| 88791 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
ہمارے جامعہ کی جامع مسجد زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ کی جماعت جامعہ کی عمارت میں اداکی جاتی ہے ، جامعہ کی عمارت ۱۲۵×۲۸ فٹ اور سات منزلوں پر مشتمل ہے، مقتدیوں کی تعداد تقریبا چھ ہزار تک ہے، باقی کچھ طلبہ ساتھ والی متصل عمارت سے بھی شریک ہوتے ہیں۔ نماز پڑھتے وقت امام نچلی منزل میں مقتدیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور طلباء زیادہ ہونے کی وجہ سے بالائی منزل سے بھی اقتداء کرنی پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسجد کےعلاوہ کسی جگہ جماعت کروانے کی صورت میں بالائی منزل سے زمینی منزل میں کھڑے امام کی اقتدا کرنا صحیح ہےیا نہیں ؟ اس کے لیے پہلی منزل بھرنا شرط ہے یا نہیں ؟ نیز چھٹی منزل بھرنے کی مقدار اورحدود کیا ہیں ؟
جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون سے تراویح کے بارے میں شائع شدہ فتوی نمبر 144109200662 میں بالائی منزل سے اقتداء صحیح ہونے کے لئے چالیس ہاتھ یعنی پندرہ بائی پندرہ فٹ سے چھوٹا ہونے کی شرط گائی۔ اس فتوی کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ مسئلہ کاحل بیان فرمائیں، البتہ فتوی نمبر : 144105200208میں ہرمنزل کو نمازیوں سے بھرنے کی شرط کے بغیر اجازت دی گئی ہے۔جبکہ بلڈنگ کے نیچے تک اتصالِ صفوف کو ضروری سمجھاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مسجدکے ہال میں کھڑے امام کی مسجدکی چھت پر کھڑے ہو کر اقتداء کرے یا کوئی شخص مسجد کے ساتھ متصل اپنے گھر کی چھت سے امام مسجد کی اقتداء کرےیاکوئی شخص کشتی کی چھت پر کھڑے ہو کر کشتی میں موجود امام کی اقتداء کرے تو ان تینوں صورتوں میں اس کی نماز درست ہے، بشرطیکہ وہ شخص امام سے آگے کھڑا نہ ہو اور امام کی رکوع وسجود میں منتقل ہونے کی حالت(اگرچہ اسپیکر کے ذریعہ ہی معلوم ہو) اس پر واضح ہو، اس سے معلوم ہوا کہ بعض مقتدیوں کا امام سے اوپر والی منزل میں کھڑے ہونا اقتداء سے مانع نہیں۔
البتہ مذکورہ صورت میں چونکہ یہ عمارت بڑی ہے (شرعا بڑی عمارت وہ شمار ہوتی ہےجس کی راجح قول کے مطابق کم سے کم مقدارطول اورعرض سے چاليس چالیس گز یعنی ساٹھ فٹ لمبائی اور ساٹھ فٹ چوڑائی ہو، جس کا مجموعی رقبہ چھتیس سو (3600) مربع فٹ بنتا ہے) اور بڑی عمارت کو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صحراء کے قائم مقام قرار دیا ہے اور صحراء میں اقتداء کے درست ہونے کے لیے صفوں کا اتصال ضروری ہے، اتصال کے لیے یہ ضروری نہیں کہ نمازیوں سے ہر صف مکمل بھری ہو، بلکہ اگر ہر صف میں راجح قول کے مطابق کم از کم تین لوگ کھڑے ہوں تو اس کو بھی شرعاً اتصالِ صفوف شمار کیا جائے گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں ہر منزل مکمل بھرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر ہر منزل میں تین چار طلباء بھی کھڑے ہوں اور درمیان میں کوئی منزل خالی نہ ہو تو ساتویں منزل سے زمینی منزل میں کھڑے امام کی اقتداء کرنا درست ہے، البتہ اگر کسی منزل میں کوئی طالب علم بھی امام کی اقتداء میں نماز نہ پڑھ رہا ہو تو اس صورت میں اس سے اوپر والی منازل میں کھڑے ہونے والے طلباء کی نماز امام کی اقتداء میں انقطاعِ صفوف کی وجہ سے درست نہ ہو گی۔ اس مسئلہ کی نظیر یہ ہے کہ اگر صحراء میں نماز کی جماعت قائم کی جائے اور بعض صفوں کے درمیان میں راستہ آجائے جو اتصالِ صفوف سے مانع ہو، جس کی مقدار فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ لکھی ہے کہ اس میں سے گاڑی گزر سکے تو ایسی صورت میں اگر راستے میں مذکورہ امام کی اقتداء میں تین لوگ کھڑے ہو جائیں تو فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق شرعاً یہ اتصالِ صفوف شمار ہو گا اور اس کے بعد کھڑے ہونے والے سب لوگوں کی نماز درست ہو گی۔
جہاں تک منسلکہ فتوی میں ذکر کی گئی شرط کا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ فقہائے کرام رحمہ اللہ نے امام کی اقتداء کے سلسلہ میں بڑے گھر(دار) کاحکم صحراء کی طرح لکھا ہے ، مگر آج کل کی کثیر المنازل عمارتوں اور دار کے درمیان اتصالِ صفوف کی نوعیت میں تھوڑا سا فرق ہو گا، کیونکہ عربی میں دار اس جگہ کو کہتے ہیں، جس میں رہائش کے لیے عمارت، جانوروں کو باندھنے،چارہ ڈالنے اور دیگر کاموں کے لیے وسیع جگہ ہوتی ہے، لیکن اس میں آج کل کی بڑی عمارتوں کی طرح اوپر نیچے منازل نہیں ہوتیں،لہذا اس میں اگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے گی تو زمین پر اتصالِ صفوف ضروری ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں بڑی بلڈنگ میں وسیع اور کشادہ زمین کی بجائے اوپر نیچے منازل ہیں،لہذا اس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں زمینی منزل سے اوپر کی منازل کی طرف صفوف قائم کی جائیں گی تو اوپر کی جانب اتصالِ صفوف کا ہونا ضروری ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ ہر منزل میں کم سے کم تین یا چار لوگ کھڑے ہوں تو اتصالِ صفوف درست ہو جائے گا، جیساکہ کشتی کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہے کہ کشی اور گھر کی چھت پر کھڑے ہوئے شخص کی نچلی منزل میں کھڑے امام کی اقتدا درست ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 584) دار الفكر-بيروت:
(ويمنع من الاقتداء) صف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفاعهن قدر قامة الرجل مفتاح السعادة أو (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ولو زورقا ولو في المسجد (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر إلا إذا اتصلت الصفوف فيصح مطلقا، كأن قام في الطريق ثلاثة، وكذا اثنان عند الثاني لا واحد اتفاقا لأنه لكراهة صلاته صار وجوده. كعدمه في حق من خلفه.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 110) دار الكتب العلمية،بيروت:
ومن وقف على سطح السفينة يقتدي بالإمام في السفينة صح اقتداؤه إلا أن يكون أمام الإمام؛ لأن السفينة كالبيت، واقتداء الواقف على السطح بمن هو في البيت صحيح إذا لم يكن أمام الإمام، ولا يخفى عليه حاله كذا ههنا.
الفتاوى التاتارخانية، كتاب الصلوة، بيان ما يمنع صحة الإقتداء (ج:2، ص:267):
ويجوز الاقتداء لجار المسجد بإمام المسجد ،وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام ،وإن كان طريقا عاما ولكن سدته الصفوف، جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد.
الدر المختار مع ردالمحتار: (كتاب الصلوة، باب الإمامة، 570/1):
"ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامه في صف خلف صف فيه فرجة،قال ابن عابدين تحت قوله (كقيامه في صف إلخ) هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية، ويرشد إلى الثاني قوله - صلى الله عليه وسلم - " ومن قطعه قطعه الله ".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 585) دار الفكر-بيروت:
في القهستاني: البيت كالصحراء. والأصح أنه كالمسجد ولهذا يجوز الاقتداء فيه بلا اتصال الصفوف كما في المنية اهـ ولم يذكر حكم الدار فليراجع، لكن ظاهر التقييد بالصحراء والمسجد الكبير جدا أن الدار كالبيت تأمل. ثم رأيت في حاشية المدني عن جواهر الفتاوى أن قاضي خان سئل عن ذلك، فقال: اختلفوا فيه، فقدره بعضهم بستين ذراعا، وبعضهم قال: إن كانت أربعين ذراعا فهي كبيرة وإلا فصغيرة، هذا هو المختار. اهـ. وحاصله أن الدار الكبيرة كالصحراء والصغيرة كالمسجد، وأن المختار في تقدير الكبيرة أربعون ذراعا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 586) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(والحائل لا يمنع) الاقتداء (إن لم يشتبه حال إمامه) بسماع أو رؤية ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الأصح (ولم يختلف المكان) حقيقة كمسجد وبيت في الأصح قنية، ولا حكما عند اتصال الصفوف؛ ولو اقتدى من سطح داره المتصلة بالمسجد لم يجز لاختلاف المكان درر وبحر وغيرهما وأقره المصنف لكن تعقبه في الشرنبلالية ونقل عن البرهان وغيره أن الصحيح
اعتبار الاشتباه فقط. قلت: وفي الأشباه وزواهر الجواهر ومفتاح السعادة أنه الأصح. وفي النهر عن الزاد أنه اختيار جماعة من المتأخرين.
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (2/ 1249) الناشر: دار الفكر - سوريَّة – دمشق:
………….. وأما تفصيل رأي الحنفية: فهو أن اختلاف المكان بين الإمام والمأموم مفسد للاقتداء، سواء اشتبه على المأموم حال إمامه أو لم يشتبه على الصحيح. فلو اقتدى راجل براكب، أو بالعكس، أو راكب براكب دابة أخرى، لم يصح الاقتداء لاختلاف المكان، فلو كانا على دابة واحدة صح الاقتداء لاتحاد المكان.............أما لو اقتدى رجل في داره بإمام المسجد، وكانت داره منفصلة عن المسجد بطريق ونحوه، فلا يصح الاقتداء لاختلاف المكان.والخلاصة: إن اختلاف المكان يمنع صحة الاقتداء، سواء اشتبه على المأموم حال إمامه أو لم يشتبه، واتحاد المكان في المسجد أو البيت مع وجود حائل فاصل يمنع الاقتداء إن اشتبه حال الإمام. أما وجود فاصل يسع صفين أو أكثر في الصحراء أو في المسجد الكبير جدا، فيمنع الاقتداء.
المبسوط للسرخسي (2/ 3) الناشر: دار المعرفة – بيروت:
(قال): ومن وقف على الأطلال يقتدي بالإمام في السفينة صح اقتداؤه إلا أن يكون أمام الإمام لأن السفينة كالبيت واقتداء الواقف على السطح بمن هو في البيت صحيح إذا لم يكن أمام الإمام.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
24/ربيع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


