| 84711 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
میں ایک نیم سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں، ہمارا ادارہ ایسے ملازمین کو جو دس سال مدت ملازمت پوری کر لیں انہیں انٹرسٹ فری ہاؤس بلڈنگ لون کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو کہ ماہانہ آسان اقساط میں کٹوتی کے ذریعے واپس وصول کیا جاتا ہے۔ کچھ سالوں سے اس لون (قرض) کو کمپنی نے انشورنس کروا دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قرض کی پوری اقساط کی ادائیگی سے پہلے ملازم فوت ہو جائے تو کمپنی ملازم کے پسماندگان سے بقایا جات وصول نہیں کرے گی، تاکہ ان پر مالی بوجھ نہ بنے، اس کے لیے کمپنی تمام قرض لینے والے ملازمین سے ماہانہ قسط کے علاوہ ایک معمولی سی رقم بھی کاٹتی ہے، جسے پریمیم(Premium) کہا جاتا ہے، یہ اضافی رقم انشورنس کمپنی کی فیس ہے۔بہر صورت اس اضافی رقم کی کٹوتی کا مقصد ایک ہی ہے جو اوپر بیان کیا ہے۔ یعنی فوت شدہ ملازم کے گھر والوں کا بوجھ کم کرنا۔برائے مہربانی اس معاملے میں یہ رہنمائی فرما دیں کہ کیا یہ قرض لینا جائز ہے؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ ہم جب قرض لے لیتے ہیں تو ادارہ ہماری تنخواہ سے قرض کی قسط کے علاوہ ہزار یا ڈیڑھ ہزار روپیہ اضافی کاٹ کر انشورنس کمپنی کو جمع کرواتی ہے، پھر ملازم کے فوت ہونے پر اس کے ورثاء سے بقیہ رقم لینے کی بجائے ادارہ انشورنس کمپنی سے وصول کر لیتا ہے۔ نیز کمپنی نے اپنی مرضی سے اس قرض کی پالیسی کو انشورڈ کروایا ہے، ملازم کو اس میں کوئی اختیار نہیں، البتہ انٹرسٹ فری ہاؤس بلڈنگ لون لینے اور نہ لینے میں ملازم بااختیار ہوتا ہے اور انشورنس کی پالیسی انہی ملازمین کے لیے لی جاتی ہے جو قرض کی سہولت لیتے ہیں، یہ اضافی رقم صرف قرض لینے والے ملازمین کی تنخواہوں سے ہی کاٹی جاتی ہے اور یہ کٹوتی جبری ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکی گئی صورتِ حال کے مطابق اگرچہ ملازم کا انشورنس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن چونکہ ملازم ہاؤس بلڈنگ یعنی گھر بنانے کے لیے ادارے سے اپنی مرضی سے قرض لیتا ہے اور اسی قرض کی وجہ سے اس کی تنخواہ سے قسط کے علاوہ اضافی رقم کاٹی جاتی ہے، جو انشورنس کمپنی کو بطور پریمیم ادا کی جاتی ہے، اس لیے مذکورہ معاہدے کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: پہلی صورت یہ کہ قرض لیتے وقت معاہدے میں تصریح ہو کہ ملازم کی تنخواہ سے دو قسم کی رقم کاٹی جائے گی: ایک قرض کی ادائیگی کے لیے طے شدہ قسط اور دوسری انشورنس کمپنی کی فیس ادا کرنے کے لیے پریمیم۔ اس كے باوجود اگر ملازم اس معاہدے پر دستخط كرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس نے اپنے اختیار سے ادارے کو انشورنس کروانے کا وکیل بنایا، کیونکہ سوال میں تصریح کے مطابق ادارہ صرف انہی لوگوں کی طرف سے انشورنس کی پالیسی لیتا ہے جو ادارے سے قرض کی سہولت لیتے ہیں، اور ادارے کا ملازم کی طرف سے وکیل بن کر انشورنس کی پالیسی لینا جائز نہیں، کیونکہ انشورنس کمپنی کے ساتھ کیا گیا معاملہ سود اور جوئے پر مشتمل ہوتا ہے او یہ دونوں چیزیں شریعت کی رُو سے حرام اور ناجائز ہیں، لہذااس صورت میں ملازم کا ادارے سے گھر بنانے کے لیے قرض لینا جائز نہیں۔
دوسری صورت: دوسری صورت یہ کہ قرض کے معاہدے میں انشورنس کمپنی کو ادا کی جانے والی فیس کا ذکر نہ ہو، بلکہ کمپنی اپنی مرضی سے ملازم کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے انشورنس کمپنی کو فیس یعنی پریمیم ادا کرے تو یہ کمپنی کا ذاتی فعل ہو گا، ملازم کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو گا اور نہ ملازم کے معاہدہ پر دستخط کرنے سے ادارے کا اس کی طرف سے وکیل بننا لازم آئے گا، کیونکہ معاہدے میں انشورنس کمپنی کو فیس ادا کرنے کا ذکر نہیں، لہذا اس صورت میں ملازم کے لیے ادارے سے قرض لینا جائز ہو گا، باقی اس صورت میں انشورنس کی بنیاد پر جو بقیہ رقم ساقط ہو گی، وہ حقیقت میں ملازم کے ورثاء کے لیے ادارے کی طرف سے تبرع سمجھا جائے گا، کیونکہ ملازم کا معاہدہ صرف ادارے سے ہی ہوا تھا، انشورنس کمپنی کا ملازم نہیں کوئی تعلق نہیں تھا، اس لیے بقیہ رقم معاف ہونا ادارے کا احسان شمار ہو گا۔
البتہ یہ یاد رہے کہ مذکورہ بالاتفصیل ملازم کے قرض لینے سے متعلق ہے، جہاں تک ادارے کا تعلق ہے تو ادارے کی انتظامیہ بہردوصورت انشورنس کمپنی سے سود اور جوئے پر مبنی معاملہ کرنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہے، اس لیے ادارے پر لازم ہے کہ انشورنس کمپنی سے اس طرح پالیسی لینا بند کرے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


