| 84865 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں،والدہ بھی حیات ہیں،والد کا عرصہ ہوا انتقال ہو چکا ہے۔بندہ پہلے جو ائنٹ فیملی سسٹم میں رہتا تھا، اور ہمارا زمیندارہ سے کھاتہ چلتا آرہاتھا اور قرض بھی ساتھ ساتھ چلا آرہا تھا اور اس دوران والد صاحب بیمار ہو گئے،جن کی بیماری وغیرہ پر بھی کافی پیسہ خرچ ہوا اور یہ کل ملا کر ایک لاکھ ستر ہزار روپے ہم پر قرض بنا۔ اسی دوران والد صاحب کی وفات ہو گئی اور والدہ، بہنوں اور بھائیوں نے صاحب حیثیت ہونے کے باوجود چھ ہزار روپے سے زیادہ کچھ نہیں دیا، اور اس کے بعد الگ ہو کر کراچی منتقل ہوگئے ،جبکہ میں نےنواب شاہ میں رہ کر کاشت کاری وغیرہ کر کے یہ قرضہ چکایا ہے، اب سوال یہ ہے کہ آیا ان پر اس کا کوئی حصہ واجب الاداء ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس کوکتنی رقم اداء کرنی ہو گی؟ذراشر عی طریقے سے اس کی رہنمائی کر دیجیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔اگر والد کے مال میں علاج کی گنجائش تھی اور بیٹے نے قرض کی صراحت یا واپسی کے معاہدے کے ساتھ علاج پر رقم خرچ کی تھی یا عرف یہ ہو کہ ایسے مواقع پر خرچ کی جانے والی رقم قرض شمار ہوتی ہو تو میراث تقسیم کرنے سے پہلے یہ رقم مرحوم والد کی میراث سے مذکورہ بیٹے کو دی جائے گی ،البتہ اگر بیٹے نے از خود تبرع واحسان کی نیت سے رقم خرچ کی ہے تو فقط وہی ذمہ دار ہوگا۔
2۔ اگروالد کے پاس علاج کا خرچہ موجود نہ ہو،تو خرچہ کی ذمہ داری اولاد پرہے،عرف یہ ہے کہ اجتماعی گھروں میں ایسے موقع پر تمام اولاد ذمہ داری میں شریک ہوتی ہے،لہذا کسی ایک بیٹے نے اگر رقم قرض لے کر خرچ کی ہے تو اس کی ذمہ داری سب پر ہے۔سب اس میں برابر ادائیگی کے پابند ہوں گے۔
حوالہ جات
الهندية (447/6):
"ثم بالدين و أنه لايخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض، أو كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض، فإن كان الكل ديون الصحة أو ديون المرض فالكل سواء لايقدم البعض على البعض، و إن كان البعض دين الصحة و البعض دين المرض يقدم دين الصحة إذا كان دين المرض ثبت بإقرار المريض، وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو و دين الصحة سواء، كذا في المحيط."
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
06/ ربیع الاول 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


