| 84474 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میری شادی کے فورا بعد میرے شوہر نے مجھے گھر کے کاغذات دیتے ہوئے کہا کہ تمہارا حق مہر اسی گھر میں ہے، اب یہ گھر اور کاغذات تمہارے ہیں، اس بات پر میں حلفیہ بیان دے سکتی ہوں، میری شادی کے چودہ سال بعد میرے شوہر کا انتقال ہو گیا، شوہر کے انتقال کے ایک سال بعد یہ گھر قانونی طور پر میرے نام ہو گیا، سوال یہ ہے کہ کیا میں شرعا اس مکان کی مالک بن گئی یا یہ میرے شوہر کی وراثت شمار ہو گی؟
وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ شادی سے پہلے یہ گھر بن رہا تھا، جیسے ہی مکمل ہوا اور رخصتی ہوئی تو شوہر نے کاغذات دے کر یہ گھر مجھے دے دیا اور اس وقت شوہر کا اس گھر میں کوئی سامان موجود نہیں تھا، بلکہ جہیز وغیرہ کا سارا سامان میرا ہی تھا، نیز کسی وارث کی طرف سے اس گھر میں مطالبہ بھی نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق شوہر کے کاغذات دینے اور زبانی طور پر مکان آپ کومکان ہبہ (گفٹ) کرنے سے ہبہ درست اور مکمل ہو گیا، البتہ حق مہر کی رقم بھی اسی میں شامل کر کے انہوں نے دیا تھا، اس لیے حق مہر کی ادائیگی بھی اسی میں شمار ہو گی، لہذا اس وقت سے شرعاً یہ مکان آپ کی ملکیت سمجھا جائے گا، باقی شوہر کے آپ کے ساتھ رہنے سے اس مکان کو ان کے زیرِ استعمال نہیں سمجھا جائے گا، کیونکہ ہبہ کے مکمل ہونے کے بعد ان کا آپ کے ساتھ رہنا شوہر ہونے کی حیثیت سے تھا، نہ کہ مکان کا مالک ہونے کی حیثیت سے۔جیسا کہ اگر کوئی شخص اپنا رہائشی مکان اپنے نابالغ بچے کو ہبہ کرے تو ہبہ درست شمار ہو گا، اگرچہ اس کا سامان اور رہائش بھی اس گھر میں موجود ہو اور اس کی وجہ علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے یہ لکھی ہے کہ باپ چونکہ بچے کا ولی ہے تو باپ کا قبضہ بچے کا قبضہ سمجھا جائے گا اور یہ حکم ہر اس واہب (ہبہ کرنے والا) کا ہے جس کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا) پر فی الجملہ یعنی ادب سکھانے اور کسی کام وغیرہ میں لگانے کی ولایت حاصل ہو، چنانچہ باپ کی عدم موجودگی میں ماں اور بھائی بھی اس میں شامل ہوں گے، اسی طرح ضرورت کے وقت شوہر کو بھی اس حکم میں شامل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ شوہر کو بھی بیوی پر ادب سکھانے اور ملازمت وغیرہ کی اجازت دینے کی فی الجملہ ولایت حاصل ہوتی ہے، اس لیے شوہر کا اس گھر میں رہائش اختیار کرنا اور معمولی سامان جیسے کپڑوں وغیرہ کا موجود ہونا ہبہ کے مکمل ہونے میں شرعاً رکاوٹ نہیں بنے گا، خصوصاً جبکہ شوہر نے زندگی میں اس مکان کے قانونی کاغذات بھی اپنی خوشی سے آپ کے سپرد کر دیے تھے۔
حوالہ جات
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 288) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:
(قوله وهبة الأب لطفلة تتم بالعقد) لأن قبض الأب ينوب عنه وشمل كلامه ما إذا كانت في يد مودع الأب لأن يده كيده بخلاف ما إذا كانت في يد الغاصب أو المرتهن أو المستأجر حيث لا تجوز الهبة لعدم قبضه لأن قبضهم لأنفسهم وشمل ما إذا لم يشهد فإن الإشهاد ليس بشرط لصحتها وما في الكافي للحاكم من إشهاد الأب عليها فللاحتياط للتحرز عن جحوده أو جحود ورثته وشمل ما إذا لم يقبل الأب لأن الأب يتولاه فاكتفى فيه بالإيجاب كبيع ماله من ابنه الصغير وشمل ما إذا كان عبدا آبقا أو أرسله في حاجته فوهبه له قبل عوده فإنها صحيحة وشمل ما إذا كانت دارا مشغولة بمتاع الأب فإنه لا يمنع كما إذا كان ساكنا فيها وأراد بالأب من له ولاية عليه في الجملة فشمل الأم إذا وهبت ولا ولي له ولا وصي وكل من يعوله لوجود الولاية في التأديب والتسليم في الصناعة فدخل الأخ والعم عند غيبة الأب غيبة منقطة إذا كان في عيالهم وإذا علم الحكم في الهبة علم في الصدقة بالأولى وقيد بالطفل لأن الهبة للولد الكبير لا تتم إلا بقبضه ولو كان في عياله كذا في المحيط وأطلق الهبة فانصرفت إلى الأعيان فاستفيد منه أن الأم لو وهبت مهرها لولدها قبل أن تقبضه لا يتم إلا بقبض الولد بعد أن تسلطه عليه كذا في فتاوى قاضي خان.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 86) دار الكتب العلمية، بيروت:
لو كان لرجل دار وفيها أمتعة فوهبها من رجل لا يجوز؛ لأن الموهوب مشغول بما ليس بموهوب فلا يصح التسليم؛ فرق بين هذا وبين ما إذا وهبت المرأة دارها من زوجها وهي ساكنة فيها ولها أمتعة فيها والزوج ساكن معها حيث يصح، والفرق أنها وما في يدها في الدار في يده؛ فكانت الدار مشغولة بعياله، وهذا لا يمنع صحة قبضه.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 242) دار الكتب العلمية، بيروت:
وفي «فتاوي أبي الليث» : وهبت المرأة دارها من رجل هو زوجها وهي ساكنة فيها ولها أمتعة فيها والزوج ساكن معها يصح؛ لأنها مع ما في يدها من الدار في يد الزوج فكانت الدار في يد الواهب معنى فصحت الهبة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


