| 84670 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
زید نے عمر سے کہا آپ مجھے ایک لاکھ روپے دیدیں، میں اس سے تجارت کروں گا اور آپ کو ہر ماہ دس ہزار روپے نفع دوں گا۔ کیا یہ معاملہ جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس کی جائز صورت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر زید عمر کی رقم کے ساتھ اپنی رقم بھی شامل کرتا ہے تو یہ شرکت کا معاملہ ہے، اور اگر وہ اپنی رقم شامل نہیں کرتا، صرف عمر کی رقم سے تجارت کرتا ہے تو یہ مضاربت کا معاملہ ہے۔ شرکت اور مضاربت دونوں میں فریقین کے لیے نفع فیصدی تناسب سے طے کرنا ضروری ہے، لم سم رقم کی شکل میں نفع طے کرنا جائز نہیں، اس سے معاملہ فاسد اور ناجائز ہوجاتا ہے۔
لہٰذا مذکورہ معاملے کا جائز متبادل یہی ہے کہ فریقین نفع فیصدی اعتبار سے طے کریں، مثلا زید عمر سے کہے کہ میں آپ کی رقم سے تجارت کروں گا، جو نفع ہوگا اس میں سے پچاس فیصد، یا ساٹھ فیصد آپ کو دوں گا اور پچاس فیصد یا چالیس فیصد میں رکھوں گا۔ اس کے بعد نفع کم ہو یا زیادہ، فریقین کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم ہوگا، اور اگر نفع بالکل نہ ہو تو زید عمر کو کچھ نہیں دے گا۔ اگر کاروبار میں نقصان ہوگا تو شرکت کی صورت میں فریقین اپنے اپنے سرمایہ کے بقدر نقصان برداشت کریں گے، جبکہ مضاربت کی صورت میں سارا نقصان عمر کا شمار ہوگا، الا یہ کہ کسی ایک فریق کے تعدی یا تقصیر کی وجہ سے نقصان ہو تو پھر سارا نقصان وہی فریق برداشت کرے گا۔ نیز شرکت اور مضاربت میں نفع و نقصان کا حقیقی حساب کتاب شرکت کا معاملہ ختم کرتے وقت ہوگا۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
19/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


