| 84756 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
مفتی صاحب وراثت کے متعلق ایک مسئلہ پیش آیا ہے ۔چار کنال زمین ایک والد کی ملکیت تھی، والد کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ، والدصاحب نے اپنی زندگی میں ہی زمین کی تقسیم کر کے ان کو اختیار دے دیا تھا اور وصیت لکھ کر سب بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کر دی تھی کہ ایک بیٹے کو ایک بیٹی کے ساتھ لگا رہا ہوں وہ اپنی بہن کو حصہ دینے کا پابند ہے،اس زمین میں والد صاحب نے اپنی بیٹے کی رضامندی سے ایک کنال کو قبرستان کے لیے وقف کر دیاتھا اور اس میں بیٹے کو کوئی اعتراض نہیں تھا،والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی اپنی زمین تمام بیٹوں میں برابر تقسیم کر دی تھی ، جو کہ پچھلے 15سالوں سے تمام بیٹوں کے قبضے میں ہے ۔ ایک بیٹے نے والد صاحب کی حیات میں ان کی رضامندی سے ایک کنال زمین بیچ دی اور یہ کہا میں یہ زمین اپنے حصے میں سے بیچ رہا ہوں جس کے پیسوں سے میں کاروبار شروع کروں گا دوکان وغیرہ ۔ جس کے گواہان بھی موجود ہیں کہ یہ پیسے انہوں نےاپنی ذات پر لگائے ہیں اور یہ زمین بیٹے نے والد صاحب کی وصیت کے مطابق اپنے ذاتی حصے میں سےبیچی ہے ،والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی جو زمین بیچی گئی تھی اس کا انتقال کروایا تھا ۔چونکہ والد صاحب کی وصیت کے مطابق یہ زمین اس بیٹے کے قبضے میں تھی اور زمین بیچنے کے بعد والدصاحب نے وصیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور نہ ہی اس بات کا کوئی کاغذی ثبوت چھوڑا ہے کہ میں نے زمین کا یہ حصہ اپنے بیٹے کو تحفے میں دی ہے، اس زمین میں ایک بہن کا بھی حصہ ہے جو کہ والد صاحب نے وصیت کے مطابق ان کے ساتھ لگائی تھی کہ میرے مرنے کے بعد یہ بیٹا اپنی بہن کو حصہ دینے کاپابند ہے ،اب وصیت کے مطابق والد صاحب کی حیات میں جس بیٹے نے زمین بیچی تھی ، کیا وہ بھی اپنی بہن کو حصہ دینےکا پابند ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد اگر زندگی میں اپنے بچوں کو کچھ دیتا ہے تو وہ "ہبہ" یعنی گفٹ ہوتا ہے۔اگر وہ چیز قابلِ تقسیم ہو تو اس میں ہبہ مکمل ہونے کے لیے تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے کا قبضہ دینا بھی ضروری ہے، لیکن اگر وہ چیز ناقابلِ تقسیم ہو تو پھر تقسیم ضروری نہیں۔ ہر وہ چیز جس سے تقسیم کے بعد وہی نفع اٹھایا جاسکے جو تقسیم سے پہلے اٹھایا جاتا ہو، وہ قابلِ تقسیم کہلائے گی، اور جو چیز ایسی نہ ہو، وہ ناقابلِ تقسیم کہلائے گی۔
یہاں والد نے بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کو زمین ہبہ کی ہے،اور بیٹوں کو اس کا وکیل بنایا ہے کہ وہ بیٹیوں کی جانب سے قبضہ کرکے ان کو ان کاحق دیں گے،اس لیے یہ ہبہ تام ہوگیا ہے،اور اب یہ بیٹا اس بات کا پابند ہے کہ اپنی بہن کو اس کا حصہ دیدے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 692):
(لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ۔۔۔) ۔۔۔(فإن قسمه وسلمه صح) لزوال المانع۔
(قوله: فإن قسمه) أي الواهب بنفسه، أو نائبه، أو أمر الموهوب له بأن يقسم مع شريكه كل ذلك تتم به الهبة كما هو ظاهر لمن عنده أدنى فقه تأمل، رملي والتخلية: في الهبة الصحيحة قبض لا في الفاسدة جامع الفصولين.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
28/ صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


