03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ
84602زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

کیازکٰوۃ ہاتھ میں دینا فرض ہے یا پھر مستحق ِزکٰوۃ کو کسی کے ہاتھ زکٰوۃ بھجوا  بھی سکتے ہیں ؟مثال کے طور پر ایک شخص کراچی  میں رہتا ہے  تو کیا  حیدر آباد سے  کسی کے ہاتھ کراچی والے کو زکوٰۃ بھجوا سکتے ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوٰۃ ادا کرنے والا خود اپنے ہاتھ سےمستحق ِ زکوٰۃ کو  زکوٰۃ دے سکتاہے اور کسی کو وکیل بناکر اسی کے ہاتھ بھی بھجواسکتاہےاور اکاؤنٹ وغیرہ کے ذریعے بھی ٹرانسفرکر سکتاہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 171):

إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز. ولو دفعها إلى الذمي ليدفعها إلى الفقراء جاز لوجود النية من الآمر هكذا في محيط السرخسي .

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

13/ صفر /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب