03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ماہانہ اصلاحی پروگرام کا خرچ مدرسہ کےفنڈسے پورا کرنا جائز ہے؟
84821وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

ایک بڑے مدرسہ کے مدیر و شیخ الحدیث جو شیخ طریقت بھی ہیں ،طلباء کی تعلیمی نظام کے ساتھ اصلاح و تربیّت کے لیے ہفتہ وار اصلاحی مجلس قائم کرتے ہیں، ان کے حلقہ ٔ ارادت میں علماء و طلباء کے ساتھ عوام الناس بھی کثیر تعداد میں داخل ہوتے گئے اور ہو رہے ہیں ۔ان طلباء و فضلاء علماء اور عوام الناس کی اصلاح و تربیّت کے لیے ایک ماہانہ روحانی اجتماع کے عنوان سے چاند کی" تیسری جمعرات " عصر تا جمعہ اشراق معمولات و اصلاحی بیان پر مشتمل ایک پروگرام شروع کیا گیا ،جس میں ادارے کے طلباء ،دوسرے مدارس سے علماء و طلباء اور عوام الناس کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں عرصہ دراز سے یہ پروگرام چل رہا ہے، جس میں شرکت کرنے والوں کا رات کا کھانا، صبح کا ناشتہ وغیرہ کا خرچ" شیخ طریقت اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں ۔اب کچھ نا موافق حالات کی بناء پر ان کے لیے اس خرچ کی استطاعت نہیں ۔

اس پروگرام کا مدرسہ کو بھی فائدہ ہوتا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بعید نہ ہو گا کہ دیہات میں واقع اس مدرسہ کی دنیوی ترقی حضرت الشیخ مدظلہم العالی کے بیانات اور اس ماہانہ اجتماع کی برکت سے ہوئی ہے اور ہزاروں افراد مدرسہ کے ساتھ جڑے ہیں اور اس اجتماع میں شریک ہونے والے عوام الناس مدرسہ کو صدقات وعطیات دے جاتے ہیں، اگرچہ  اس کے ساتھ بعض افراد حضرت الشیخ مدظلہم کی خدمت میں ہدایا بھی دے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس  کی مقدار معمولی ہوتی ہے، اس کے باوجود حضرت الشیخ مدظلہم نے فرمایا کہ مدرسہ کے فنڈ سے اجتماع پر خرچ کرنے کی صورت میں میں اعلان کر دوں گا کہ کھانے وغیرہ کی مد میں مجھے آئندہ ہدیہ نہ دیاکریں، بلکہ وہ مدرسہ میں جمع کروایا کریں۔ کیا اس صورتِ حال میں مدرسہ خود وقف کے مال سے اس پروگرام کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ اگر مذکورہ صورتِ حال میں اس پروگرام کا سلسلہ موقوف کر دیا جائے تو  ادارے کوکافی نقصان ہو گا، کیونکہ اس اجتماع کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد مدرسہ کے ساتھ منسلک ہے، وہ آہستہ آہستہ ٹوٹنے شروع ہو جائیں گے، نیزاس سے عوام کو  بھی کافی فائدہ پہنچ رہا ہے، کیونکہ عام طور پر عوام کے عقائد ونظریات اسی طرح کے اصلاحی اجتماعات میں شرکت سے درست ہوتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے وقف کے بارے میں تصریح کی ہے کہ وقف چیز جس مقصد کے لیے وقف کی جائے اسی مصرف میں اس کو خرچ کرنا ضروری ہے، اس کے بعد وقف کو دی جانے والی رقوم اور چندہ کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ بھی اسی وقف کے مصالح میں خرچ کیا جائے گا، مصالح کے علاوہ کسی اور مصرف میں وقف کی رقوم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور مصلحت کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز وقف کے لیے فائدہ مند اور نفع بخش ہو۔ باقی وقف کے مصالح کا فیصلہ عرف کے مطابق کیا جائے گا، اگر عرف میں کوئی چیز وقف کے مصالح میں شامل ہو تو اس پر وقف کی آمدن خرچ کرنا جائز ہو گا اور اگر عرف میں وہ چیز وقف کےمصالح میں شمار نہ ہو تو اس پر وقف فنڈ سے رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہو گا۔ اورہمارے عرف میں عوام الناس کے لیے ایسے اصلاحی اجتماعات کو مدارسِ دینیہ کے مصالح میں سے شمار نہیں کیا جاتا۔

نیز لوگوں کی اصلاح اور تزکیہٴ نفس خانقاہ کے مقاصد میں سے ہے، مدرسہ کے مقاصد میں سے نہیں ہے، اورمدرسہ اور خانقاہ دونوں شرعاً علیحدہ علیحدہ وقف ہیں، مدرسہ کا اصل مقصد علومِ دینیہ کی اشاعت ہے اور خانقاہ کا بنیادی مقصد لوگوں کی اصلاح اور تزکیہٴ نفس ہے، اس لیے ان میں سے کسی ایک کا فنڈ شرعاً دوسرے پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا اصولی طور پر عام حالات میں مدرسہ کے فنڈ سے عوام الناس کے لیے اس طرح کے اصلاحی اجتماعات کروانے کی اجازت نہیں۔ البتہ اگر اس طرح کے کسی اجتماع سے مدرسہ کو واقعی مالی تعاون اور دیگر فوائد حاصل ہو رہے ہوں تو ایسے اجتماع کو مدرسہ کے مصالح میں شمار کرکے مدرسہ کے فنڈ سے کرنے کی اجازت ہے۔

اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ  اگر واقعتاً اس اجتماع سے مدرسہ کو مالی اور افرادی ہر اعتبار سے کافی فائدہ پہنچ رہا ہے اور اس کے انعقاد کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد اس مدرسہ کے ساتھ منسلک ہے اور اکثر وبیشتر یہ لوگ مدرسہ کا مالی تعاون بھی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں عوام الناس کی اصلاح  کے لیے اس طرح کے اجتماع کو مدرسہ کے مصالح میں سے شمار کیا جائے گا اور اس کے انعقاد پر ہونے والے اخراجات مدرسہ کے فنڈ سے پورا كرنے كی گنجائش ہے، البتہ احتياط كا تقاضا یہ ہے کہ درج ذیل دو صورتوں میں سے کسی بھی صورت پر عمل کرنا ممکن ہو تو وہ اختیار کر لی جائے:

پہلی صورت: اصلاحی اجتماع کے لیے مستقل فنڈ قائم کر لیا جائے اور اجتماع کے شرکاء اور مدرسہ سے تعلق رکھنے والے حضرات کو بتا دیا جائے کہ یہ فنڈ ماہانہ اصلاحی اجتماع کے لیے مختص ہے، پھر اس فنڈ سے اصلاحی اجتماع کے اخراجات پورے کیے جائیں، نیز اس سلسلہ میں مخیر حضرات کو بھی اس فنڈ میں رقم لگانے کی ترغیب دی جا سکتی ہے، البتہ اس فنڈ میں زکوة اور صدقاتِ واجبہ کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہو گا، کیونکہ ان کی ادائیگی کے لیے تملیک یعنی مستحقِ زکوة افراد کو مالک بنانا ضروری ہے، اس لیے اس فنڈ میں صرف عطیات اور نفلی صدقات کی رقم جمع کروائی جا سکتی ہے۔ 

دوسری صورت: اجتماع میں شریک ہونے والے حضرات کے درمیان اعلان کر دیا جائے کہ رات کے کھانے اور ناشتہ کا خرچ فی کس اتنے روپے ہیں، آئندہ کے لیے شرکاء حضرات کو اپنے کھانے کی مد میں فی کس  اتنے روپے مدرسہ کے ناظم کے پاس جمع کروانے ہوں گے، البتہ اس میں کوشش کی جائے کہ سالکین کے لیے متوسط درجے کا کھانا تیار کیا جائے، اعلی کھانا نہ بنایا جائے کہ جس کے نتیجے میں سالکین پر بوجھ پڑے۔

        اگر ان میں سے کسی بھی صورت پر عمل کرنا ممکن نہ ہو تو بقدرِ ضرورت مدرسہ کے فنڈ سے اجتماع کے اخراجات پورے کیے جا سکتے ہیں، البتہ اس صورت میں بھی لوگوں ترغیب ضرور دی جائے کہ یہ اخراجات چونکہ مدرسہ کے فنڈ سے ہو رہے ہیں اس لیے ہر شخص اپنی حسب استطاعت کھانے کی مد میں مدرسہ کا تعاون کرے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 367) دار الفكر-بيروت:

(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحةكالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح .

الفتاوى الهندية(كتاب الوقف، ج2ص461) دار الفكر-بيروت:

"مسجد له مستغلات وأوقاف أراد المتولي أن يشتري من غلة الوقف للمسجد دهنا أو حصيرا أو حشيشا أو آجرا أو جصا لفرش المسجد أو حصى قالوا إن وسع الواقف ذلك للقيم وقال تفعل ما ترى من مصلحة المسجد كان له أن يشتري للمسجد ما شاء"

الإسعاف فى أحكام الأوقاف (ص: 56) طبع بمطبعة هندية بشارع المهدى:

[فصل في بيان ما يجوز للقيم من التصرف وما لا يجوز]

أول ما يفعله القيم في غلة الوقف البداءة بعمارته وأجرة القوّام وإن لم يشرطها الواقف

نصا لشرطه إياها دلالة لأن قصده منه وصول الثواب إليه دائما ولا يمكن ذلك إلا بها

ويتحرى في تصرفاته النظر للوقف والغبطة لأن الولاية مقيدة به........... ولو اشترى المتولي بما فضل من غلة وقف المسجد حانوتا أو مستغلا آخر جاز لأن هذا من مصالح المسجد فلو باعه اختلفوا فيه والصحيح أنه يجوز لأن المشتري لم يذكر شيئا من شرائط الوقف فلا يكون من جملة أوقاف المسجد ولو خشي القيم هلاك النخل أو الشجر الذي في الأرض يجوز له أن يشتري ما يغرسه فيها لئلا يفنى شجرها وليخلف بعضها بعضا ولو أراد المتولي أن يشتري من غلة وقف المسجد دهنا أو  حصرا أو إجراء أو حصا ليفرش فيه يجوز أن وسع الواقف في ذلك للقيم بأن قال يفعل ما يراه من مصلحة المسجد.

رسائل ابن عابدين (ج:2ص:128):

فإن قلت: العرف يتغير مرة بعد مرة فلو حدث عرف آخر لم يقع في الزمان السابق، فهل يسوغ للمفتي مخالفة المنصوص صاتباع العرف.

قلت: اعلم أن المتاخرين خالفوا المنصوص في المسائل المارة، لم يخالفوه إلا لحدوث عرف بعد زمن الإمام، فللمفتي اتباع عرفه الحادث في الألفاظ المعرفية، وكذا في الأحكام التي بناها المجتهد على ما كان في عرف زمانه، وتغير عرفه إلى عرف آخر اقتداء بھم، لكن بعد أن يكون المفتي ممن له رأي ونظر صحيح ومعرفة بقواعد الشرع حتى يميز بين العرف الذي يجوز بناء الأحكام عليه وبين غيره.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

6/ربیع الاول 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب