03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانور کودیکھ بھال کے لئے آدھے پر دینے کا حکم
84823اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیا جانوروں کو آدھے پر دینا جائز ہے؟ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اگر دو بچے پیدا ہوئے ،تو ایک مالک کا اور ایک دیکھ بھال کرنے والے کا  ہوگااور اگر ایک بچہ پیدا ہو تو جب وہ بچہ ایک خاص عمر کو پہنچ   جائے تو فریقین میں سے ایک اس کی آدھی قیمت  دوسرے کو دےدے  گااور بچہ رکھ لے گا۔ اگر یہ درست نہیں تو پھر کون کون سی صورتیں درست ہو سکتی ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گائے  کو آدھے  یا کسی بھی حصے پر دیکھ بھال کے لئے  دینا  ااور پھر اس کے بچوں  کو آدھی قیمت پر لینا شرعا جائز نہیں، کیونکہ اگر اس معاملہ کو  شرکت قرار دیا جائے تو یہ شرکتِ فاسدہ ہےاور اگر اسے اجارہ قرار دیا جائے تو یہ اجارۂ فاسدہ ہے،لہذا پوری گائے، اس کے بچے اور دودھ وغیرہ مالک ہی کی ملکیت ہوں گےاور گائے کی دیکھ بھال کرنے والا  جتنی مدت گائےپالے گا، وہ اس کی اجرتِ مثل (یعنی اس جیسا شخص اتنی مدت ایسا جانور پالنے کی جو اجرت لیتا ہو) کا مستحق ہوگا ۔ اسی طرح وہ گائے کو اپنے پاس سے جو چارہ کھلائےگا، اس کی قیمت بھی مالک سے وصول کرنے کا حق دار ہوگا۔ دوسری طرف اگر وہ گائے سے کچھ فوائد مثلا دودھ وغیرہ حاصل کرے گا تو اس پر ان فوائد کی مثل یا قیمت لازم ہوگی ۔یہ حکم اس وقت ہوگا جب کسی نے اس طرح کے معاملات مستقبل میں کرنے ہوں ،لیکن اگر کسی نے ایسے  معاملات ماضی میں کئے ہوں  یا ابتلاءشدید ہو تو وہاں پر امام احمد کی ایک روایت کے مطابق عمل کی گنجائش ہے۔

البتہ بعض اہلِ علم کے مطابق احتیاط بچنے میں ہی ہے ان حضرات کے ہاں اس کا جائز متبادل یہ ہے ،کہ مالک  دیکھ بھال کرنے والے کو آدھی گائے متعین قیمت کے بدلے بیچ دے ،اس کے بعد اس کی قیمت معاف کر دے ، اس  سے گائے اور اس کے منافع ( بچے ، دودھ اور گوبر وغیرہ ) ان دونوں کے درمیان مشترک ہوں گے اوردونوں باہمی رضامندی سے آپس میں یہ بات طے کرلیں کہ دودھ وغیرہ (یعنی اپنے حصے کے جو منافع اصل مالک گائے کی دیکھ بھال کرنے والے  کو دینے پر راضی ہو) گائے کی دیکھ بھال کرنے والا استعمال کرے گا اور اس کے بدلے اصل مالک سے اس کے حصے کے چارے اور دیکھ بھال کرنے  کی محنت کی اجرت کا مطالبہ نہیں کرے گا،اس سے شرکت کا معاملہ بھی درست ہوجائے گا اور دونوں کو نفع بھی حاصل ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 445):

دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما .

امدادالفتاوی (302/7):

الجواب : كتب إلى بعض الأصحاب من فتاوى ابن تيمية كتاب الاختيارات عالمه ولو دفع دابته أو نخلة إلى من يقوم له وله جزء من نمائه صح، وهو رواية عن أحمد  . پس حنفیہ کے قواعد پرتو یہ عقد نا جائز ہے۔ كما نقل في السوال عن عالمگيرية ،ليکن بنابر نقل بعض اصحاب امام احمد کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے، پس تحرز احوط ہے، اور جہاں ابتلاءشدید ہو تو سع کیا جا سکتا ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 264):

 ومن الفقهاء من لا يجيز أن تكون الأجرة بعض المعمول، أو بعض الناتج من العمل المتعاقد عليه، لما فيه من غرر؛ لأنه إذا هلك ما يجري فيه العمل ضاع على الأجير أجره، وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان ، ولأن المستأجر يكون عاجزا عن تسليم الأجرة، ولا يعد قادرا بقدرة غيره. وهو مذهب الحنفية والمالكية والشافعية. ومثاله: سلخ الشاة بجلدها، وطحن الحنطة ببعض المطحون منها، لجهالة مقدار الأجر؛ لأنه لا يستحق جلدها إلا بعد السلخ، ولا يدري هل يخرج سليما أو مقطعا.

وذهب الحنابلة إلى جواز ذلك إذا كانت الأجرة جزءا شائعا مما عمل فيه الأجير، تشبيها بالمضاربة والمساقاة، فيجوز دفع الدابة إلى من يعمل عليها بنصف ربحها ، والزرع أو النخل إلى من يعمل فيه بسدس ما يخرج منه؛ لأنه إذا شاهده علمه بالرؤية وهي أعلى طرق العلم.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

02/ ربیع الاول /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب