In Virto Fertilization) بھی کروایا  پھر بھی اولاد نہیں ہوئی۔اب میں اپنے بھائی کے بچے کو لے پالک (adopted child) بنانا چاہتی ہوں ،مگر مسئلہ یہ ہے کہ میں سعودی عرب میں رہتی ہوں اور بچہ یہاں لانے کے لئے مجھے دستاویز (document)میں اس کی ولدیت بد لنی پڑے گی ،کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ 

 

 

 

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآنِ کریم میں لے پالک بیٹے  کو حقیقی بیٹا قرار دینے سے منع کیا گیا اور ساتھ ہی اس کے اپنے والدین   کی طرف منسوب کرکےاسے  بلانے کا صریح حکم دیا گیا ہے،اسی طرح حدیث شریف میں بھی نسب تبدیل کرنے کو واضح طور پرحرام قراردیا گیا ہے،کیونکہ اس سےاختلاطِ نسب کی وجہ   سے نسب پر مبنی شرعی احکام جیسے پردہ،نکاح اور میراث وغیرہ  میں غلط فہمیاں اورآپس میں جھگڑے  پیدا ہوسکتے ہیں، اور چونکہ شناختی دستاویز ات میں ولدیت بدلنے سےبھی یہ خرابیاں لازم آتی ہیں، اس لیےان میں  ولدیت بد لنا  بھی  قطعا ناجائز ہے،نیز  ایسا کرنے سے بعد میں بھی  جب کبھی  یہ نام غلط  نسبت کے ساتھ لکھا اور پڑھا جائے گا تواس پر گناہ ہوتا رہے گا،کیونکہ یہ صریح جھوٹ اور غلط بیانی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بچے کی ولدیت  تبدیل کیے بغیر اسے لے پالک  بیٹا بنایا جائے،اور  اپنے ساتھ لے جانے کی جوقانونی  صورت  ہو وہ اختیار کی جائے،مثلا ڈاکو مینٹس میں والد کے بجائے سر پرست کا نام لکھنے کی اجازت ہوتو  گود لینے والے باپ کانام بطورِسرپرست   لکھا جائے۔اسی طرح پاکستان میں اگرچہ بچے کو گود لینے/ Adoptionکا کوئی مخصوص قانون نہیں ہے ،البتہ  لے پالک بچہ اپنے  پاس    رکھنے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اسے   باہر اپنے ساتھ لے جانے کی ایک قانونی سہولت موجودہے، اس میں"Guardians and Wards Act1890" کے مطابق گود لینے والے والدین کو پاکستان کی سول یا فیملی کورٹ سے اس بچے کی پرورش کا قانونی حق   حاصل کرنے کی اپیل کرنی ہوگی،جس کے لیے ایک فارم فل کرنے کا طریقہ اسی ایکٹ کی دسویں دفعہ کے تحت  بیان کیا گیا ہے، اوراس میں بھی بچے کے حقیقی والد کا  نام لکھنا ضروری ہے، مزید  اس بارے میں کسی وکیل سے  رہنمائی لی جائے۔

  واضح  رہے کہ کسی بچے کو لے پالک بیٹا بنانے کی صورت میں گود لینے  والے والدین کو اس کی پرورش،تعلیم  و تربیت اور اسےادب و اخلاق سکھانے کا ثواب  تو ملتا ہے،مگر ایسے میں درج ذیل شرعی احکام کی رعایت رکھنا لازم ہے:

1- لے پالک کا نسب  اصل والدین سے ثابت ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت بھی اس کے  حقیقی والدین  کی  طرف کرنا ضروری ہے،البتہ محض شفقت کی وجہ سے گود لینے والے والدین  اسے  بیٹا کہیں تو یہ  جائز ہے۔

2- لے پالک کی پرورش کا اصل حق   اس کے حقیقی والدین کو ہے، البتہ جب وہ گود لینے والوں کو اپنا بچہ دے دیں تو پھرانہیں بھی اپنے بچوں کی طرح  اس کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔

3-لے پالک غیرمحرم ہو  تو محض گود لینے سےوہ  محرم نہیں بنتا، البتہ دودھ کا  رشتہ قائم کرنے سے وہ محرم بن جاتا ہے، یعنی   خودگود لینے والی عورت  ،اس کی بہن یا بھابھی  اس بچہ کواگر مدتِ رضاعت میں  (دو سال کے اندر اندر)    اپنا دودھ پلا دے تو یہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں، خالہ یا پھوپھی بن جائے گی،جبکہ بچی گود لی ہوتو شوہرکی بہن یا  بھابھی اگر اس کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلادےتو شوہر اس کا ماموں یا  چچا  بن جائے گا۔

4- لے پالک غیرمحرم ہواور دودھ پلا کربھی اسے  محرم نہ بنایا ہو تو اس کے بالغ ہونے پر اس سے پردہ کا اہتمام ضروری ہوگا، جبکہ مدتِ رضاعت میں اسے دودھ پلایا ہو تو رضاعت کا رشتہ قائم ہوجانے کی وجہ  سےد ودھ پلانے والی عورت، اس کے شوہر اور اولاد سے اس بچے اور بچی کا پردہ کرنا لازم نہیں ہوگا۔  

5-لے پالک  کے نکاح کا حق اس کے حقیقی والدین کو ہو گا،اور اگراسے دودھ پلا کرمحرم  نہ بنا یا ہو تو حقیقی و رضاعی بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے   گود لینے والے والدین اور ان کی اولاد سے اس کا  نکاح   جائز  ہوگا۔

6- لے پالک بیٹے  کا  گود لینے والے والدین کے ترکہ  میں اولاد  کی حیثیت سے حق ِ میراث  نہیں ہوگا، اگرچہ اسے دودھ پلا کر محرم بھی بنایا ہو،ہاں  گود لینے والے والدین  اپنی زندگی میں اسے بطورِ تحفہ کوئی چیزدینا چاہیں تودے سکتے ہیں ،نیز اس کے شرعی وارث نہ بننے کی صورت میں ایک تہائی ترکہ تک اس کے لیے وصیت بھی کر سکتےہیں۔

حوالہ جات

 تفسير الطبري = جامع البيان ت شاكر (20/ 206،207 ):

وقوله: (وَما جَعَلَ أدعِياءَكُمْ أبْناءَكُمْ) يقول: ولم يجعل الله من ادّعيت أنه ابنك، وهو ابن غيرك ابنك بدعواك. ..  وذُكر لنا أن النبيّ صلى الله عليه وسلم كان يقول: "من ادّعى إلى غَير أبِيهِ مُتَعَمِّدًا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الجَنَّةَ". .. (ادْعُوهُمْ لآبائهِمْ هُوَ أقْسَطُ عِنْدِ اللَّهِ) : أي أعدل عند الله.

 سنن أبي داود (4/ 330):

حدثني أبو عثمان، قال: حدثني سعد بن مالك، قال: سمعته أذناي ووعاه، قلبي من محمد- صلى الله عليه وسلم- أنه قال: من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام. قال: فلقيت أبا بكرة فذكرت ذلك له، فقال: سمعته أذناي ووعاه قلبي من محمد صلى الله عليه وسلم .

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 218):

ولبن الفحل يتعلق به التحريم وهو أن ترضع المرأة صبية فتحرم هذه الصبية على زوجها وعلى آبائه وأبنائه ويصير الزوج الذي نزل لها منه اللبن أبا للمرضعة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 209 ،211):

 (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) فتح وبه يفتى ... (ويثبت التحريم) في المدة فقط...(قوله في المدة فقط) أما بعده فإنه لا يوجب التحريم بحر (قوله فما في الزيلعي) أي من قوله: وذكر الخصاف أنه إن فطم قبل مضي المدة واستغنى بالطعام لم يكن رضاعا وإن لم يستغن تثبت به الحرمة، وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله - وعليه الفتوى.

المبسوط للسرخسي (4/ 200):

والمراد بقوله تعالى {من أصلابكم} [النساء: 23] بيان إباحة حليلة الابن من التبني فإن التبني انتسخ بقوله تعالى {ادعوهم لآبائهم} [الأحزاب: 5] ، وكان النبي - صلى الله عليه وسلم - تبنى زيد بن حارثة ثم تزوج زينب بعد ما طلقها زيد فطعن المشركون وقالوا إنه تزوج حليلة ابنه ، وفيه نزل قوله تعالى {ما كان محمد أبا أحد من رجالكم} [الأحزاب: 40] فهذا التقييد هنا لدفع طعن المشركين.

ایضا (29/ 138):

 الأسباب التي بها يتوارث ثلاثة :الرحم والنكاح والولاء.

https://legallawfirm.pk/:

There is no specific law regarding the adoption of a child in Pakistan, simply a verbal consent or an adoptions deed is sufficient. However, to facilitate the foreign nationals or who are residing outside of Pakistan, below practice is prevailing in Pakistan.

https://pakistancode.gov.pk/english/UY2FqaJw1-apaUY2Fqa-cJc%3D-sg-jjjjjjjjjjjjj:

 7. Power of the Court to make order as to guardianship.

(1) Where the Court is satisfied that it is for the welfare of a minor that an order should be made:

(a) appointing a guardian of his person or property, or both, or

(b) declaring a person to be such a guardian, the Court may make an order accordingly.

(2) An order under this section shall imply the removal of any guardian who has not been appointed by will or other instrument or appointed or declared by the Court.

(3) Where a guardian has been appointed by will or other instrument or appointed or declared by the Court, an order under this section appointing or declaring another person to be guardian in his stead shall not be made until the powers of the guardian appointed or declared as aforesaid have ceased under the provisions of this Act.

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

    دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

           7/محرم/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب