| 84569 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میری شادی میری چچا کی بیٹی کے ساتھ ہوئی، وہ تنہائی پسند لڑکی تھی، گھر کے کام کاج سے اس کو کوئی دخل نہیں تھا، میری والدہ اس کی خدمت کرتی تھی، پھر اس نے علیحدگی کا مطالبہ کیا، ہم علیحدہ رہنے لگے، مگر اس کا مزاج نہ بدلا، اس نے ایک مرتبہ میرے والد صاحب اور بھائیوں کے بارے میں کہا کہ ان میں سے کسی نے میری تین سالہ بچی کے ساتھ نعوذ باللہ زیادتی کی ہے، جب تحقیق کی گئی تو کہنے لگی مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا؟ پھر اس کے سب گھر والوں نے ہم سے معذرت کی، جبکہ یہ تہمت لگانے میں اس کی والدہ بھی اس کے ساتھ تھی، پھر اس نے مجھے کہا کہ تم بچی پر غلط نگاہ رکھتے ہو اور یہ بھی کہا کہ تمہارا باہر کسی عورت سے غلط تعلق ہے اور بھی اس طرح کے کئی اختلافی معاملات ہیں،الغرض اس کا میرے ساتھ رویہ جارحانہ رہا، اب وہ اپنے والدین کے گھر بیٹھ گئی ہے اور زبانی طلاق اور خرچہ کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ میرے تین بچے ہیں، بچی کی سات سال، اس سے چھوٹے بیٹے کی چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ڈیڑھ سال ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسی عورت کو مزید کوئی چانس دیا جا سکتا ہے؟ اور اس کو طلاق دینے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی طور پر علیحدگی کے بعد شرعی اعتبار سے بچوں کی پرورش کا سب سے پہلا حق ماں کو حاصل ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ بیٹا سات سال تک ماں کی پرورش میں رہے گا اور بیٹی بالغ ہونے تک ماں کے پاس رہے گی، بشرطیکہ اس دوران ماں بچوں کے کسی غیر محرم رشتہ دار سے شادی نہ کرے اور نہ ہی کوئی ایسی ملازمت اختیار کرے کہ جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت میں خلل واقع ہوتا ہو، ورنہ ماں کا پرورش کا حق ساقط ہو جائے گا۔ لہذااگر ماں بچے کے کسی غیر محرم سے شادی کر لے یا کوئی مستقل ملازمت اختیار کر لے، جس کی وجہ سے دن کا اکثر حصہ باہر رہنا پڑتا ہو اور اس سے بچے کی تربیت میں حرج لازم آتا ہو تو اس صورت میں بچے کی نانی کو پرورش کا حق حاصل ہو گا، اگر وہ نہ ہو تو دادی کو حق ملے گا، وہ نہ ہو توبہن کو، اگر وہ نہ ہو تو خالہ کو اور اگر وہ بھی نہ ہو تو پھوپھی کو حق ملے گا، نیز اگر ان خواتین میں سے کوئی خاتون نہ ہو یا وہ پرورش کے لیے تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں پرورش کا حق باپ کو حاصل ہو گا۔
لہذا اگر یہ خاتون واقعتاً ذہنی طور پر کسی بیماری میں مبتلا ہے اور علاج کرانے پر بھی آمادہ نہیں، جس کے نتیجے میں بچوں کی تربیت خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق بچوں کی پرورش کا حق نانی کو حاصل ہو گا، پھر اسی ترتیب سے خاندان کی دیگر خواتین کو حقِ حضانت حاصل ہو گا، یہ بھی یاد رہے کہ ماں کے پاس پرورش کے دوران بچوں کے کھانے پینے، علاج معالجے اور تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات باپ برداشت کرے گا۔
حوالہ جات
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
11/ صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


