دوگانۂ طواف کی حیثیت اور مقامِ اداء:
ہر طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اور یہ نماز مقامِ ابراہیم کے پیچھے پڑھنا مستحب اور افضل ہے۔ اس کے بعد اس کے قریب، اس کے بعد کعبہ کے اندر، اس کے بعد حطیم میں میزابِ رحمت (بیت اللہ کا پرنالہ) کے نیچے، اس کے بعد اس کے قریب، اس کے بعد باقی حطیم میں۔ اس کے بعد بیت اللہ کے قریب چاروں کونوں میں سے کسی کونے کی محاذات میں اور مقامِ جبریل پر ملتزم کے سامنے، اس کے بعد مسجد ِ حرام میں، اس کے بعد حرم میں، حرم سے باہر پڑھنا اور تاخیر کرنا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔( الغنیة: صـ: ۱۱۶)
دوگانۂ طواف حرم سے باہر اداء کرنا:
دوگانۂ طواف حرم سے باہر پڑھنا اگرچہ مکروہِ تنزیہی ہے لیکن اگر کسی نے حرم کی حدود میں یہ نماز نہ پڑھی اور حرم سے نکل آیا، اگرچہ وطن پہنچ گیا ہو تو بھی ادا کرنا واجب ہے، ذمہ سے ساقط نہ ہوگی، تمام عمر میں جب بھی اداء کرے اداء ہو جائے گی اور اداء ہی کہلائے گی نہ کہ قضا۔( الغنیة: ص: ۱۱۶)
مکروہ وقت میں دوگانۂ طواف:
طواف کی نماز طواف کے متصل بعد پڑھنا مسنون ہے اور تاخیر کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر وقت مکروہ ہو تو اس کے گزرنے کے بعد پڑھے۔
مثلاً اگر عصر کے بعد طواف کیا ہے تو اس وقت طواف کی دو رکعتیں نہ پڑھے۔ اگر وقت میں گنجائش ہو تو مغرب کے فرضوں کے بعد اور سنتوں سے پہلے پڑھے، ورنہ پہلے مغرب کی سنتیں پڑھے، پھر دوگانۂ طواف پڑھے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۵)
دوگانۂ طواف مکروہ وقت میں پڑھ لی:
دوگانۂ طواف مکروہ وقت میں (یعنی صبح صادق کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے اور عصر کی نماز کے بعد) پڑھنا مکروہ ہے، اگر کسی نے ان اوقات میں پڑھ لی تو اعادہ بہتر ہے۔( الغنیة: ص: ۱۱۷)
عین طلوع، غروب یا زوال کے وقت نماز پڑھنا:
اگر کسی نے عین طلوعِ آفتاب یا زوال یا غروب کے وقت طواف کی نماز شروع کر لی تو اس کا اعتبار نہیں، نماز توڑ دے اور مکروہ وقت گزرنے کے بعد پڑھے، اگر ان اوقات میں نماز پڑھ لی تو اس کا اعادہ لازم ہے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۵)
دوگانۂ طواف پڑھے بغیر دوسرا طواف شروع کر دیا:
اگر کوئی دوگانۂ طواف پڑھنا بھول جائے اور دوسرا طواف شروع کر دے تو اگر ایک چکر پورا کرنے سے پہلے یاد آجائے تو طواف کو چھوڑ کر نماز پڑھے اور اگر ایک چکر پورا کرنے کے بعد یاد آئے تو طواف نہ چھوڑے۔ طواف پورا کرنے کے بعد دونوں طوافوں کی الگ الگ نماز پڑھ لے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۵)
اکثر طواف کر لیا تو دوگانہ واجب ہے:
اگر کسی نے کسی طواف کے چار چکر پورے کر لیے، پھر کسی عذر سے باقی طواف پورا نہ کر سکا تو اس پر بھی دو گانۂ طواف واجب ہے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۶)
دوگانۂ طواف جماعت سے اداء کرنا:
دوگانہ طواف ہر شخص پر الگ الگ ادا کرنا لازم ہے، جماعت سے پڑھنا درست نہیں2 اگر چہ سب نے ایک قسم کا (مثلاً عمرہ کا) طواف کیا ہو۔
دو رکعت سے زائد پڑھنا:
طواف کے بعد دو رکعت سے زیادہ بھی پڑھی جا سکتی ہے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۵)
مسائلِ رَمل
رَمل کا طریقہ:
جس طواف کے بعد سعی ہوتی ہے اس میں اوّل کے تین چکروں میں رَمل بھی ہوتا ہے اور جس کے بعد سعی نہیں اس میں رَمل نہیں ہوتا۔ رَمل یہ ہے کہ جھپٹ کر تیزی سے چلے، زور سے قدم اٹھائے، قدم نزدیک نزدیک رکھے اور مونڈھوں کو خوب پہلوانوں کی طرح ہلاتا ہوا چلے۔( الدر المحتار : ۳/ ۵۸۳ )
ہجوم کی وجہ سے رَمل ممکن نہ ہو تو؟
اگر ہجوم اتنا زیادہ ہو کہ نظر آرہا ہو کہ رَمل نہ کر سکے گا تو طواف شروع نہ کرے، بلکہ ہجوم کم ہونے تک طواف کو موخر کرے۔ جب ہجوم کم ہو جائے تو طواف رَمل کے ساتھ شروع کرے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۴)
اگر طواف رَمل کے ساتھ شروع کیا اور اتنا ہجوم ہو گیا کہ رَمل نہیں کر سکتا تو رَمل موقوف کر دے اور طواف پورا کرے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۴)
رَمل کرنا بھول گیا:
اگر رَمل کرنا بھول گیا اور ایک چکر کے بعد یاد آیا تو صرف دو میں رَمل کر لے اور اگر پہلے تین چکروں کے بعد یاد آئے تو پھر رَمل نہ کرے کیونکہ جس طرح پہلے تین چکروں میں رَمل سنت ہے اسی طرح آخری چار میں رَمل نہ کرنا بھی سنت ہے، ورنہ دونوں سنتوں کا تارک شمار ہوگا۔ (الشامیة: ۳/ ۵۸۴)
ساتوں چکروں میں رَمل کر لیا:
سارے طواف (یعنی ساتوں چکروں میں) رَمل کرنا مکروہ ِ تنزیہی ہے، لیکن کرنے سے کوئی جزاء واجب نہ ہوگی۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۴)
مریض اور رَمل:
کسی مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے اگر رَمل نہیں کر سکتا تو کچھ حرج نہیں۔( الغنیة: صـ ۱۰۴)
بیت اللہ کی قربت یا رَمل؟
طواف میں بیت اللہ شریف کے قریب چلنا افضل ہے، لیکن اگر قریب ہو کر رَمل نہ کر سکتا ہو تو پھر فاصلہ سے رَمل کے ساتھ طواف کرنا افضل ہے،( الغنیة: صـ ۱۰۴) بیت اللہ کے قریب کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو تکلیف دینا گناہ ہے۔ اس سے اِجتناب لازم ہے۔
طواف کے پھیروں میں کمی زیادتی کے مسائل
آٹھواں چکر بھی کر لیا:
اگر کسی نے آٹھواں چکر بھی کر لیا اور اسے معلوم تھا کہ یہ آٹھواں چکر ہے تو پھر چھ چکر اور ملا کر پورا طواف کرنا واجب ہے، گویا اب دو طواف ہو جائیں گے۔
اگر آٹھواں چکر کیا اور گمان یہ تھا کہ یہ ساتواں ہے، لیکن بعد میں یاد آیا کہ آٹھواں ہے تو پھر دوسرا طواف لازم نہیں۔( الدرالمحتار: ۳/ ۵۸۱)
واجب طواف کے چکروں کے عدد میں شک ہو جائے تو؟
اگر فرض یا واجب طواف کے چکروں میں شک ہو جائے تو جتنے چکروں کا یقین ہو اتنے ہی شمار کرے، باقی کا اعادہ کرے۔ واضح رہے کہ اس بارے میں غالب گمان پر فیصلہ کرنا درست نہیں، مثلاً تین چکر کرنے کا یقین ہے، چوتھا چکر کیا یا نہیں؟ اس بارے میں شک ہے، اگر چہ ظن غالب ہو کہ کر لیا ہے تو اس صورت میں چار چکروں کا اعادہ لازم ہے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۲)
سنت طواف کے چکروں میں شک ہو جائے تو؟
اگر سنت یا نفل طواف کے چکروں میں شک ہو جائے تو اپنے غالب گمان کے مطابق فیصلہ کرے، اگر غالب گمان ہو کہ چار چکر کر لیے ہیں تو چار ہی شمار کرے اور بقیہ تین چکر پورے کر کے طواف مکمل کرے۔ (الشامیة: ۳/ ۵۸۲)
دوسرا بتائے کہ آپ نے کم چکر لگائے تو؟
اگر کوئی عادل شخص طواف کرنے والے کے ساتھ ہو اور وہ چکروں کی تعداد کم بتائے تواس کے قول پر احتیاطاً عمل کرنا مستحب ہے اور اگر دو عادل شخص بتا دیں تو ان کے قول پر عمل کرنا واجب ہے۔ الا یہ کہ اسے یقین ہو کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں تو پھر ان کے کہنے پر عمل کرنا لازم نہیں۔ (الشامیة: ۳/ ۵۸۲)
آب ِ زَم زَم سے متعلق اَحکام
زَمزم خوب پئے:
زَمزم کو دیکھنا اور پینا ظاہری و باطنی امراض سے شفاء کے ساتھ ساتھ بذاتِ خود ایک عبادت اور مستحب امر ہے، لہٰذا اس سے استفادہ کرنے میں کمی نہ کی جائے، بلکہ خوب جی بھر کے پینا چاہیے۔( الغنیة: صـ: ۱۴۰)
زَمزم سے وضو اور غسل:
آبِ زمزم سے بے وضو شخص کے لیے وضو کرنا اور جنب کے لیے غسل کرنا جائز ہے، البتہ اس سے استنجاء کرنا، ظاہری نجاست اور گندگی دھونا مکروہ و ناجائز ہے۔( الغنیة: صـ: ۱۴۰،۱۴۱)
زَمزم ساتھ لے جانا:
زَمزم ساتھ لے جانا اور مریضوں کو پلانا مستحب ہے،( الشامیة: ۴/ ۶۱) زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے بھی پیا جائے اس میں کار آمد ہے۔
مسائل متفرقہ
معذور کو اُٹھا کر طواف کرانے کی اُجرت:
مریض اور معذور خود طواف نہ کر سکتا ہو اور اسے کسی مزدور کی ضرورت ہو جو اسے کندھے پر اُٹھا کر یا وہیل چیئر پر سوار کر کے طواف کروائے تو اس طرح طواف کرنے کی گنجائش ہے اور اُجرت لینا دینا بھی جائز ہے۔( الغنیة: ص: ۱۱۱)
معذور کی طرف سے دوسرے کی نیت کا حکم:
اگر معذور بے ہوش نہیں تھا، اس نے خود طواف کی نیت کر لی تو طواف ہو گیا اور اگر بے ہوش تھا تو طواف نہیں ہوا، البتہ اگر اسے اٹھانے والے نے اس کی طرف سے نیت کر لی تو اس بیہوش کا طواف ہو جائے گا اور اُٹھانے والے نے اپنی نیت بھی کی تو اس کا طواف بھی ہو جائیگا۔( الغنیة: ص: ۱۱۱)
طواف میں محاذاة مضر نہیں:
طواف میں اگر عورت مرد کے ساتھ ہو جائے تو طواف فاسد نہیں ہوتا نہ مرد کا نہ عورت کا۔
معذور کا وضو اور طواف:
معذور شخص جس کا وضو نہیں ٹھہرتا یا کوئی زخم جاری ہے، اس کا وضو چونکہ صرف نماز کے وقت تک رہتا ہے، نماز کا وقت نکلنے کے ساتھ ہی وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے اگر چار چکروں کے بعد نماز کا وقت نکل جائے تو دوبارہ وضو کر کے طواف پورا کر لے اور اگر چار چکروں سے کم کیے ہیں تب بھی دوبارہ وضو کر کے پورا کر سکتا ہے لیکن چار چکر سے کم کی صورت میں شروع سے پورا طواف کرنا افضل ہے۔( الشامیة: ۳/ ۵۸۲)
طواف مسجد ِ حرام سے باہر کرنا:
مسجد ِ حرام سے باہر نکل کر طواف کرے گا تو طواف نہیں ہوگا۔( الدرالمحتار: ۳/ ۵۸۲)
طواف میں ذکر و دعا تلاو ت سے افضل ہے:
طواف میں دعا مانگنا یا ذکر کرنا قرآن پڑھنے سے افضل ہے، لیکن دعا میں ہاتھ نہ اٹھائے۔( الدرالمحتار: ۲/ ۴۹۷)
خواتین کا ہجوم میں طواف کرنا:
عورتوں کو مردوں کے ساتھ مل کر طواف کرنا اور خوب دھکم دھکا کرنا جیسا کہ اکثر عورتیں آج کل کرتی ہیں حرام ہے۔ عورتوں کو رات یا دن کو ایسے وقت طواف کرنا چاہیے کہ مردوں کا ہجوم نہ ہو اور طواف میں مردوں سے جہاں تک ہو سکے علیحدہ رہنا چاہیے۔
تنبیہ:
اگر کسی ضرورت کی وجہ سے ہجوم میں طواف کر نے کی ضرورت پیش آجائے مثلاً اگر طوافِ زیارت یا اور کسی طواف میں عورت تاخیر کرتی ہے تو حیض آنے کا اندیشہ ہے یا طوافِ زیارت کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہے یا وطن واپسی کے ٹکٹ ہو گئے ہیں اور روانگی کا وقت قریب ہے تو ایسے وقت میں لازم ہے کہ مطاف کے کنارے پر یا مسجد کی پہلی یا دوسری منزل پر یا چھت پر طواف کرے، تاکہ جتنا ممکن ہو ازدحام سے بچ سکے۔( الدرالمحتار: ۳/ ۶۳۰)
مفتی محمد
رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی


