| 84528 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
ایک آدمی کمپنی کا کنسلٹنٹ ہے، کمپنی اس کو کنسلٹنسی کے چار جز دیتی ہے، اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ کمپنی کو اچھا سامان اچھی قیمت پر خرید کرکے دے گا۔ یہ کمپنی کا با قاعدہ ملازم تو نہیں ہے، لیکن کمپنی کے لئے سامان جو خریدتا ہے، کمپنی اس کا با قاعدہ معاوضہ دیتی ہے۔ جس سامان کی یہ خریداری کرتا ہے اس سامان کا اس کا اپنا بھی بزنس ہے، کمپنی کے لئے سامان خریدتے وقت یہ اپنا ریٹ بھی خریدنے کے لیے دے اوراپنی طرف سے مارکیٹ ریٹ یا ڈسکاؤنٹ پر اسی معیار اور کوالٹی کی چیزیہ اپنی کمپنی سے اس کمپنی کو بیچے جس کا یہ کنسلٹنٹ ہے، تو آیا اس کے لیے یہ جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ یہ باقاعدہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کے لیے ملازم نہیں ہے، بلکہ ان کو ماہانہ صرف کنسلٹنسی کی فیس کمپنی ادا کرتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگرچہ یہ شخص کمپنی کا باقاعدہ ملازم نہیں ہے، لیکن یہ کمپنی کے لیے اچھے معیار کی چیز خریدنے کا وکیل ہے اور وکیل کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ مالی معاملات میں حقوقِ عقد اسی سے متعلق ہوتے ہیں اور ایسے معاملات کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول بھی بیان فرمایا ہے کہ "الواحد لایتولی طرفی العقد" یعنی ایک شخص عقد (Transaction) کا دونوں جانب سے متولی نہیں بن سکتا، متولی بننے کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص خود ہی فروخت کنندہ یعنی مملک (مالک بنانے والا) اور خریدار متملک (مالک بننے) نہیں بن سکتا اور مذکورہ صورت میں جب یہ شخص اپنی کمپنی کا سامان دوسرے کمپنی کے لیے خریدے گا تواس کا مملک اور متملک بننا لازم آئے گا، جبکہ یہ شریعت کے اصول کے خلاف ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کا اپنی کمپنی کا سامان دوسری کمپنی (جس کے سامان کی خریداری کا یہ شخص وکیل ہے) کو بیچنا جائز نہیں، نیز اس میں تہمت کا شبہ بھی موجود ہے، وہ اس طرح کہ یہ شخص اپنے علم کے مطابق اپنی کمپنی کی چیز کو عمدہ معیار اور مارکیٹ ریٹ کے عین مطابق سمجھ رہا ہو، جبکہ مارکیٹ میں اس معیار سے اچھی چیز موجود ہو یا اسی کوالٹی کی چیز مارکیٹ کے عام ریٹ سے کم قیمت پر دستیاب ہو، کیونکہ مارکیٹ میں بعض اوقات ایک ہی معیار کی چیز کی مختلف قیمتیں چل رہی ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں دوسری کمپنی کا نقصان ہو گا، جبکہ کمپنی اس کو اسی کام کے ماہانہ چارجز دے رہی ہے، اس لیے یہ اپنی کمپنی کی چیز دوسری کمپنی کوشرعاً نہیں بیچ سکتا۔
البتہ اگرمعیار میں فرق نہ ہو اور ریٹ بھی مارکیٹ کے عام ریٹ کے مطابق ہو تو ایسی صورت میں کمپنی کو اطلاع دے کر اس کی اجازت سے اپنی کمپنی کی چیز دوسری کمپنی کو بیچ سکتا ہے اور اس صورت میں دوسری کمپنی کو ہی اصل عاقد یعنی خریدار سمجھا جائے گا۔
حوالہ جات
العناية شرح الهداية (7/ 219) الناشر: دار الفكر، بيروت:
المضارب إذا باع من المتاع شيئا وضمن لرب المال؛ لأن الكفالة التزام المطالبة، وهو ظاهر مما تقدم والمطالبة إليهما: أي إلى الوكيل والمضارب؛ لأن حق القبض للوكيل بجهة الأصالة في البيع بناء على ما هو الأصل أن حقوق العقد ترجع إلى الوكيل.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 251) دار الفكر،بيروت:
واعلم أن كون الواحد لا يتولى طرفي العقد في البيع مخصوص منه الأب يشتري مال ابنه لنفسه أو يبيع ماله منه.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (10/ 160) دار الفكر،بيروت:
(ولو ارتهنه الوصي من نفسه أو من هذين أو رهنا عينا له من اليتيم بحق لليتيم عليه لم يجز) ؛ لأنه وكيل محض، والواحد لا يتولى طرفي العقد في الرهن كما لا يتولاهما في البيع.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
6/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


