| 84286 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
زید ارطغرل ڈرامہ دیکھنے کا عادی تھا،اس نے اس عادت کو چھوڑنے کی کافی کوشش کی ،لیکن کامیاب نہ ہوسکا،آخرمیں اس نے یہ الفاظ کہہ دیے:۔
"اگر میں پھر یہ ڈرامہ دیکھوں تو جو عورت بھی میرے نکاح میں آئے اس کو تین طلاق یا وہ مجھ پر تین طلاق کے ساتھ طلاق ہو"اس کے بعد زید وہ ڈرامہ دیکھ چکا ہے ،اب زید کی شادی قریب ہے ،تو سوال یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ کہنے کا کیا حکم ہے؟اور زید کے نکاح وطلاق کا کیا حکم ہے؟نیز زید کے لیے جائز متبادل صورتیں بھی بیان فرمائیں،تاکہ اس کا رشتہ برقرار رہ جائے اور خاندان میں فساد پیدا نہ ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب اجنبی عورت کی طلاق کو نکاح کی طرف نسبت کرکے کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تواس شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے،اس لیے موجودہ صورت میں اگر سائل خود یا اس کی وکالت کے ساتھ کوئی اور اس کا نکاح کرائے گا تو نکاح کے ساتھ ہی تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اور بیوی حرام ہوجائے گی۔
البتہ جو لفظ عموم اور تکرار فعل پر دلالت کرتا ہو ،اگر اس کو شرط میں ذکر نہ کیا جائے،بلکہ عموم اسماء پر دلالت کرنے والا لفظ ذکر کیا جائے توایسی صورت میں افراد یعنی منکوحہ کے لحاظ سے تو حکم میں عموم ہوگا،لیکن شرط میں عموم اورتکرار ثابت نہیں ہوگا،جس کی وجہ سے جزا میں بھی عموم نہیں آئے گا ،اس لیے یہ حکم ایک دفعہ کے نکاح کرنے کے بعد پورا ہوجائے گا،دوبارہ اسی خاتون یا کسی اور خاتون سے نکاح کرنے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اگر آپ اس رشتے کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے کسی اور خاتون سے خفیہ نکاح کرلیں،تاکہ یہ قسم وہاں پوری ہوجائے،پھر اس خاتون سے نکاح کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اسی طرح اگر قسم کھانے والے شخص کا نکاح کوئی فضولی شخص(کوئی تیسرا شخص جسے اس نے نکاح کا نہ کہا ہو،نہ اسے نکاح کرانے کی ولایت حاصل ہو) کروائے اور قسم کھانے والا اپنے فعل سے ،مثلا:مہر دےکر یا بیوی کے پاس جاکراجازت دیدے، تو وہ حانث نہیں ہوگا اور طلاق واقع نہ ہوگی۔
حوالہ جات
وفی الھندیة(1/415):
"ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما، ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت ، لأنها تقتضي العموم والتكرار، فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين، فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما ،لأنها توجب عموم الأفعال."
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 364):
"إذا علّق طلاق امرأته بفعل إن حصل التعليق بكلمة إن وإذا وإذا ما ومتى ومهما، فهذا على مرّة واحدة، حتّى لو فعلت ذاك الفعل مرّة وقع الطلاق، ولو فعلت ذلك الفعل مرّة أخرى لا يقع الطلاق، وإن حصل التعليق بكلمة كلّما فكلّما تكرّر ذلك الفعل يتكرّر الطلاق حتّى يستوفي طلاق الملك الذي حَلف عليه، ثمَّ يبطل اليمين ."
وفی الشامیة(3/846):
"(كل امرأة تدخل في نكاحي) أو تصير حلالا لي (فكذا فأجاز نكاح فضولي بالفعل لا يحنث) بخلاف كل عبد يدخل في ملكي فهو حر فأجازه بالفعل حنث اتفاقا، لكثرة أسباب الملك،عمادية.
(قوله لا يحنث) هذا أحد قولين قاله الفقيه أبو جعفر ونجم الدين النسفي، والثاني أنه يحنث وبه قال شمس الأئمة والإمام البزدوي والسيد أبو القاسم وعليه مشى الشارح قبيل فصل المشيئة، لكن رجح المصنف في فتاواه الأول، ووجهه أن دخولها في نكاحه لا يكون إلا بالتزويج. فيكون ذكر الحكم ذكر سببه المختص به فيصير في التقدير كأنه قال: إن تزوجتها، وبتزويج الفضولي، لا يصير متزوجا، كما في فتاوى العلامة قاسم قلت: قد يقال: إن له سببين: التزوج بنفسه والتزويج بلفظ الفضولي، والثاني غير الأول بدليل أنه لا يحنث به في حلفه لا يتزوج تأمل (قوله لكثرة أسباب الملك) فإنه يكون بالبيع والإرث والهبة والوصية وغيرها بخلاف النكاح كما علمت فلا فرق بين ذكره وعدمه."
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
13/محرم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


