03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف کرتے وقت شرائط لگانے کا حکم
84751وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

میری والدہ مدرسہ کے لیے ایک جگہ وقف کرنا چاہتی ہے، مگر وہ چاہتی ہیں کہ اس میں متولی کی حیثیت سے ہماری رہائش بھی ہو تو سوال یہ ہے کہ وقف کی جگہ میں اگر کوئی قید وغیرہ لگانا چاہے تو کیا لگا سکتے ہیں؟مثلاً: جگہ کو تبدیل کرنے اور جس کو متولی بنایا جائے (خواہ وہ متولی ایک ہو یا دو ہوں) اس کی فیملی رہائش وغیرہ کی شرط لگانا وغیرہ۔مزید مدرسے کے لیے وقف کی جانے والی زمین کے متعلق تمام معلومات سے آگاہ اور رہنمائی فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زمین وقف کرتے وقت اگر وقف کرنے والا کوئی وقف سے متعلق کوئی جائز شرط لگانا چاہے تو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، جیسے جہت وقف کا تعیین، متولی کی شرائط اور اس کی تعیین وغیرہ۔ اور پھروقف ہو جانے کے بعد متولیٴ وقف پر ان شرائط کی پابند لازم ہو گی، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول لکھا ہے، "شرط الواقف کنص الشارع" یعنی واقف کا وقف میں کوئی شرط لگانا شارع علیہ السلام کےحکم کی طرح ہے، جس طرح شارع علیہ السلام کے حکم کی مخالفت جائز نہیں، اسی طرح واقف کی طرف سے وقف میں لگائی گئی شرط کی مخالفت بھی جائز نہیں، بشرطیکہ وہ شرط شریعت کے خلاف نہ ہو۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں واقف کا ضرورت کے وقت جگہ کی تبدیلی کی شرط لگانا جائز ہے، اسی طرح متولی کے لیے وقف مدرسہ میں رہائش کی شرط لگانا بھی جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ متولی میں تولیت کی شرائط پائی جائیں، اگر اس میں یہ شرائط نہ ہوں تو اس کو متولی بنانا جائز نہیں اور ایسی صورت میں اس کا وقف کی جگہ میں رہائش اختیار کرنا بھی درست نہیں ہو گا، باقی وقف کے متولی بننے کی شرائط درج ذیل ہیں:

ا:  وقف کا انتظام ونصرام سنبھالنے کی اہلیت وصلاحیت موجود ہو۔

۲:گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا نہ ہو۔

۳:امانت داری کے ساتھ وقف کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہو۔

۴:وقف کے مال میں خیانت اور دھوکہ دہی کا ارتکاب  نہ کرے۔

۵:کسی وجہ سے وقف کے انتظام وانصرام کی اہلیت مفقود نہ ہو، جیسے جنون وغیرہ۔

٦۔وقف ميں لگائی گئی شرائط کی پاسداری کرتا ہو۔

(ماخوذ از اسلام كا نظامِ اوقاف بتصرف:ص:548تا556)

مزید یہ کہ وقف کی جگہ کو اسی جہت میں استعمال کرنا ضروری ہے جس جہت کے لیے جگہ وقف کی گئی ہو، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وقف کی آمدن، چندہ کی رقم اور دیگر اشیاء کو امانت اور دیانت کے تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جائے، ان چیزوں کا بےجا استعمال ہرگز جائز نہیں۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 146) المطبعة الكبرى الأميرية   بولاق، القاهرة:

وعن ابن سلام باني المسجد أولى بالعمارة والقوم أولى بنصب الإمام والمؤذن، وعن الإسكاف الباني أحق بذلك. قال أبو الليث - رحمه الله - وبه نأخذ إلا أن ينصب والقوم يرون من هو أصلح لذلك والله أعلم۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 459) دار الفكر-بيروت:

قوله الباني أولى بنصب الإمام والمؤذن في المختار إلا إذا عين القوم أصلح ممن عينه، وبه ظهر الجواب عما نقله الشارح عن الأشباه من قوله ولم أر حكم عزله لمدرس وإمام ولا هما، وهو أنه جائز للمصلحة إذا كانا مشروطين في أصل الوقف فبدونه بالأولى، وقد ظهر أنه ليس المراد أنه يجوز للواقف الرجوع عن شروط الوقف كما فهمه الشارح، حتى تكلف في شرحه على الملتقى للجواب عما قدمه عن الدرر قبيل قول المصنف اتحد الواقف والجهة من أنه ليس له إعطاء الغلة لغير من عينه لخروج الوقف عن ملكه بالتسجيل. اهـ.

الفتاوى الهندية (2/ 408) دار الفكر،بیروت:

الصالح للنظر من لم يسأل الولاية للوقف وليس فيه فسق يعرف هكذا في فتح القدير وفي الإسعاف لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه.

المغني (6/ 40) لابن قدامة المقدسي (المتوفى: 620هـ) مكتبة القاهرة:

وإن ولاه الواقف وهو فاسق، أو ولاه وهو عدل وصار فاسقا، ضم إليه أمين ينحفظ به الوقف، ولم تزل يده؛ ولأنه أمكن الجمع بين الحقين. ويحتمل أن لا تصح توليته، وأنه ينعزل إذا فسق في أثناء ولايته؛ لأنها ولاية على حق غيره، فنافاها الفسق، كما لو ولاه الحاكم، وكما لو لم يمكن حفظ الوقف منه مع بقاء ولايته على حق غيره، فإنه متى لم يمكن حفظه منه أزيلت ولايته، فإن مراعاة حفظ الوقف أهم من إبقاء ولاية الفاسق عليه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 380) دار الفكر-بيروت:

القيم إذا لم يراع الوقف يعزله القاضي وفي خزانة المفتين إذا زرع القيم لنفسه يخرجه القاضي من يده.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 265) دار الكتاب الإسلامي:

وإنما الكلام الآن في شروط الواقفين فقد أفادوا هنا أنه ليس كل شرط يجب اتباعه فقالوا هنا إن اشتراطه أن لا يعزله القاضي شرط باطل مخالف للشرع وبهذا علم أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع ليس على عمومه قال العلامة قاسم في فتاواه أجمعت الأمة أن من شروط الواقفين ما هو صحيح معتبر يعمل به ومنها ما ليس كذلك ونص أبو عبد الله الدمشقي في كتاب الوقف عن شيخه شيخ الإسلام: قول الفقهاء: نصوصه كنص الشارع يعني في الفهم والدلالة لا في وجوب العمل مع أن التحقيق أن لفظه ولفظ الموصي والحالف والناذر وكل عاقد يحمل على عادته في خطابه ولغته التي يتكلم بها وافقت لغة العرب ولغة الشرع أم لا ولا خلاف أن من وقف على صلاة أو صيام أو قراءة أو جهاد غير شرعي ونحوه لم يصح. اهـ.

منحة الخالق على البحر الرائق (5/ 265) دار الكتاب الإسلامي:

وقال الرملي قال هذا الشارح في فتاواه ويصح أن يكون التشبيه في وجوب العمل أيضا من جهة أن الصرف في الوقف على اتباع شرطه لأنه إنما أوصى بملكه فهذه الشروط لا بد من مراعاتها وذكر الشارح في كتاب القضاء عند الكلام على قوله وإذا رفع إليه حكم قاض إمضاء إلخ نقلا عن الأشباه والنظائر للأسيوطي معزيا إلى فتاوى السبكي أن قضاء القاضي ينقض عند الحنفية إذا كان حكما لا دليل عليه قال وما خالف شرط الواقف فهو مخالف للنص وهو حكم لا دليل عليه سواء كان نصه في الواقف نصا أو ظاهرا. اهـ.

قال هذا الشارح وهذا موافق لقول مشايخنا كغيرهم شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما في شرح المجمع للمصنف اهـ. فهذا يؤيد قوله ويصح أن يكون التشبيه في وجوب العمل أيضا تأمل والله تعالى أعلم اهـ.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

/26صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب