| 84292 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں نے شادی کی تھی جس میں میری بیوی کے خاندان میں سے کسی نے بھی شرکت نہیں کی تھی اورمیری بیوی کو جہیز بھی اس کے ننہال والوں نے دیا تھا، شادی کے کچھ عرصہ کے بعد میری بیوی کا انتقال ہوگیااورمیں اپنی بیوی کے مکان میں رہتا تھا اورہماری کوئی اولاد نہیں ہیں۔ اب آپ یہ فرمائیں کہ
میرا اس مکان یا اس کی جائیداد میں کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض(اگرمرحومہ پرہواور)زندگی میں اس کی ادائیگی نہ ہوئی ہو اوروصیت (اگرکی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد کل منقولہ، غیرمنقول مال میں آپ کا نصف حصہ بنتا ہے، اگرتمام ورثہ کے حصے معلوم کرنے ہوں تو مرحومہ کے فوت ہونے کے وقت جو جو اس کے زندہ ورثہ تھے ان کی فہرت لکھ کر دوبارہ دارالافتاء سے معلوم کرلیں ۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .........وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
11/1/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


