| 84556 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
مجھے اپنی قسم کی ساری باتیں یاد نہیں ہیں، یعنی اسی دن میں نے ایک مفتی سے رابطہ کیا تھا اور مجھے یاد نہیں تھا کہ میں نے جب قسم کھائی تھی توکیا الفاظ کہے تھے؟ یعنی میں نے تین طلاق کی بات کی تھی یاصرف ایک طلاق کی بات کی تھی ؟ اور پھر یہ بھی یاد نہیں کہ یہ بات میں نے دو دفع دہرائی تھی یا تین دفعہ،نیز کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ بیوی پرطلاق نہ ہو، اور بہنوئی سے تعلق بھی رکھ سکوں؟ میری پوری دنیا میں کسی سے بول چال بند نہیں ہے، میں کسی کے ساتھ تعلق یا رشتہ داری ختم نہیں کرتا، اس لیے اب یہ میرے لئے بہت بڑامسئلہ بناہواہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے الفاظ کی تعداد میں جب شک واقع ہوجائے تواگرایک عدد پر ظن غالب ہو،اس کے مطابق طلاق شمار ہوگی ورنہ سب سے کم عدد جوکہ یقینی ہے،وہ عدد شمار ہوگا،صورت مسؤلہ میں اگرغالب گمان تین طلاق کے ساتھ مشروط کرنے کاہے تواس صورت میں شرط کے پائے جانے کے وقت تین طلاقیں شمارہوں گی،اگرکسی طرف رجحان نہیں توایک طلاق شمارہوگی۔
تین طلاق سے مشروط کرنے کااگرغالب گمان ہوتواس سے بچنے کے لیے یہ حیلہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ آپ اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دیدیں، اور پھر جب عدت گزر جائے تواس کے بعد آپ خوشی کاکوئی پروگرام رکھ لیں یاپہلے سے کوئی خوشی یاغمی کاموقع ہوتواس میں بہنوئی کوبلالیں اوربات چیت کرلیں ، اس وقت چونکہ آپ کی بیوی نکاح میں نہیں ہو گی اس لیے بہنوئی کے ساتھ بات چیت اورتعلق کی وجہ سے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہو گی، اور آپ کی قسم بھی ختم ہو جائے گی اور شرط لغو ہو جائے گی۔ اور پھر اس کے بعد آپ دوبارہ نکاح کرلیں اوراس کے بعدبہنوئی سے تعلق رکھنے کی وجہ سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،واضح رہے کہ نکاح کے بعد آئندہ آپ کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا ۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 11 / ص 126):
ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل .
( قوله بنى على الأقل ) أي كما ذكره الإسبيجابي ، إلا أن يستيقن بالأكثر أو يكون أكبر ظنه .
وفی الدر المختار للحصفكي (ج 3 / ص 390):
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق، وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچ
۷/صفر ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


