03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا سالی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بیوی کے نکاح پر کوئی اثرپڑتاہے؟
84299جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہم میاں بیوی جب بھی ہم بستری کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اورہم ڈر جاتے ہیں کہ یہ کیا مسئلہ ہے؟ کوئی ہمیں روک رہا ہے؟ پھر ہم ماضی میں دیکھتے ہیں،سوچتے ہیں توایک بات ہمیں پریشان کرتی ہے، اوروہ یہ ہےکہ سات سال پہلے میں اپنی بیوی کی چھوٹی بہن (سالی) کے ساتھ ہنسی مذاق سے آگے بڑھ گیا،وہ غیر شادی شدہ تھی جبکہ میں شادی شدہ تھا اوراس کا بہنوئی تھا ،لیکن آخری تک میرا تعلق رہا، تاہم میں نے اپنی حدودپارنہیں کی،لیکن میری بیوی کو شک ہے کہ میرا ان کےساتھ نکاح قائم نہیں رہا، کیونکہ ایک مرد دو بہنوں کو بیک وقت ساتھ نہیں رکھ سکتاہے تو اسی سلسلے میں آپ سے فتوی درکار ہے کہ اب ہم کیاکریں؟ ہمارے چاربچے ہیں اورمیں اپنی بیوی سے بہت پیارکرتاہوں،بس نفس کے ہاتھوں میں کمزورلمحے کی گرفت میں آگیا تھا اوراحساس ہونے کے بعد میں نے توبہ اوراستغفارکیا لیکن میری ازدواجی زندگی متاثرہے،برائے مہربانی شریعت کی روسے یہ مسئلہ حل کردیں، میں آپ کا مشکور رہوں گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ عمل کی وجہ سےشخصِ مذکوراورسالی دونوں سخت گنہگارہوئے ہیں ان پرلازم ہے کہ صدقِ دل سےتوبہ واستغفارکریں اورآئندہ کے لیے مکمل احتیاط کریں ،تاہم سات سال پہلے کیے ہوئے مذکور عمل کی وجہ  سےشخص  مذکورکے نکاح پرکوئی اثر نہیں پڑا،مذکور میاں بیوی کےلیےشرعاً جنسی تعلق قائم کرناجائزہے، لہذاجنسی کمزوری کی وجہ کوئی اورہوگی جس کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا مناسب ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 34):

وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته .

البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي - (3 / 103):

كما لو وطئ أخت امرأته بشبهة حيث تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة.وفي الدراية عن الكامل لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضة، واستشكله في فتح القدير ولم يبينه، ووجهه: أنه لا اعتبار لماء الزنى ولذا لو زنت امرأة رجل لم تحرم عليه وجاز له وطؤها عقب الزنا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 380):

 وهذا أحد أنواع الاستبراء المستحب ومنها: إذا رأى امرأته أو أمته تزني، ولم تحبل فلو حبلت لم يطأ حتى تضع الحمل، ومنها: إذا زنى بأخت امرأته أو بعمتها أو بخالتها أو بنت أخيها أو أختها بلا شبهة فإن الأفضل أن لا يطأ امرأته حتى تستبرأ المزنية فلو زنى بها بشبهة وجب عليه العدة فلا يطأ امرأته.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/1/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب