| 84380 | کفالت (ضمانت) کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
فریقِ اول قاری عبدالغفور اور قاری محمود..... (خریدار) کا فریقِ دوم شاکر ....... (فروخت کنندہ) کے ساتھ بائیک کا سودا ہوا، بعد میں شاکر نے 34بائیکوں میں سے فریقِ اول کو چھ عدد بائیک دینے کے لیے سید کرم شاہ کو ضامن بننے کا کہا، یعنی فریق اول کو چھ عدد بائیک سید کرم شاہ دے گا،سید کرم شاہ نے اپنی رضامندی اور خوشی سے چھ عدد بائیک دینے کی ضمانت قبول کر لی اور کہا کہ میں فروری 2024ء تک چھ عددبائیک دے دوں گا، اگر میں خدانخواستہ بائیک نہ دے سکا تو چھ بائیکوں کی قیمت550000روپے ادا کرنے کا ضامن ہوں گا، باقی اٹھائیس بائیکوں کی ذمہ داری شاکر پر ہوگی، اب سوال یہ ہے کہ سید کرم شاہ نے اپنی خوشی اور رضامندی سے جو چھ بائیکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تو کیایہ درست ہے اور اب وہ شرعاً ضامن ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر یہ خریدوفروخت نقد ہوئی تھی تو اس صورت میں سید کرم شاہ کا فروخت کنندہ کی طرف سے چھ عدد بائیکوں کا ضامن بننا درست نہیں، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ ضمانت اس چیز کی دی جا سکتی ہے، جو" مضمون بنفسہ "(جس کے ہلاک ہونے کی صورت میں اس کی قیمت واجب ہو) ہو، جبکہ فروخت کی گئی چیز میں اس کی قیمت واجب نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ہلاک ہونے کی صورت میں ثمن (خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان طے شدہ قیمت) واجب ہوتا ہے، اسی لیے بیچی گئی چیز کو فقہ کی اصطلاح میں "مضمون بالغیر" کہا جاتا ہے اور ایسی چیز کی ضمانت لینا شرعاً درست نہیں ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سید کرم شاہ کی طرف سے دی گئی ضمانت کا شرعاً اعتبار نہیں اور نہ ہی بائیکوں کی عدمِ ادائیگی کی صورت میں اس کے ذمہ کسی قسم کی قیمت واجب ہو گی، بلکہ تمام بائیکوں کا ضامن فروخت کنندہ ہی ہو گا۔
البتہ فروخت کی گئی چیز (مذکورہ صورت میں بائیک) کی سپردگی کی ضمانت دینا شرعاً درست ہے، یعنی سید کرم شاہ یوں کہے کہ میں ان بائیکوں کی سپردگی کا ضامن ہوں، اس صورت میں سید کرم شاہ کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ فروخت کنندہ سے بائیک وصول کر کے خریدار کے سپرد کرے، لیکن اگر وہ بالفرض کسی وجہ سے بائیکیں سپرد کرنے سے عاجز آجائے تو اس صورت میں اس پر کسی قسم کا ضمان واجب نہیں ہو گا۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 92) دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "وإذا تكفل عن المشتري بالثمن جاز" لأنه دين كسائر الديون "وإن تكفل عن البائع بالمبيع لم تصح" لأنه عين مضمون بغيره وهو الثمن والكفالة بالأعيان المضمونة وإن كانت تصح عندنا خلافا للشافعي رحمه الله، لكن بالأعيان المضمونة بنفسها كالمبيع بيعا فاسدا والمقبوض على سوم الشراء والمغصوب، لا بما كان مضمونا بغيره كالمبيع والمرهون، ولا بما كان أمانة كالوديعة والمستعار والمستأجر ومال المضاربة والشركة. ولو كفل بتسليم المبيع قبل القبض أو بتسليم الرهن بعد القبض إلى الراهن أو بتسليم المستأجر إلى المستأجر جاز لأنه التزم فعلا واجبا.
اللباب في شرح الكتاب (2/ 158) المكتبة العلمية، بيروت:
(تكفل عن البائع بالمبيع لم يصح) ، لأنه مضمون بغيره - وهو الثمن - والكفالة بالأعيان المضمونة إنما تصح إذا كانت مضمونة بنفسها كالمبيع فاسداً والمقبوض على سوم الشراء والمغصوب.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


