| 84698 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میری بہن بلقیس بانو عالمہ تھیں، اس کا ذاتی گھر تھا جس میں وہ مدرسہ چلاتی تھی، وہ اپنا گھر مدرسہ کے لیے وقف کرنا چاہتی تھی، لیکن اس صورت میں وہ اور میرے بہنوئی اس گھر میں نہیں رہ سکتے تھے، اس لیے میری بہن نے اپنا مکان میرے نام ٹرانسفر کرایا اور مجھے وصیت کی کہ ہمارے مرنے کے بعد یہ مدرسے کے لیے وقف کردینا۔ ٹرانسفر کرانے کا مقصد میری ملکیت بنانا نہیں تھا۔ میری بہن کا پچھلے سال رجب میں، جبکہ بہنوئی محمد سلطان کا اس کے دو ماہ بعد رمضان میں انتقال ہوگیا ہے۔ ابھی اس گھر میں مدرسہ چل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ گھر بلقیس بانو کی وراثت میں شامل ہوگا یا نہیں؟ کیا اس گھر کو بیچ کر وہ پیسے کسی اور مدرسے یا مسجد میں دے سکتے ہیں یا نہیں؟ میں چاہتی ہوں کہ اپنی زندگی میں یہ مسئلہ حل کرلوں۔
یہ گھر بلقیس بانو کے مجموعی ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ مالیت کا ہے؛ کیونکہ اس کی مالیت 70 سے 80 لاکھ کے درمیان ہوگی، اس گھر کے علاوہ ان کی دو دکانیں ہیں، ایک دکان کی مالیت تقریبا 45 سے 50 لاکھ تک ہوگی، دوسرے دکان کی شاید پانچ لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ ہو، ایک پلاٹ ہے، اس کی قیمت تقریبا 2 سے 3 لاکھ تک ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید دو نکات سمجھنا ضروری ہے:
- انسان کو اپنے مال کی ایک تہائی حد تک وصیت کرنے کی اجازت ہے، ایک تہائی سے زیادہ وصیت پر عمل کرنا ورثا پر لازم نہیں، البتہ اگر تمام ورثا عاقل بالغ ہوں اور وہ ایک تہائی سے زیادہ وصیت پر بھی عمل کرنا چاہیں تو یہ درست ہے اور ان کو بھی اس کا اجر ملے گا۔
- وصیت کرنے والا اگر کسی مکان وغیرہ کو وقف کرنے کی وصیت کرے تو اس کو وقف کرنا ضروری ہوتا ہے، وقف کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کی ذات کو باقی رکھتے ہوئے اس
کو خیر کے اس کام میں استعمال کیا جائے جس کی اس نے وصیت کی ہو، اس چیز کو بیچ کر اس کی رقم کسی کارِ خیر میں لگانا جائز نہیں ہوتا۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب بلقیس بانو مرحومہ کا مذکورہ گھر (جس کو مدرسے کے لیے وقف کرنے کی وصیت کی ہے) اس کے مجموعی ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ ہے تو آپ از خود یہ پورا گھر مدرسہ کے لیے وقف نہیں کرسکتیں، نہ ہی یہ گھر بیچ کر اس کی ساری رقم کسی اور مدرسے یا مسجد میں دے سکتی ہیں، جیسا کہ پہلے نکتے میں بیان ہوا۔
دوسرے نکتے کا تقاضا یہ ہے کہ اس گھر کو بیچنا درست نہ ہو، لیکن چونکہ مجموعی ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس پورے گھر کی وصیت درست نہیں ہوئی اور ورثا کی شرکت کی وجہ سے پورے گھر کو وقف کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ صورت اختیار کی جائے گی جو وصیت (وقف) پر عمل کے قریب تر ہو، لہٰذا اس گھر کو بیچا جائے اور اس کی قیمت کا اتنا حصہ جو بلقیس بانو کی مجموعی میراث (اس گھر کی قیمت، مذکورہ دکانوں اور پلاٹ کی قیمت اور ان کے علاوہ جو بھی چھوٹا بڑا ساز و سامان یا نقد رقم اس نے چھوڑی ہو) کا ایک تہائی ہو، کسی مدرسے کی تعمیر میں لگایا جائے، مدرسے میں رقم اس صراحت کے ساتھ دی جائے کہ یہ مدرسے کی تعمیر میں لگائی جائے۔ اگر بلقیس بانو نے لڑکوں یا لڑکیوں کے مدرسے کے لیے وقف کرنے کی صراحت کی تھی یا ان کا منشا واضح تھا کہ وہ لڑکوں کے مدرسے کے لیے وقف کرنا چاہ رہی تھی یا لڑکیوں کے مدرسے کے لیے، تو اس کے مطابق عمل کیا جائے، اور اگر ایسی کوئی بات نہیں تھی تو پھر یہ رقم لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کےمدرسوں کی تعمیر میں لگائی جاسکتی ہے۔
یہ اس وصیت کا اصل حکم ہوا، البتہ اگر تمام ورثا عاقل بالغ ہوں اور وہ سب اپنی رضامندی سے بلقیس بانو مرحومہ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس پورے گھر کو وقف کرنا چاہیں تو پھر اس کو آپ خود بطورِ مدرسہ چلائیں یا کسی مستند مدرسہ کی تولیت میں دیدیں اور مدرسے کے ذمہ داران کو وصیت کی تفصیل بتادیں، تاکہ وہ مرحومہ کی وصیت کے مطابق اس گھر کو مدرسے کے لیے استعمال کریں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (2/ 351):
ولو علق الوقف بموته بأن قال إذا مت فقد وقفت داري على كذا ثم مات صح ولزم إذا خرج من الثلث وإن لم يخرج من الثلث يجوز بقدر الثلث ويبقى الباقي إلى أن يظهر له مال آخر أو تجيز الورثة، فإن لم يظهر له مال آخر ولم تجز الورثة تقسم بينهما أثلاثا ثلثها للوقف والثلثان للورثة.
تبيين الحقائق (3/ 326):
ولو علق الوقف بموته بأن قال: إذا مت فقد وقفت داري على كذا، ثم مات صح ولزم إذا خرج من الثلث؛ لأن الوصية بالمعدوم جائزة كالوصية بالمنافع، ويكون ملك الميت باقيا فيه حكما، فيتصدق عنه دائما، وإن لم يخرج من الثلث يجوز بقدر الثلث، ويبقى الباقي إلى أن يظهر له مال آخر أو تجيز الورثة، فإن لم يظهر له مال ولم تجز الورثة تقسم الغلة بينهما أثلاثا، ثلثه للوقف والثلثان للورثة.
الدر المختار (4/ 348):
فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني.
حاشية ابن عابدين (4/ 348):
قوله ( فلا يجوز وقف مشاع يقسم الخ ) شمل ما لو استحق جزء من الأرض شائع، فيبطل في الباقي؛ لأن الشيوع مقارن كما في الهبة، بخلاف ما لو رجع الوارث في الثلثين بعد موت الواقف في مرضه، وفي المال ضيق؛ لأنه شيوع طارىء، ولو استحق جزء معين لم يبطل في الباقي لعدم الشيوع، بحر عن الهداية.
ولو بينهما أرض وقفاها ودفعاها معا إلى قيم واحد جاز اتفاقا لأن المانع من الجواز عند محمد هو الشيوع وقت القبض لا وقت العقد ولم يوجد هاهنا لوجودهما معا منهما وكذا لو وقف كل منهما نصيبه على جهة وسلماه معا لقيم واحد لعدم الشيوع وقت القبض وكذا لو اختلفا في وقفيهما جهة وقيما واتحد زمان تسليمهما مالهما أو قال كل منهما لقيمه اقبض نصيبي مع نصيب صاحبي لأنهما صارا كمتول واحد، بخلاف ما لو وقف كل واحد وحده وسلم لقيمه وحده فلا يصح عند محمد لوجود الشيوع وقت العقد، وتمكنه وقت القبض، إسعاف.
وفيه أيضا: وقفت دارها على بناتها الثلاث، ثم على الفقراء، ولا مال لها غيرها ولا وارث غيرهن، فالثلث وقف والثلثان ميراث لهن، وهذا عند أبي يوسف، خلافا لمحمد اه، أي لأنه مشاع حيث لم تقسمه بينهن.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


