03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا حکم
84310طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

آپ کے سوال کا حاصل یہ ہے:

شادی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرے شوہر کو بچپن سے مرگی کی بیماری ہے ، جس کے لیے وہ روزانہ دوائی کھاتے ہیں ، اگر غلطی سے ناغہ ہو جائے تو دورہ پڑنے لگتا ہے ، کیا اس بیماری کا شادی سے پہلے نہیں بتانا چاہئیے تھا ؟ اور ان دواؤں کی وجہ سےطیش میں آتے ہیں،اور  مجھے بہت مارتے ہیں ،گالی دیتے ہیں  ، میرے ماں باپ کو بھی برا بھلا کہتے ہیں ، اور ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ان دوائیوں کی وجہ سے میرے شوہر  کے منی میں قوت تولید ختم ہوگئی  ، تو ایسے بد مزاج انسان کے ساتھ رہنا ٹھیک ہوگا ؟ اس لئے میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اپنے شوہر سے الگ ہوجاؤں ، لیکن شوہر نے طلاق دینے سے انکار کردیا ،تو میں نے کورٹ سے خلع لے لی ، اور شوہر کو تین مرتبہ نوٹس گیا ، لیکن وہ نہیں گیا ، اور قانون کے مطابق مجھے خلع مل گیا ہے ، اور میں نے اپنی عدت بھی پوری کرلی،لیکن میرے شوہر نے اس خلع نامہ پر سائن نہیں کیا ، اور نہ ہی مجھے طلاق دیاہے، تو کیا ایسے میں میرا خلع شرعا قابل قبول ہوگا؟

وضاحت: سائل نے  فون پر بتایا  کہ مذکورہ شخص بہت زیادہ مارتے تھے، جو قابل برداشت نہیں تھی ، اور انہوں نے اسی بنیاد پر خلع کے لئے دعوی دائر کردیاتھا ، لیکن انہوں نے اس مارپیٹ کو عدالت میں گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کیاہے ، اور عدالت نے اس کے بغیر ہی ہمارے حق میں فیصلہ کردیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ خلع مالی معاملات کی طرح میاں بیوی کے درمیان ایک معاملہ ہے جس کے درست ہونے کے لیے  فریقین کا راضی ہونا  ضروری  ہے ۔ صورت مسئولہ میں شوہر کو عدالت کی طرف سے تین مرتبہ نوٹس بھیجا گیا ، لیکن وہ نہیں گیا ، اس  پر عدالت کا  عورت کے حق میں یک طرفہ خلع کا  فیصلہ دے دینا شرعاً درست نہیں ،لہذا آپ بدستور اپنے شوہرہی کے نکاح میں ہیں،اور شوہر جب ازدواجی تعلقات قائم کرچکا ہے ، لیکن منی میں قوت تولید نہیں ہے ، تو اس  کی وجہ سے نکاح فسخ کرانے کا حق نہیں  ہے ۔ اور اگرآپ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر بالکل  بھی راضی نہیں ہیں ، تو  شوہر کو مال  کی پیشکش کرکے طلاق یا خلع پر راضی کرسکتی ہیں، لیکن اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو سوال میں ذکر کردہ صورت حال کے مطابق اگر  شوہر نے نکاح کرتے وقت اپنی سنگین بیماری چھپائی ہو ، اور دھوکہ دینے کا ارتکاب کیا ہو ، نیز اس بیماری کے نتیجے میں واقعتاً  آپ کے شوہر آپ کو بہت زیادہ مارتے رہتے ہوں  ، اور اس مار  کی وجہ سے جسم پر نشان پڑ جاتے ہوں، اور آپ دونوں  کے درمیان نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ، تو آپ مذکورہ عدالت سے اوپر والی عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کرکے گواہوں  (دو دیانت دار مرد یا ایک دیانت مرد اور دو دیانت دار عورتوں) کے ذریعہ ثابت کر دیں کہ شوہرنے نکاح کے وقت آپ کے ساتھ غلط بیانی کا ارتکاب کیا تھا ، اور اور اس کو مرگی کی بیماری لاحق ہے ، جس کی وجہ سے آپ کو غیر معمولی ضرروحرج کا سامنا رہا ہے ، اور رہتاہے ، نیز اس بیماری کے نتیجے میں وہ  آپ  پر تشدد کرتا ہے، اس کے بعد عدالت کی طرف سے فسخ نکاح کا جو فیصلہ جاری ہو گا وہ شرعاً معتبر شمار ہو گا، اور اس کے ذریعہ آپ دونوں  کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گا۔ اور اگر اوپر والی عدالت میں دعوی دائر کرنا مشکل ہو تو آپ علاقے کے چار پانچ آدمیوں (جماعت المسلمین) کو فیصلہ کے لیے حکم مقررکرلیں، جن میں کم از کم ایک آدمی عالم ہوں، جو نکاح و طلاق وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں، آپ ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کریں ، اور اس مجلس میں  مذکورہ تفصیل  کے مطابق شرعی گواہوں کے ذریعہ ثابت کردیں کہ  شوہر نے اس طرح غلط بیانی سے کام لیاتھا ، اور یہ  کہ شوہر آپ کو مارتا رہتا ہے، یہ حضرات اس گواہی کی بنیاد پر اتفاق رائے سے نکاح فسخ کر دیں تو  بھی نکاح ختم ہو جائے گا، اس کے بعد اس فیصلہ کی تاریخ سے آپ  کی عدت شروع ہو جائے گی، عدت مکمل ہونے کے بعد آپ  دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔

حوالہ جات

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.(بدائع الصنائع : 315/4)

لولم یکن لہٗ ماء ویجامع فلا ینزِلُ لا یکونُ لہا حقُ الخصومۃ،کذا فی النہایۃ. (الفتاوی الھندیۃ :1/525 )

(فلو جب بعد وصوله إليها) مرة (أو صار عنينا بعده) أي الوصول (لا) يفرق لحصول حقها بالوطء مرة" وفي الشامية: (قوله: لحصول حقها بالوطء مرة) وما زاد عليها فهو مستحق ديانة لا قضاء بحر عن جامع قاضي خان، ويأثم إذا ترك الديانة متعنتا مع القدرة على الوطء ط.‌‌(الدر المختار :3/495)

وأشار إلى أنه لو وطئها مرة لا حق لها في المطالبة لسقوط حقها بالمرة قضاء وما زاد عليها فهو مستحق ‌ديانة ‌لا ‌قضاء كما في جامع قاضي خان.(‌‌البحر الرئق :  4/ 135)

أما إذا کان ذلک (أي العیب) بالرجل فلا خیارَ لہا أیضاً إلّا فیما یمنع الوطأَ مثل العنۃ والجبّ في قول أبي حنفیۃ وأبي یوسفؒ وقال محمدؒ: إذا کان بہٖ دائٌ لا یمکنہا المقام معہ مثل الجذام ونحوہ.( شرح لمختصر الطحاوی للجصاص (685 /2:وقول محمد أرجح.(فتح القدیر:2/153)

وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل .(شرح مختصر خليل للخرشي (198/4:

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

10 محرم الحرام1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب