| 84772 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ذیل میں شوہر کی طرف سے اپنی بیوی کو بھیجا گیا طلاق کا ایک نوٹس درج کیا جا رہا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ اس کے مطابق کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟
طلاق کا نوٹس
میں مسمی عبدالعلیم محمد حنیف شناختی کارڈ نمبر 35202-3782632-3 بورے والا ضلع وہاڑی EB سکنہ چک نمبر 265 من مظہر کی شادی مورخہ 13-12-2023 بمطابق مسمات امامہ زینب شناختی کارڈ نمبر 36602-8728410-8 ساکن اڈہ امین پور ڈاک خانہ کرم پور تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی شریعت محمدی کے تحت بعوض حق مہر مبلغ 20 ہزار جو موقع پر ادا کر دیا گیا تھا کے ساتھ ہوئی۔ بعد ازاں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ آباد ہوئے اور حقوق زوجیت ادا کرنے لگے۔ کچھ عرصہ تعلقات خوشگوار رہے، مگر بعد میں تعلقات میں کشیدگی آگئی جو دن بدن شدت اختیار کر گئی۔ تعلقات بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر بے سود ثابت ہوئی۔ بطور میاں بیوی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں رہنا بہت مشکل ہو گیا اور مسمات امامہ زینب محمد جمیل کے شدید مطالبہ طلاق پر میں، مظہر، راضی ہو گیا۔ باہمی رضامندی سے طلاق پر رضامند ہو گیا۔لہٰذا میں، مظہر، پورے ہوش و حواس میں روبرو گواہان اپنی زوجہ امامہ زینب محمد جمیل کو طلاق اول دیتا ہوں یعنی کہ میں طلاق دیتا ہوں۔ بعد از طلاقِ ثلاثہ مسمات امامہ زینب محمد جمیل کو حق حاصل ہے کہ اپنی مرضی سے عدت پوری ہونے کے بعد جہاں چاہے اپنی آزاد مرضی سے شادی کر سکتی ہے۔ اور یہ کہ فریقین کے درمیان کسی قسم کا لین دین باقی نہ رہا۔ دونوں فریقین آج کے بعد کسی قسم کا ایک دوسرے سے کوئی مطالبہ نہ کریں گے اور نہ ہی پنچایت یا عدالت کا رجوع کریں گے۔اپنے دستخط اور نشانِ انگوٹھا ثبت کر دیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔
مورخہ: 20-10-2024
طلاق دہندہ: عبدالعلیم محمد حنیف
شوہر عبد العلیم سے بذریعہ فون وضاحت کےلئے رابطہ کیا تھا تو اس نے یہ وضاحت کی کہ اس نے صرف ایک طلاق دی ہے اوراپنے قول " بعد از طلاقِ ثلاثہ مسمات امامہ زینب محمد جمیل کو حق حاصل ہے کہ اپنی مرضی سے عدت پوری ہونے کے بعد جہاں چاہے اپنی آزاد مرضی سے شادی کر سکتی ہے "کی یہ وضاحت کی کہ میری مراد یہ نہیں کہ میں نے تین طلاق دیدی ہے اوراب وہ آزاد ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب میں تین دیدوں گا، آئندہ کی بات میں نےکی ہے تو تب وہ آگے شادی کرسکے گی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل نوٹس اورشوہر کی وضاحت(بشرطیکہ وہ اپنی وضاحت میں سچا ہو) کوسامنے رکھتے ہوئے مسئولہ صورت میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے،لہذ ا شوہر عدت(تین حیض) کے اندررجوع کرسکتاہے اورعدت کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ جدیدنکاح کرسکتاہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي - (2 / 254)
" وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك.
وفی المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 208)
ومن هذا الجنس ما ذكر في «الفتاوى»………..ولو قال لها: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت فقال طلقتها قال: أو قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء لأن قوله في المرأة الثانية خرج جواباً فيكون إخباراً عن الإيقاع الأول ليتحقق جواباً بخلاف المسألة المتقدمة لأن قوله في المرة الثانية خرج على سبيل الابتداء فكان إيقاعاً، هذه الجملة في «شرح القدوري» .
فی الدر المختار للحصکفی الحنفی :
أوأنا أطلق نفیس لم یقع لأنہ وعد (الدر المختار علی هامش رد المحتار باب تفویض الطلاق ج: ۲ ص: ۶۵۷۔ط۔س۔ج۳ص۳۱۹.
وھکذا صرح فی العالمگیریۃ بأنہ لا یقع الطلاق بأطلقک لأ نہ وعد.)العالمگیریة مصری کتاب الطلاق ج ۱ ص ۳۸۴)
قال ابن تيمية رحمہ اللہ تعالی :
"الوعد بالطلاق لا يقع، ولو كثرت ألفاظه، ولا يجب الوفاء بهذا الوعد ولا يستحب"
قال محمد المختار الشنقيطي فى شرح زاد المستقنع على الفقه الحنبلي:
أما تعليق الطلاق بالمستقبل كما في الأفعال المضارعة سواء أدخل عليها الأدوات أو الحروف التي تدل
على المستقبل أَوْلاً، فإنه لا يقع الطلاق في وقته، إلا إذا كان معلقاً على المستقبل، ويقع بوقوع ما علق عليه، لكن من حيث الأصل: لو قال لها: سوف أطلقك أو تطلقين، فهذا وعد بالطلاق، وهذا كله لا يقع به الطلاق، فالمضارع والمضاف إلى المستقبل لا يقع به الطلاق إلا إذا كان مقيداً بشرط. انتهى.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/4/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


