03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ کاروبار میں مرحوم والد کے حصے کی وراثت میں آفیشل اور نان آفیشل اثاثوں کی تقسیم
84684میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہماری کمپنی میرے دادا (مرحوم) نے شروع کی تھی، اس کے بعد میرے والد صاحب (مرحوم)، میرے بڑے چچا (تایا) صاحب اور میرے چھوٹے چچا صاحب نے اسے آگے بڑھایا۔ تقریباً دس سال پہلے میرے سب سے چھوٹے چچا صاحب اس کمپنی سے الگ ہو گئے تھے،تقسیم کا طریقہ یہ اپنایا گیا تھا کہ  کمپنی کے تمام اثاثہ  جات  ، جس میں  آفیشل اور نان آفیشل دونوں شامل تھے ، اسے تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ  چھوٹے چچا کو دے دیا گیا تھا۔  اسی طرح کمپنی کی ساکھ (Goodwill ) کی مد میں بھی رقم دی گئی۔

اس کے بعد سے میرے والد صاحب اور میرے  بڑے چچا  آدھے آدھے یعنی 50-50 فیصد کے پارٹنرتھے۔ اب ترتیب یہ ہے کہ جو بھی چیزیں ہماری کمپنی کی ملکیت میں ہیں، یعنی جو دکان وغیرہ  اس کمپنی کے نام ہے، اس میں میرے والد صاحب اور میرے بڑے چچا  50-50 فیصد کے پارٹنر تھے، میرے والد صاحب کی وفات کے بعد ہمارے والد صاحب کا 50 فیصد حصہ تھا، چاہے وہ آفیشل  (وائٹ، اس سے مراد وہ اثاثے ہیں جو ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں اور ان کا  انکم ٹیکس دیا جاتا ہے) ہو یا ان آفیشل! کمپنی کی ملکیت میں تقریباً 10 گاڑیاں تھیں،ایک بڑا دفتر کراچی میں،2 دکانیں لاہور میں، گودام اور اس میں سامان،  جاری سرمایہ وغیرہ۔اب سوالات درج ذیل ہیں:

  1. تقسیم کے سلسلے میں چھوٹے چچا کی  تقسیم کا جو طریقہ ٴکار تھا، کیا میرے والد صاحب کی وفات کے بعد وہی طریقہ کار استعمال کیا جائے گا؟
  2. سال 2000ء میں میرے والد صاحب نے 1000گز کا پلاٹ لیا تھا۔ اس پر انہوں نے گھر تعمیر کروایا، پلاٹ اور گھر کے بننے میں تقریباً 2 کروڑ خرچ ہوئے۔ اس کے بعد چھوٹے چچا کی علیحدگی کے وقت میرے تایا نے بھی وہ پیسہ تقریباً 2 کروڑ کمپنی سے لے لیا تھا۔اب جو گھر انہوں نے اپنے لیے 2024ء میں بنایا ہے وہ تقریباً 25 کروڑ مالیت کا ہے۔ تو وہ 25 کروڑ جو انہوں نے کمپنی سے لیا ہے، کیا وہ تقریباً 25 کروڑ میرے والد صاحب کے حصے میں ڈالنے کے پابند ہیں یا نہیں؟ کیونکہ انہوں نے گھر والد صاحب کی وفات سے پہلے بنایا تھا اور اس میں والد صاحب کی وفات سے پہلے ہی شفٹ بھی ہو گئے تھے۔
  3. لاہور میں ہزار ہزارگز کے دو پلاٹ ہیں، ایک میری والدہ کے نام ہے اور ایک میری چھوٹی  چچی صاحبہ کے نام ہے، دونوں پلاٹوں کی مالیت الگ الگ ہے۔ یہ دونوں پلاٹ کمپنی کی طرف سے مالکانہ طور پر نہیں دیے گئے تھے، اسی لیے ان پلاٹوں کی فائلیں تقریباً 20 سال سے کمپنی کے پاس تھیں اور ان دونوں پلاٹوں کے تمام اخراجات بھی کمپنی دے رہی تھی، جب میرےچھوٹے چچا اس کمپنی سے الگ ہوئے تو چونکہ ایک فائل ان کی بیگم کے نام بھی تھی، جب چھوٹے چچا الگ ہوئے تو فیصلے میں دیر ہوئی تو ہمارےبڑے چچا  نے اس پلاٹ کی مالیت دو دفعہ بڑھائی، کیونکہ اس وقت پلاٹ کی قیمت اوپر جا رہی تھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ یہ دونوں پلاٹوں کی فائلیں ابھی بھی کمپنی کے قبضہ میں ہیں، اس لیے ان دونوں پلاٹوں کی قیمت لگوا کر دونوں کو برابر برابر تقسیم کرنا چاہیے یا  یہ کہ جس کے نام پر جو پلاٹ ہے وہی اس کو دے دیا جائے؟ جبکہ دونوں پلاٹوں کی مالیت میں  کافی فرق ہے۔
  4. میں نے اس کمپنی میں کبھی بھی کوئی کام نہیں کیا، میں صرف اپنے والد صاحب کی وراثت میں سے اپنے  شرعی حصہ کا طلبگار ہوں، اگر میرا کوئی حصہ بنتا ہے تو؟  اسی طرح میرا سب سے چھوٹا بھائی بھی عرصہ دراز سے کمپنی سے الگ کاروبار کرتا ہے، ہم دونوں کا کتنا حصہ ہوگا؟ دیگر ورثاء کا حصہ بھی بتا دیں،  جبکہ ہمارے والد صاحب کا انتقال 2022ء میں ہوا اور وہ عرصہٴ دراز سے اس کاروبار میں کام کر رہے تھے۔

میرے خاندان کی تفصیل: والدہ صاحبہ، دو بڑے بھائی جو کہ کمپنی میں کام کر رہے ہیں، تیسرا میں جو اپنا الگ کام کر رہا ہوں، چوتھامیرا چھوٹا بھائی بھی اپنا الگ کام کر رہا ہے، ہماری  بہن کوئی نہیں ہے۔

  1. میرے بار بار طلب کرنے پر میرے  بڑےچچا نے مجھے اور سب میرے گھر والوں کو آفیشل اثاثوں (اس سے مراد وہ اثاثے ہیں جو ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں اور ان کا  انکم ٹیکس دیا جاتا ہے) کا حصہ چیک  کی صورت میں  دیا ہے اور کہا ہے کہ بس آپ کا یہی حصہ بنتا ہے، جبکہ کمپنی کے اَن آفیشل  اثاثوں کی مالیت کہیں زیادہ ہے،مثلاً جو مال، گودام اور دس بارہ گاڑیاں ہیں اور بھی جو چیزیں کمپنی کی ملکیت میں ہیں ان کی مالیت کہیں زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف وائٹ رقم کے حق دار ہیں یا اَن آفیشل رقم جن کا ہماری کمپنی کے کھاتوں میں پوری طرح ریکارڈ ہے، اس  کے بھی حقدار ہیں؟

وضاحت: ہمارے تایا نے صرف تین تین کروڑ سب کو دیے، والدہ کو ڈیڑھ کروڑ دیے اور ہم سب کا حصہ ختم کر دیا۔ بڑے دونوں بھائی  بیس سال سے اس کمپنی میں کام کر رہے تھے، ان کا سرمایہ نہیں لگا تھا، ان سے کہا گیا تھا کہ  کاروبار میں آپ لوگوں کا حصہ نہیں ہو گا، البتہ آپ دونوں کو ورکنگ یعنی کام کا معاوضہ دیا جائے گا، ابھی تک ان کو یہ معاوضہ نہیں دیا گیا، البتہ  کام کے اس عرصہ کے دوران یہ دونوں والدصاحب اور تایا کہ اجازت سے گھریلو اخراجات وصول کرتے تھے، جیسا کہ والد صاحب اور تایا جی ماہانہ اخراجات بقدر ضرورت وصول کرتے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ اپنے سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:

  1. سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ آپ کے والد صاحب اور آپ کے تایا دونوں آپ کے چھوٹے چچا کے علیحدہ ہو جانے کے بعد مکمل کاروبار میں نصف نصف کے شریک تھے اور گڈول سمیت کاروبار کی ہر چیز فریقین کے درمیان مشترک تھی، اس لیے اب آپ کے والد صاحب کی وفات کے بعد ان کے ورثاء اس کاروبار میں نصف کے حق دار ہیں، لہذا کمپنی کے ذمہ واجب الاداء دیون(Libilities) ادا کرنے کے بعد گڈول سمیت کاروبار کے مکمل اثاثہ جات (آفیشل ہوں یا  ان آفیشل) کی ماہرین سے قیمت لگوائی جائے جس کو فقہ کی اصطلاح میں تنضیض حکمی کہتے ہیں اور پھر باہمی رضامندی سے ایک فریق دوسرے فریق کا حصہ نصف قیمت کے عوض خریدنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔
  2. اگر آپ کے تایا آپ کے والد صاحب کے گھر بنانے کے عوض کمپنی سے دو کروڑروپے وصول کر چکے ہیں تو اس صورت میں اب انہوں نےاپنےلیے جو پچیس کروڑ روپیہ کا گھر بنایا ہے اس کی قیمت کمپنی کے مشترکہ کھاتہ سے وصول کرنا جائز نہیں، بلکہ کاروبار کی تقسیم کے وقت یہ رقم ان کے حصہ سے کاٹی جائے گی، گویا کہ وہ اپنے حصہ کی اتنی رقم مشترکہ کاروبار سے وصول کر چکے ہیں۔
  3. سوال میں تصریح کے مطابق لاہور میں ہزار ہزارگز کے پلاٹ چونکہ آپ کی والدہ اور آپ کی چچی کو مالکانہ طور پر نہیں دیے گئے تھے، اسی لیے ان کی فائلیں کمپنی کے پاس تھیں اور کمپنی ہی ان کے اخراجات برداشت کر رہی تھی، اس لیے یہ پلاٹ آپ کی والدہ اور چچی کی ملکیت شمار نہیں ہوں گے، بلکہ یہ بھی دیگر اثاثہ جات کی طرح  کمپنی کا مشترکہ اثاثہ شمار ہو گا اور آپ کے والد اور تایا دونوں اس میں برابر کے شریک سمجھے جائیں گے، لہذا اب آپ کے والدصاحب کی وفات کےبعد کاروبار کی تقسیم میں دیگر اثاثہ جات کی طرح  ان پلاٹوں کی مالیت کو بھی شامل کیا جائے گا، نیز دونوں پلاٹوں کی مالیت میں چونکہ فرق ہے اس لیے جس خاتون کے نام جو پلاٹ ہے وہ اسی کا ہو جائے ایسا نہیں ہو گا۔
  4. مذکورہ کاروبار سمیت آپ کے والد مرحوم نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کو دینے کے بعد باقی ترکہ  آپ چاروں بھائیوں میں برابر تقسیم ہو گا، لہذا  مرحوم سے متعلق پیچھے ذکر کیے گئے تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ کو بتیس (32) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحوم کی بیوی کو چار (4) حصے اور ہرہر بیٹے کو سات (7) حصے دیے جائيں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

4

12.5%

2

بیٹا

7

21.875%

3

بیٹا

7

21.875%

4

بیٹا

7

21.875%

5

بیٹا

7

21.875%

 

 

 

 

 

 

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ کاروبار آپ کے والدصاحب اور تایا کے درمیان مکمل طور پر مشرک تھا، اس لیے آپ کے تایا کا آپ لوگوں کو تین تین کروڑ  اور آپ کی والدہ کو ڈیڑھ کروڑ روپیہ دے کر فارغ دینا ہرگز جائز نہیں، بلکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کاروبار کے  آفیشل اور ان آفیشل تمام اثاثہ جات کی قیمت لگوا کر آپ کے والد صاحب کا  مکمل شرعی حصہ آپ لوگوں کے سپرد کرے،  نیز آپ کے جن دو بھائیوں نے کاروبار میں بیس سال تک کام کیا ہے ان کو بھی معاہدہ کے مطابق ان کے کام کا معاوضہ یعنی اجرتِ مثل (اس طرح کا کام کرنے پر معاشرے میں ماہانہ جو اجرت دی جاتی ہو) دینا ضروری ہے، باقی جو انہوں نے اخراجات وصول کیے ہیں وہ اگر کمپنی کے ملازم ہونے کی وجہ سے تبرعاً دیے جاتے تھے تو کمپنی کو وہ واپس لینے کا حق حاصل نہیں،  جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے۔ البتہ اگر اخراجات دیتے وقت یہ تصریح کی گئی ہو کہ یہ اخراجات کی مد میں دی جانے والی رقم قابلِ واپسی ہو گی تو اس صورت میں یہ رقم ان کی اجرتِ مثل سے منہا کی جا سکتی ہے۔

نوٹ: قرآن وسنت میں کسی کانا حق مال دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں  اور  حرام مال کی نحوست کا اثر انسان کی دنیوی زندگی پر بھی پڑتا ہے، باقی آخرت کا وبال اس کے علاوہ ہے، اس لیے آپ کے تایا پر لازم ہے کہ وہ شریعت کے مطابق کاروبار تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا شرعی حق دے، تاکہ دنیا میں سکون ملے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخرو ہو سکے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 254)قديمي كتب خانه آرام باغ كراتشي:

المادة (1329) شركة العقد عبارة عن عقد شركة بين اثنين أو أكثر على كون رأس المال والربح مشتركا بينهم.

المادة (1330) ركن شركة العقد الإيجاب والقبول لفظا أو معنى. مثلا إذا أوجب أحد بقوله لآخر: شاركتك بكذا درهما رأس مال للأخذ والإعطاء وقبل الآخر بقوله قبلت فبما أنهما إيجاب وقبول لفظا فتنعقد الشركة , وإذا أعطى أحد ألف درهم لآخر وقال له: ضع أنت ألف درهم عليها واشتر مالا وفعل الآخر مثل ما قال له فتنعقد الشركة لكونه قبل معنى.

 مجلة الأحكام العدلیۃ (ص:269، المادة :1398) قديمي كتب خانه آرام باغ كراتشي:

 (إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا، كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيه۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 421):

اذا عمل أحد في صنعة هو وابنه الذي في عياله واكتسبا أموالا ولم يكن معلوما أن للابن مالا سابقا فكافة الكسب لذلك الشخص ولا يكون لولده حصة في الكسب بل يعد ولده معينا وليس له طلب أجر المثل حتى أنه لو تنازع الأب في المتاع الموجود في بيته مع أولاده الخمسة الذين يقيمون معه في ذلك البيت وادعى كل منهم أن المتاع له فالمتاع للأب ولا يكون للأولاد غير الثياب التي هم لابسوها (التنقيح) ما لم يثبتوا عكس ذلك ويوجد ثلاثة شروط لأجل اعتبار الولد معينا لأبيه:

1- اتحاد الصنعة، فإذا كان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فكسب الأب من المزارعة والابن من صنعة الحذاء، فكسب كل منهما لنفسه وليس للأب المداخلة في كسب ابنه لكونه في عياله.۔۔۔۔۔۔ 2 - فقدان الأموال سابقا. إذا كان للأب أموال سابقة كسبها ولم يكن معلوما للابن أموال بأن ورث من مورثه أموالا معلومة فيعد الابن في عيال الأب3- أن يكون الابن في عيال أبيه، أما إذا كان الأب يسكن في دار والابن في دار أخرى وكسب الابن أموالا عظيمة فليس للأب المداخلة في أموال ابنه بداعي أنه ليس للابن مال في حياة أبيه.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 94) دار المعرفة،بيروت:

(سئل) في إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالا فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا؟

(الجواب) : ما حصله الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا.

حاشية ابن عابدين (5/ 690) دار الفكر-بيروت:

أن الصريح أقوى من الدلالة.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 17) دار الكتب العلمية، بيروت:

 ولو مات أحد الشريكين انفسخت الشركة علم الشريك بموته أو لم يعلم، ولو كان الشركاء ثلاثة؛ مات واحد منهم حتى انفسخت الشركة في حقه؛ لا ينفسخ في حق الباقين.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (7/ 5136) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

يستحق الربح بالظهور، ويملك بالتنضيض أو التقويم ولا يلزم إلا بالقسمة. وبالنسبة للمشروع الذي يدر إيرادا أو غلة فإنه يجوز أن توزع غلته. وما يوزع على طرفي العقد قبل التنضيض (التصفية) يعتبر مبالغ مدفوعة تحت الحساب.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب