03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیجیٹل ایموجیز کا حکم
84509جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

حضرت  عرض ہے کہ یہ جو ایموجی ایک دوسرے کو بھیجتےہیں اس کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ موبائل وغیرہ میں استعمال ہونے والی ایموجیز (ایسی تصاویر جو کیفیت کے اظہار کے لیے ہوتی ہیں) ان  میں سے بعض ا یموجیز ایسی ہیں جو نہ جاندار کی  شکل پر مشتمل ہیں اور نہ جاندار کے مشابہ ہیں، جیسے: پھول، فروٹ، بیٹ اوربال وغیرہ، ان ایموجیز کا استعمال بالاتفاق درست ہے۔اورجو ایموجیزجان دارکے چہرے کے علاوہ دیگر اعضاء (مثلاً:ہاتھ ،پاؤں) پر مشتمل ہوں ان کے استعمال کی بھی اجازت ہے۔

البتہ بعض ایموجیز جاندار کے چہرے پر مشتمل ہوتی ہیں  (جیسے دائرے کی شکل میں آنکھ، ناک اور منہ کا خاکہ بناہو) ان کی دو قسمیں ہیں :

پہلی قسم کی ایموجیز اس قدر چھوٹےسائز کی ہوتی ہیں کہ ان کے نقوش غیر واضح ہونے کے باعث ایک کھڑا شخص انہیں آسانی سے نہیں دیکھ سکتا،لہذا یسی ایموجیز کا بھی تصویر کے حکم میں نہ آنے کی  وجہ سے استعمال جائز ہے۔

دوسری  قسم کی ایموجیز قدرے بڑے سائز کی ہوتی ہیں جنہیں بٹ اموجی کہا جاتا ہے۔یہ اگرواضح طور پر جاندار کے چہرے کے اعضاء پر مشتمل ہوں کہ بالکل جاندار کی شکل معلوم ہوتی ہوں ، محض علامتی اشکال نہ ہوں ،تو ایسی ایموجیز عام تصویر کے زمرے میں آتی ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ ان کوبلا ضرورت شرعیہ محض تفریح  کے طورپر استعمال کرنے سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔البتہ ایسی ایموجیز کا پرنٹ نکالنا جائزنہیں۔

حوالہ جات

صحیح البخاری: (باب ما وطئ من التصاویر، رقم الحدیث: 5954، 75/4، ط):

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال: سمعت عبد الرحمن بن القاسم، وما بالمدينة يومئذ أفضل منه، قال: سمعت أبي، قال: سمعت عائشة رضي الله عنها: قدم رسول الله ﷺ من سفر، وقد سترتُ بقرام لي على سهوة لي فيها تماثيل، فلما رآه رسول الله ﷺ هتكه وقال: «أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله» قالت: فجعلناه وسادة أو وسادتين.

و فیہ ایضاً: (باب عذاب المصورين، رقم الحدیث: 5950)

عن عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون»".

رد المحتار: (كتاب الصلاة، 647/1، ط: دار الفکر):

"قال في البحر: وفي الخلاصة: وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا، انتهى. وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاةً لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها ".

عبدالرحمٰن جریر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

30/محرم ا لحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب