03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثہ میں میں سے کسی ایک وارث کاتقسیم میراث کے بعد قرض کا دعوی کرنا
84900دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

تقسیمِ میراث کے تقریباً دو سال بعد، ایک وارث نے دعویٰ کیا کہ اُس نے والدین کی زندگی میں مکان کی مرمت پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے خرچ کیے، اور والد صاحب کے انتقال کے بعد مزید ایک لاکھ سینتیس ہزار روپے مرمت پر بطور قرض لگائے۔ کیا اس کا یہ دعویٰ جائز ہے جبکہ تقسیمِ میراث کے وقت تمام ورثاء نے متفقہ طور پر فیصلے کو قبول کیا تھا اور کسی نے اُس وقت کوئی اعتراض یا دعویٰ نہیں کیا تھا؟

جب تقسیمِ میراث کے وقت کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا، اور یہ توقع بھی نہیں تھی کہ والد کے ذمے کسی وارث کا قرض ہو گا، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذکورہ وارث کو بغیر کسی وضاحت کے، والد کی زندگی میں کیے گئے مرمت کے اخراجات کی بنیاد پر قرض کا دعویٰ کرنے کا حق حاصل ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعاً دعویٰ کرنے والے پر دو گواہوں کا پیش کرنا لازم ہوتا ہے، اور اگر دعویٰ کرنے والے کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ (جس پر دعویٰ کیا جائے) سے قسم لی جاتی ہے۔

لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں دعویٰ کرنے والے وارث کے ذمے اپنے دعویٰ پر گواہ پیش کرنا لازم ہے، اور اگر اس کے پاس گواہ نہیں ہیں اور میت کے ورثاء میں سے کوئی ان کے قرض کی رقم کا اقرار بھی نہیں کرتا تو اس صورت میں صرف دعویٰ کے ذریعہ مذکورہ رقم وصول نہیں کی جا سکتی، بلکہ شرعی طور پر یہ دعویٰ کرنے والا فرد میت کے ورثاء سے قسم لے گا کہ انہیں اس قرض کا علم نہیں اور نہ میت نے انہیں بتایا ہے۔ اگر ورثاء اس بات پر قسم کھا لیتے ہیں تو دعویٰ کرنے والے کا دعویٰ ساقط ہو جائے گا۔

حوالہ جات

الفتاوی الھندیۃ: (407/3، ط: دار الفکر)

ولو أن رجلا قدم رجلا إلى القاضي وقال: إن أبا هذا قد مات ولي عليه ألف درهم دين فإنه ينبغي للقاضي أن يسأل المدعى عليه هل مات أبوه؟ ولا يأمره بجواب دعوى المدعي أولا فبعد ذلك المسألة على وجهين: إما أن أقر الابن فقال: نعم مات أبي، أو أنكر موت الأب فإن أقر وقال: نعم مات أبي؛ سأله القاضي عن دعوى الرجل على أبيه فإن أقر له بالدين على أبيه يستوفى الدين من نصيبه، ولو أنكر فأقام المدعي بينة على ذلك قبلت بينته وقضي بالدين ويستوفى الدين من جميع التركة لا من نصيب هذا الوارث خاصة.۔۔۔۔وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه.فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه.

الدر المختار: (553/5، ط: دار الفکر)

(كذا إذا ادعى دينا أو عينا على وارث إذا علم القاضي كونه ميراثا أو أقر به المدعي أو برهن الخصم عليه) فيحلف على العلم.

وفی ’’شرح المجلۃ‘‘:

لیس لأحد أن یأخذ مال غیرہ بلا سبب شرعي۔ (شرح المجلۃ ۱؍۶۱ رقم المادۃ: ۹۷)

وفی شعب الایمان للبیھقی:

عن علی بن زید عن أبي حرۃ الرقاشيؓ عن عمہ: أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ألا ! لایحل مال إمرئ مسلم إلا بطیب نفس منہ۔ (شعب الإیمان للبیہقي، باب في قبض الید عن الأموال

المحرمۃ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/۳۸۷، رقم:۵۴۹۲)

وفی السنن الکبری للبیھقي:

عن ابن أبي ملیکۃ قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصۃ المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواهم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیھقي، کتاب الدعوی والبینات، باب البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

4/4/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب