03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لاولد بیوی کی میراث میں خاوند کا حصہ
84292میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں نے شادی کی تھی جس میں میری بیوی کے خاندان میں سے کسی نے بھی شرکت نہیں کی تھی اورمیری بیوی کو جہیز بھی اس کے ننہال والوں نے دیا تھا، شادی کے کچھ عرصہ کے بعد میری بیوی کا انتقال ہوگیااورمیں اپنی بیوی کے مکان میں رہتا تھا اورہماری کوئی اولاد نہیں ہیں۔ اب آپ یہ فرمائیں کہ

میرا اس مکان یا اس کی جائیداد میں کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض(اگرمرحومہ پرہواور)زندگی میں اس کی ادائیگی نہ ہوئی ہو اوروصیت (اگرکی ہو)  کی  علی  الترتیب  ادائیگی  کے  بعد کل منقولہ، غیرمنقول مال میں آپ کا نصف حصہ بنتا ہے، اگرتمام ورثہ کے حصے معلوم کرنے ہوں تو مرحومہ کے فوت ہونے کے وقت جو جو اس کے زندہ ورثہ تھے ان کی فہرت لکھ کر دوبارہ دارالافتاء سے معلوم کرلیں ۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..."  (ص:696, المكتبة الشاملة)

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .........وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... }             [النساء: 12, 11]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

11/1/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب